سی پیک منصوبے کورونا وائرس کے باعث متاثر ہوئے: وزیراعظم
- جمعرات 30 / ستمبر / 2021
- 5200
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں کو مشکلات کا سامنا رہا لیکن اب اسی رفتار سے منصوبوں کی تکمیل پر کام جاری ہے۔
اسلام آباد میں 600 کلو واٹ کی مٹیاری تا لاہور ٹرانسمیشن لائن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وہ تمام افراد مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے 2018 سے شروع ہونے والے منصوبے کو تیزی سے مکمل کیا۔ یہ ٹرانسمیشن لائن جدید خطوط پر استوار کی گئی ہے اور اس میں لائن لاسز محض 4 فیصد ہیں، اب تک لائن لاسز 17 فیصد تھے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایک فیصد لائن لاسز کی صورت میں کئی ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کورونا کی وجہ سے سی پیک کے منصوبے متاثر ہوئے تھے لیکن اب وہ تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سابق ادوار میں ٹرانسمیشن لائن پر سرمایہ کاری نہیں کی گئی اور یوں لائن لاسز میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ اب صنعتی ترقی کی جانب ساری توجہ مرکوز ہے کیونکہ صنعتی ترقی کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا اور ملکی قرضہ نہیں اتر سکتا۔
نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھا کر صنعتی ترقی میں حائل رکاوٹیں دور کریں گے اور اس طرح ملکی خزانے میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کہا کہ کورونا کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہوئی اور یوں پوری دنیا میں اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ یہ مہنگائی عارضی ہے اور جیسے ہی ویکسینیشن کا عمل مکمل ہوگا تو معمولات زندگی بحال ہوجائیں گے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سی پیک منصوبوں کی رفتار اب مزید تیز ہوگی، کورونا وائرس کی وبا سے جو مسائل درپیش تھے جو ہمارے لیے امتحان تھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر ملک میں ویکسینیشن کا عمل مکمل ہوجائے تو کورونا کی اگلی لہر کے اثرات کم ہوں گے۔
اس موقع پر پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسمیشن لائن گرڈ سسٹم کی حفاظت کرے گی، پورے ملک میں توانائی کی تقسیم کو بہتر بنائے گی اور بجلی کی لاگت کو کم کرے گی۔ چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔