دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں پیٹرول اب بھی سستا ہے: وفاقی وزیر خزانہ

  • جمعہ 01 / اکتوبر / 2021
  • 3810

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ خطے اور دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں اب بھی کم ہیں۔

اسلام آباد میں وزیر مملکت فرخ حبیب کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف 16 ممالک ایسے ہیں جہاں پیٹرول کی قیمت ہم سے کم ہے اور وہ ممالک خود تیل پیدا کرتے ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک مثلاً بھارت و  بنگلہ دیش کے مقابلے میں بھی پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہیں۔ ہماری قیمتیں خطے اور دنیا کے مقابلے کم ہیں۔

خیال رہے کہ حکومت نے گزشتہ روز پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا تھا جس کے بعد ملک میں یکم اکتوبر سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 127 روپے 30 پیسے تک پہنچ گئی تھی۔ وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ اگر حکومت قیمتیں کم کرنا چاہے تو ریونیو ضروریات پوری کرنے کے لیے اسے اپنی جیب سے پیسے دینے پڑیں گے اور پیٹرول لیوی جو 2018 میں 30 روپے فی لیٹر تھی وہ کم ہو کر 2 سے ڈھائی روپے تک آگئی ہے۔

حکومت نے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں 600 ارب روپے اکٹھے کرنے کا ہدف رکھا ہے اس کے باوجود ہم لیوی نہیں رکھ رہے، وزیراعظم نے اس کی پرواہ نہیں کی اور کہا کہ عوام پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت ترقی کرنا شروع ہوگئی ہے جس کے اثرات ریونیو پر آرہے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اس وقت 3 ماہ کے عرصے میں اپنے ہدف سے 185-190 ارب روپے زیادہ اکٹھا کیے ہیں۔ پہلے کبھی بھی نہیں ہوا تھا کہ ایف بی آر اپنے ہدف سے آگے ہو لیکن اس وقت گزشتہ سال کے مقابلے میں ہم 38 سے 40 فیصد آگے ہیں، اگر ریونیو آرہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ معیشت ترقی کررہی ہے۔

معیشت کی نمو کا فائدہ نچلے طبقے تک پہنچے گا لیکن اس میں وقت لگے گا اس لیے وزیراعظم کی ہدایت پر ہم کامیاب پاکستان کا پروگرام شروع کرنے والے ہیں جس میں تھوڑی تاخیر ہوگئی۔ شوکت ترین نے کہا کہ عام طور پر کہا جارہا ہے کہ قیمتیں بڑھ گئی ہیں، مہنگائی ہوگئی ہے۔ حالانکہ کورونا وائرس بحران کی وجہ سے دنیا بھر میں قیمتوں پر اثر پڑا ہے، امریکا میں جہاں ایک سے ڈیڑھ فیصد مہنگائی ہوتی تھی اب ساڑھے 8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔