ہم اپنی تطہیر کیوں نہیں کرتے؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 29 / ستمبر / 2021
- 9680
ساری دنیا کو بیوقوف اور خود کو سیانا سمجھنے والا حقیقت میں کیا ہوتا ہے اور اسے کس نام سے پکارا جانا چاہئے۔ اس کا فیصلہ ہم اپنے قارئین پر چھوڑتے ہیں البتہ داناؤں کا یہ کہنا ہے کہ پہلے تولو پھر بولو۔
مگر کیا کیا جائے ہماری ’’سپر مارکیٹ‘‘ میں بولنے کے بعد تولنے کا چلن ہے اور شاید مابعد بھی اس تکلف کی ضرورت چنداں محسوس نہیں کی جاتی۔ انسان میں اگر احساس ذمہ داری ہو تو فی البدیہہ بولنے کی صلاحیت کے باوجود کچھ حساس معاملات سے متعلق اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے نوٹس سامنے رکھ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر ایسے کسی احساس کا فقدان ہو، زبان و بیان پر کنٹرول سے عاری ہو، بنا سوچے سمجھے کہ وہ کتنے بڑے پلیٹ فارم سے مخاطب ہے جو مرضی ہانک دے تو تذلیل صرف اسی شخص کی نہیں ہو گی بلکہ ان سب کی ہو گی جن کی نمائندگی کا وہ دعویدار ہو گا۔
درویش کی ساری زندگی ریلیجس میتھالوجی کو پڑھتے سمجھتے گزری ہے لیکن اس نوع کا دعویٰ ہرگز نہیں کر سکتا اور یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ دین یا ادیان کو اس سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا۔ لیکن ایسے تعلی باز بھی دیکھے ہیں ساری زندگی جن کی لہو و لعب میں گزری ہے، کتاب یا لائبریری کا کہیں کسی موڑ پر گزر نہیں ہوا لیکن خود کو شیخ چلی سے بھی کہیں آگے بڑھ کر تیس مار خاں کہلاتے ہوئے بڑھکیں مار رہے ہوں گے کہ انا ولا غیری۔۔۔
تاریخ میں ہم پڑھتے ہیں کہ فلاں طاقتور نے خود پیچھے بیٹھ کر فلاں کو اپنی کٹھ پتلی بنایا بظاہر لوگ اس کو حکمران یا لیڈر خیال کرتے تھے لیکن پیچھے اس کی تاریں ہلانے والے جس طرف چاہتے تھے اسے چلاتے، جو دھندہ چاہتے کرواتے اور جب وقت بدل جاتا یا اس کی ضرورت نہ رہتی تو فارغ کرنے میں بھی دیر نہ لگاتے۔ لیکن کہتے ہیں تاریخ خود کو دہراتی ہے کردار بدل جاتے ہیں سٹیج قائم رہتا ہے۔ وطن عزیز میں لیڈر شپ کے حوالے سے قحط الرجال نہیں ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک اپنی قیمت لگوانے یا خود کو اپنی خدمات کے ساتھ پیش کرنے کے لئے تیار ہے۔
ایک زمانے میں سرخ سویرے والے کہتے تھے کہ دورِ سرمایہ داری گیا یا یہ کہ تماشا دکھا کر مداری گیا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایک مداری کے چلے جانے سے قوم کو کیا حاصل ہوتا ہے؟ کوئی دوسرا ویسا ہی مداری پھر لا کر بٹھا دیا جاتا ہے۔ یوں جنتا جس طرح پہلے روتی تھی اسی طرح تیسرے مداری کی شعبدہ بازیاں دیکھنے کے بعد بھی اپنے دکھوں پر آنسو بہاتی ہی پائی جاتی ہے۔ تبدیلی تو تب مانیں جب جنتا کے حالات بدلیں۔ ہمارے ایک لیڈر ہیں جو اتنے ہینڈ سم ہیں کہ بہت سے لوگ انہیں جناح صاحب کا دوسرا جنم یا روپ خیال کرتے ہیں۔ بلاشبہ ان کی شخصیت میں جناح صاحب کے اتنے زیادہ اوصاف پائے جاتے ہیں اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو وہ شاید جناح ثانی قرار پائیں۔ مگر اسے بدقسمتی کہیں یا محرومی اول الذکر ایک مانے ہوئے قانون دان تھے، انہوں نے اور نہیں تو کم از کم قانون کی کتابیں تو خوب پڑھی تھیں۔ ایک زمانے میں اتاترک پر لکھی گئی معرکۃ الآرا کتاب ’’گرے وولف‘‘ انہوں نے اتنی باریک بینی سے سٹڈی کی کہ ان کی بیٹی نے خود انہیں ’’گرے وولف‘‘ کہنا شروع کر دیا مگر ہمارے جناح ثانی کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کی پوری زندگی میں کتاب نامی خرافات یا بلا کے عمل دخل کا کہیں کوئی سراغ نہیں ملا۔
گو نامِ نامی اسم گرامی مغرب کی ایک بڑی یونیورسٹی کے حوالے سے آتا ہے مگر تھرڈ ڈویژن کے ساتھ اس نوع کی معلومات بھی ملتی ہیں کہ کئی تعلیمی اداروں میں داخلے یا ڈگریاں گیم بیس پر بھی جاری ہوتی ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ حال ہی میں تازہ ارشاد قابل ہوا ہے یہ کہ امریکی ناشکرے ہیں اور پوری دنیا دوہرے معیار کا شکار ہے ۔ اب اگر کوئی بولنے سے پہلے تولنے والا آئے اور پوچھے کہ مہاراج سفارتکاری کی عالمی زبان میں ایسے انداز گفتگو کو کیا خیال کیا جاتا ہے ؟ کیا حضور واقعی یو این کی جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب فرما رہے تھے ؟ اچھا ہی ہوا ہے آپ وہاں بنفس نفیس تشریف نہیں لے گئے ہیں ورنہ آپ کے ساتھ جو ہوتی سو ہوتی قیمت تو اس مظلوم قوم نے ہی بھرنی تھی۔ بے عزتی تو اس ملک کی گنی جانی تھی جس کا سربراہ حکومت مبارکباد دینے کیلئے امریکی صدر کو فون کرتا ہے، آگے سے بتایا جاتا ہے کہ صدر صاحب مصروف ہیں اس لئے آپ کی کال اٹینڈ نہیں کر سکتے۔ امریکی صدر کیا، ہماری ہمسائیگی میں ہمارے جڑواں بھائی بھارت کے وزیر اعظم مودی بھی ہماری اس لب ولہجے میں عزت افزائی کرتے ہیں اور پوری ڈھٹائی سے کرتے ہیں۔ جس کا ہمیں بہت دکھ اور صدمہ ہوتا ہے۔ نریندر مودی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ انہیں ایسی بے مروتی و بے لحاظی نہیں دکھانی چاہئے تھی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر دنیا کا کوئی لیڈر ہماری کال نہیں سنتا یا ہم سے بات نہیں کرنا چاہتا تو عالمی سفارت کاری میں اس پر لعن طعن نہیں کی جاسکتی۔ یہ اس کا حق ہے کہ وہ کس سے بات کرے یا کس کی کال نہ سنے۔ مگر عالمی پلیٹ فارم سے اس کا غصہ پوری عالمی برادری پر نکالنا اور یہ کہنا کہ ہمارے معاملے میں پوری دنیا دوہرے معیار کا شکار ہے قابل توصیف و ستائش قرار نہیں پائے گا ۔
ہم آج کی جس دنیا میں بس رہے ہیں اس کے کچھ نامز قواعد و ضوابط یا ترجیحات کا کچھ تو ہمیں بھی ادراک ہونا چاہئے۔ آخر دنیا ہم سے کیوں کھچی ہوئی ہے ؟ پوری دنیا سے ہم آگ بگولا ہو رہے ہیں کہ انڈیا کے خلاف بولو اس کے خلاف کچھ کرو۔ کشمیری مسئلے میں وہ انسانی حقوق کی بڑی بڑی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہے۔ اس نے اپنے فلاں شہری کی فلاں جگہ پر تدفین کیوں نہیں ہونے دی ۔ وہ وہاں میڈیا کو کنٹرول کیوں کر رہا ہے، وہاں اس نے آرمی کیوں بٹھا رکھی ہے جو اپنے عوام کو جلوس نہیں نکالنے دیتی۔ مگر دنیا ہماری باتوں کا کوئی اثر ہی نہیں لیتی۔ جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں انڈین وزیر اعظم نے جس طرح شرکت کی ہے اور اس کی جو آؤ بھگت ہوئی ہے، امریکی صدر نے نریندر مودی کا جس طرح استقبال کیا ہے اور جتنا ٹائم دیا ہے، یہ سب ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
اسی طرح امریکی سینٹ میں ہمارے حوالے سے جس طرح کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں یہ بھی ہمارے لئے نیک شگون یا بھلائی کا پیش خیمہ نہیں ہیں ۔ کیا ہماری عسکری و سیاسی قیادت کا فرض نہیں ہے کہ اس نوع کی عالمی صورتحال میں مل بیٹھ کر غوروخوض کیا جائے کہ پاکستان کو اس ابنارمل رویے یا دلدل سے کیسے نکالا جائے۔ ہم اقوام متحدہ میں بار بار اسلامو فوبیا کو ایشو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ پچھلے برس بھی ہماری پوری تقریر میں اس ایشو پرتھی جسے ہمارے علاوہ غیر توغیر خود مسلم ورلڈ بھی کوئی ایشو ہی نہیں مانتی۔ اگر ہمارے کچھ بھائی مغرب یا دنیا کے کسی بھی خطے میں اپنے مذہب کی عظمت منوانے کیلئے شدت پسندی کے مرتکب ہوتے ہیں تو لازمی بات ہے اس پر اقوام دیگر کا ردعمل آئے گا۔ اس پر فوبیا فوبیا کی گردان ہانکنے کی کوئی تک نہیں بنتی ۔
ہم آج کی جس دنیا میں بس رہے ہیں اس کا مزاج اول و آخر سیکولر ہے۔ یہاں ہر ایشو میں مذہب کو رگیدنا یا مذہب کی عینک سے دیکھنا ایک ابنارمل رویہ ہے۔ ماقبل اس حوالے سے کوئی کسر رہ گئی تھی تو وہ الحمدللہ طالبان کی فتح اور اقتدار سے پوری ہو جائے گی ۔ ایسے میں ہم خود کیوں بڑھ چڑھ کر پوری دنیا کے سامنے طالبان کی وکیل بنے کھڑے ہیں ؟ کیوں موقع بے موقع یہ مطالبہ پوری دنیا سے دہراتے ہیں کہ طالبان کی حکومت کو مستحکم کرو۔ اس طرح آگے چل کر انہوں نے جو کچھ کرنا ہے وہ سب ہماے کھاتے میں پڑے گا، ہمیں اس کا احساس کیوں نہیں ہے ؟
اتنے بڑے عالمی فورم پر بات کرتے ہوئے ہم امریکی صدر ریگن کو نکارا گوا کی بجائے افغانستان سے جوڑتے ہوئے کیوں غلط حوالہ دیتے ہیں ؟ طالبان کی تحریک اول وآخر خالص مذہبی و اسلامی ہے۔ ہم کیوں اسے افغان قوم پرستی سے جوڑنے کی ناکام کوششیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہمارا لیڈر فاٹا کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہنے پر کیوں مجبور ہے کہ ’’ان کی افغان طالبان کےساتھ بہت زیادہ ہمدردی اس لئے نہیں تھی کہ ان کا مذہبی نظریہ ایک ہے بلکہ پشتون قومیت کی وجہ سے ہے جو کہ بہت مضوبط ہے ‘‘۔ ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی کے حوالے سے جب ہم دوسروں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں تو دنیا ہم سے یہ سوال نہیں کرے گی کہ خود آپ کے چہرے پر اس حوالے سے جو داغ ہیں انہیں دھونے کا کیا اہتمام کر رہے ہیں ؟
کنٹینر سے یو این تک کرپشن کرپشن کا جو شور مچا رکھا تھا، اپنی اس تقریر میں بھی اس کی گردان نہیں بھولے۔ اس کا بھانڈا تو انگلینڈ کی عدالتوں نے پھوڑ دیا ہے، اب دنیا ہمارے عدالتی نظام پر سوالات کیوں نہیں اٹھائے گی۔ لہٰذا بہتر ہے ہم دوسروں پر گند پھینکنے کی بجائے اپنی تطہیر کریں ۔