تحریک طالبان پاکستان سے مفاہمت کی کوششیں ہورہی ہیں: عمران خان
- جمعہ 01 / اکتوبر / 2021
- 3200
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مفاہمتی عمل کے تحت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کچھ گروپوں سے ہتھیار ڈالنے کے لیے بات چیت ہورہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے ترک میڈیا 'ٹی آر ٹی ورلڈ' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ 'ٹی ٹی پی کے چند گروپس ہم سے مصالحت کے لیے بات کرنا چاہتے ہیں اور ہم ان گروپس کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں'۔ ٹی ٹی پی مختلف گروپس پر مشتمل ہے اور ہم ان میں سے چند کے ساتھ ہتھیار ڈالنے اور مصالحت کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔
افغان طالبان کے اس معاملے میں مدد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بات چیت افغانستان میں جاری ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ وہ مدد کر رہے ہیں۔ ہم ان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد انہیں معاف کردیں گے جس کے بعد وہ عام شہریوں کی طرح رہ سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں فوجی حل میں یقین نہیں رکھتا، سیاست دان ہونے کے طور پر سیاسی مذاکرات کو ہی آگے کا راستہ سمجھتا ہوں جیسا میں نے افغانستان کے بارے میں بھی کہا تھا۔ مذاکرات کے باوجود سیکیورٹی فورسز پر ٹی ٹی پی کے حملوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم بات چیت کر رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ کوئی نتیجہ نہ نکل سکے، مگر ہم بات کر رہے ہیں۔
بعد ازاں معاون خصوصی شہباز گل نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ وزیراعظم پر نشر کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آغاز میں صدر مملکت عارف علوی نے ڈان نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو کالعدم تحریک طالبان کے اراکین جرائم میں ملوث نہیں اور ٹی ٹی پی کے نظریات کو چھوڑ کر پاکستان کے آئین کے ساتھ چلنا چاہے تو حکومت عام معافی کا سوچ سکتی ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی کہا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان کے اراکین کو معاف کرنے کے لیے حکومت اس وقت تیار ہوگی، اگر وہ وعدہ کریں کہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے اور آئین پاکستان کو تسلیم کریں۔
خیال رہے کہ ٹی ٹی پی مختلف عسکریت پسند تنظیموں کا گروپ ہے جو 2007 میں تشکیل دیا گیا اور وفاقی حکومت کی جانب سے اگست 2008 میں اسے کالعدم تنظیم قرار دیا تھا۔ بیت اللہ محسود ٹی ٹی پی کا پہلا سربراہ تھا جو 2009 میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کچھ گروہوں سے مذاکرات اور عام معافی کے بیان پر سیاست دانوں اور صحافیوں نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ وزیراعظم نے دوبارہ تحریک طالبان پاکستان کو معافی دینے کی بات کی ہے۔ کیا انہوں نے پارلیمنٹ سے پوچھا کہ ہم اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا انہوں نے اس پر ٹی ٹی پی کا ردعمل لیا ہے؟
علاوہ ازیں سینئر صحافی سلیم صافی نے بھی اس بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میں عرض کرتا رہا ہوں کہ ایسے حکمران کے ہوتے ہوئے پاکستان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔ کاش وزیراعظم بنوانے سے پہلے ان کو سفارتی امور پر بات کرنے کی تربیت بھی دے دی جاتی یا کاش شاہ محمود میں اتنی ہمت ہوتی کہ ان کے سامنے کہہ سکتے کہ اس طرح کے معاملات پر اس انداز میں بولنے کا نقصان ہوتا ہے۔
صحافی و اینکر غریدہ فاروقی نے کہا کہ وزیر اعظم نے تصدیق کی ہے کہ حکومت، افغان طالبان کی مدد سے کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کررہی ہے لیکن ایک کالعدم تنظیم کے لیے ہم اتنا کیوں جھک رہے ہیں۔ اس کالعدم تنظیم نے ہماری عام معافی کو مسترد کردیا جو ہمارے منہ پر طمانچہ ہے۔ آخر کیوں اور کس لیے ہم مزید 80 ہزار افراد شہید کرانا چاہتے ہیں۔
ادھر پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے ٹی ٹی پی سے مذاکرات سے متعلق بیان پر فوری طور پر پارلیمان کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔