جرمنی میں انتخابات اور تشکیل حکومت

26 ستمبر کو جرمنی کے عام انتخابات میں سوشل ڈیموکریٹک یعنی ایس پی ڈی پارٹی صرف 25،7 فیصد ووٹ لےکر سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ مگر کسی بڑی پارٹی کااس قدر کم فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہونا ایک غیر معمولی بات ہے۔ اورجرمنی کی سیاسی افق پر ہلچل کا باعث بھی۔

صرف پچیس فیصد ووٹ کا مطلب یہ ہے کہ پچھتر فیصد عوام نے اس پارٹی کو نہیں چنا ہے اور یہی بات باعث تشویش بھی ہے۔ مگردوسری جانب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ چالیس فیصد کی اکثریتی جیت اور حکومت بنانے اور چانسلر کے مکمل بااختیار ہونے کے دور لد گئے۔ ایک بات جس پر ایس پی ڈی کچھ مطمئن نظرآرہی ہے اور جس وجہ سے پارٹی کے سربراہ اولاف شوز چانسلر بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ ماضی میں ایس پی ڈی بالکل ہی غیر معروف ہوتی جارہی تھی۔ اب اس کو سنبھالا ملا ہے۔

موجودہ انتخابات کے نتائج پر بات کر نے سے پہلے ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھتے ہیں کہ اس سے قبل یعنی سن 2017 کے انتخابی نتائج کیا تھے۔ پچھلی مرتبہ ایس پی ڈی پارٹی نے صرف 20،5 فیصد جبکہ اے ایف ڈی 12،6، ایف ڈی پی 10،7، گرین پارٹی 8،9 فیصد اور بائیں  بازو کی لنکس 9،2 فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں اس انتخابات کے بعد انجیلا میرکل کی کریسچن ڈیموکریٹک یعنی سی ڈی یو پارٹی اور ان کی چھوٹی ساتھی پارٹی کریسچن سوشل یعنی سی ایس یو پارٹی کے حکومت بنانا کچھ آسان کام نہیں تھا۔ مہینوں لگے اور بالآخر جرمنی کے صدر کی مداخلت کے بعد ہی وسیع مخلوط حکومت بنی۔ جو کہ ایس پی ڈی اور سی ڈی یو اور سی ایس یو پر مشتمل تھی۔

اس حکومت کی ایک اہم بات جس کو نظرانداز کیا جاتا ہے اور جس وجہ سے ہی انجیلا میرکل کے سہنری دور اور ان کی قدآور شخصیت کی بات کی جاتی ہے، وہ یہ تھی کہ ایس پی ڈی نہیں چاہتی تھی کہ وہ سی ڈی یو کے ساتھ مل کر حکومت بنائے اور یوں وہ یونین پارٹی کے سائے میں اپنی اہمیت کھو بیٹھے۔ اسی وجہ سے ان کی مخلوط حکومت کی تشکیل کی بات چیت مشکل ہو رہی تھی اور عین ممکن تھا کہ ازسرنو انتخابات کرائے جاتے مگر جرمنی کے صدر یو آخر گاہوک نے  مداخلت کرکے دونوں بڑی پارٹی کو حکومت بنانے کی درخواست کی جسے انہوں نے قبول بھی کرلیا۔ ایس پی ڈی نے ایک اہم ترین وزارت سنبھالی یعنی وزارت خزانہ۔ انجیل میرکل نے جو آخری حکومتی دور دنیا میں اپنی شہرت اور ساکھ بنانے میں پرسکون طریقے سے گزار دی تو اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ان کی پارٹی کو اخراجات کے معاملے میں مکمل بے فکری تھی۔  اولاف شوز بہ حیثیت نائب چانسلر اور وزیر خزانہ انجیلا میرکل کی حکومت کا بہت اہم ستون کے طور پر اسے سہارے دیے ہوئے تھے۔

مسٹراولاف شولز  کوویڈ کے مشکل دور میں خزانے کا منہ نہایت فراخدلی سے کھول کر یوں بھی عوام میں مقبولیت حاصل کر چکے تھے۔ اس کے بعد جرمنی کو شدید سیلاب کا سامنا تھا اور اولاف شولز نے ایک اور مرتبہ اپنی فراخدلی سے شہرت پانے والے سیاستداں کے طور پر سامنے آئے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ایسا لگ رہا تھا کہ گرین پارٹی ایس پی ڈی کو پیچھے چھوڑ کر اتنی اکثریت سے کامیاب ہو جائے گی کہ شاید وہی چانسلر کا عہدہ سنبھالے گی۔ مگر بعد کے نتائج نے گرین پارٹی کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہونے نہ دیا۔

سی ایس یو پارٹی سے بدل اور ناراض شہریوں نے احتجاجاً اے ایف ڈی پارٹی کو سابقہ مشرقی جرمنی میں خوب مقبولیت دلا تو دی مگر اے ایف ڈی پارٹی کی غیر ملکیوں سے کھلی مخالفت اور اسلام دشمن نعروں نے اس پارٹی کے گراف کو بہرحال نیچے ہی گرانے کا سبب بنا۔  یہ پارٹی 12،6 سے 10،3 فیصد پر پہنچ گئی۔ لیکن تشویش کا باعث پھر بھی یہ بات ہے کہ اس کے کئی ایک مشرقی جرمنی میں براہ راست کامیاب ہونے والے امیدوار اسمبلی میں اپنی اپنی سیٹوں پر براجمان ہوں گے۔

یورپ کے کئی ممالک جن میں آسٹریا اور فرانس سرفہرست ہیں، میں مسلمانوں کے خلاف عمومی تاثر ابھر رہا ہے اور مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی سے سیاسی جماعتیں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔ لیکن ان کی تعداد دس فیصد کے قریب قریب ہی رہی ہے۔ اعلی تعلیم یافتہ افراد اسے معاشرے کے لیے ایک خطرناک سوچ جان کر اس کی مخالفت ہی کرتے ہیں۔

حالیہ انتخابات کے بعد امید ہے کہ جلد ہی ایس پی ڈی،  گرین پارٹی اور ایف ڈی پی کی ایک پائیدار اور مخلوط حکومت وجود میں آجائے گی۔ جس کے سربراہ یعنی چانسلر اولاف شولز ہوں گے۔ گو کہ ایس پی ڈی اور یونین پارٹی کے اختلاط سے بھی حکومت بن سکتی ہے جب کہ ایسا ہوتا نہیں نظر آتا۔