امریکی سینیٹ میں پاکستان پر پابندیوں کا مطالبہ
- بدھ 29 / ستمبر / 2021
- 4690
امریکی سینیٹ میں طلبان کے ساتھ تعاون اور افغان جنگ میں پاکستان کے کردار کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے پابندیاں لگانے کے عنندیہ دیا گیا ہے۔
امریکی سینیٹ میں پیش کئے گئے ایک بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام جائزہ لیں کہ 2001 سے لے کر 2020 کے دوران پاکستان سمیت طالبان کو مدد فراہم کرنے والے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کا کردار کیا تھا اور اس میں طالبان کو محفوظ پناہ گاہوں، مالی اور انٹیلیجنس مدد، طبی ساز و سامان، تربیت اور تکنیکی یا سٹریٹجک رہنمائی کا معاملہ بھی شامل ہو۔
اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے کہ حکومتِ پاکستان سمیت ریاستی اور غیرریاستی عناصر کی جانب سے طالبان کو 2021 کی اس کارروائی میں کتنی مدد حاصل رہی جس کا نتیجہ افعانستان کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں نکلا اور پاکستان سمیت یہ عناصر 2021 میں ہی وادی پنجشیر میں مزاحمتی فورس کے خلاف طالبان کے آپریشن میں کیسے مددگار رہے۔
یہ مطالبات امریکی سینیٹ میں منگل کو پیش کیے گئے بل میں امریکی انتظامیہ سے ان معاملات کی تحقیقات کے بعد 180 دن میں پہلی رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ رپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے بائیس سینیٹرز نے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے افغانستان سے جلد بازی میں انخلا کے فیصلے اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے یہ بل پیش کیا ہے، جس میں افغان طالبان اور ان کی مدد کرنے والی حکومتوں، بالخصوص پاکستان پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
اس مسودے میں امریکی محکمۂ خارجہ سے افغانستان سے امریکی شہریوں، اور افغان سپیشل امیگرنٹ ویزا رکھنے والے افراد کو ملک سے نکالنے کے لیے ٹاسک فورس قائم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ بل میں طالبان کے پاس امریکی ساز و سامان اور اسلحے کو واپس حاصل کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔
بل میں سب سے اہم جزو ان عناصر پر پابندی کے مطالبے کا ہے جن پر طالبان کو مدد فراہم کرنے کا الزام ہے اور اس میں بیرونی حکومتیں بھی شامل ہیں اور پاکستان کا اس میں بالخصوص نام لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی سینیٹ میں اس وقت ڈیموکریٹک اور رپبلکن سینیٹرز کی تعداد برابر ہے۔ اور کسی بل کو پیش کرنے اور اس کو منظور کرانے کے لیے اکثریت نہ ہونے کی صورت میں نائب صدر کملا ہیرس کا حتمی ووٹ استعمال کیا جائے گا۔
اس بل کے حوالے سے دیے گئے اپنے بیان میں سینٹر جم رشک نے کہا کہ امریکہ کو طالبان سے دوبارہ خطرہ ہے۔
بل کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد پاکستان کی وفاقی وزیر شیرین مزاری نے متعدد ٹوئٹس میں تبصرہ کرتے ہوئے شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ 80 ہزار جانوں کی قربانی دینے کے باوجود پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے حالانکہ ’یہ کبھی بھی پاکستان کی جنگ نہیں تھی۔‘ شیریں مزاری نے کہا کہ پاکستان کو ’وار آن ٹیرر‘ میں امریکی اتحادی ہونے کی سزا مل رہی ہے حالانکہ امریکہ اور نیٹو نے 20 سال کا عرصہ گزرنے کا باوجود افغانستان میں کوئی مستحکم حکومت قائم نہیں کی۔