یونیورسٹیز کے تعلیمی معیار میں بہتری کیسے
- تحریر مظہر چوہدری
- جمعہ 01 / اکتوبر / 2021
- 8420
ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے قیام(2002) کے ابتدائی چھ سالوں میں اعلی تعلیم کے میدان میں قابل ذکر تبدیلیاں رونما ہوئیں جن کی بدولت پاکستانی یونیورسٹیوں کا نقشہ ہی تبدیل ہو گیا۔
قیام پاکستان سے لے کر2002تک کے عرصے میں ملک کی ایک بھی یونیورسٹی دنیا کی بہترین 500یونیورسٹیوں کی درجہ بندی میں جگہ نہیں بنا سکی تھی لیکن ہائیر ایجوکیشن کمیشن بننے کے ابتدائی چھ سالوں کے عرصے میں پاکستان کی کم ازکم پانچ جامعات دنیا کی چوٹی کی300سے 500 جامعات میں شامل ہو گئیں تھیں۔اقوام متحدہ کے کمیشن برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ترقی کے سربراہ نے پاکستان میں 2003سے2008 کے درمیان ہونے والی تعلیمی وتحقیقی ترقی کو اعلی تعلیم کا سنہری دور قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ ’میں نے کسی بھی دوسرے ملک میں اعلی تعلیم کے شعبے میں ایسی حیرت انگیز مثبت پیش رفت نہیں دیکھی جو گزشتہ 6سالوں میں پاکستان میں ہوئی ہے‘۔ واضح رہے کہ ان چھ برسوں میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی سربراہی ڈاکٹر عطاالرحمان کے پاس تھی۔ ڈاکٹر عطا الرحمان نے بانی چیئرمین کی حیثیت سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو بین الااقوامی معیار کا ادارہ بنا دیا تھالیکن ان کے بعد آنے والے چیئرمین تبدیل شدہ سیاسی و انتظامی حالات اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے اس ادارے کی کامیابیوں کا تسلسل برقرار نہ رکھ پائے۔
یہ ساری تمہید باندھنے کا مقصد یہ واضح کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کہ اگر کسی ادارے کو بہترین سربراہ مل جائے تو برے سے برے حالات میں بھی بہتری کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ چند روز قبل لاہور میں ہونے والی ایک مکالماتی نشست میں ایک ایساباصلاحیت اور ویژنری سربراہ نظر آیا جو نہ صرف مختصر عرصے میں اپنی نگرانی میں چلنے والی پبلک یونیورسٹی(خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی) میں کوالٹی ایجوکیشن سمیت کئی شعبوں میں قابل ذکر بہتریاں لانے میں کامیاب رہے ہیں بل کہ ان کے پاس ہائر ایجوکیشن کمیشن میں بہتری لانے کا مکمل روڑ میپ بھی ہے۔ پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کی جانب سے اہتمام کی گئی اس مکالماتی نشست میں خواجہ فرید یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر کی جانب سے دی گئی اعدادوشمار اور حقائق پر مبنی بریفنگ سے اندازہ ہوا کہ جنوبی پنجاب کے دور افتادہ شہر رحیم یار خان میں واقع ایک یونیورسٹی کوالٹی ایجوکیشن سمیت کئی شعبوں میں نامی گرامی یونیورسٹیوں کو پیچھے چھوڑ تے ہوئے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔
یہ جان کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ خواجہ فرید یونیورسٹی نے رواں سال ہائر ایجوکیشن کمیشن میں 106 قومی ریسرچ پروگرامز فار یونیورسٹیز پروجیکٹس جمع کروائے جوکسی بھی یونیورسٹی کی جانب سے جمع کرائے گئے سب سے زیادہ پراجیکٹس ہیں۔ بریفنگ کے دوران ایک اور حیرت انگیز انکشاف یہ سامنے آیا کہ محض دو سال قبل 400 ملین روپے کے خسارے میں چلنے والی خواجہ فرید یونیورسٹی نے رواں برس سرپلس بجٹ پیش کیا ہے۔ہمارے نزدیک یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور خسارے میں جانے والی یونیورسٹیاں ڈاکٹر سلیمان طاہر کے فنانشل ماڈل کو اپنا کر اپنے مالی معاملات بہتر کر سکتی ہیں۔
جہاں تک ملکی اور بین الاقوامی رینکنگ کی بات ہے توگزشتہ دو سالوں کے دوران کوالٹی ایجوکیشن سمیت چند ایک دیگر شعبوں میں خواجہ فرید یونیورسٹی کی رینکنگ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی گزشتہ سال کی رینکنگ میں کوالٹی ایجوکیشنکیٹیگری میں خواجہ فرید یونیورسٹی دنیا بھر میں کی یونیورسٹیوں میں 300سے 400کے درمیان آئی، اسی کیٹیگری میں پاکستان میں نویں، پنجاب میں پانچویں جب کہ جنوبی پنجاب میں پہلے نمبر پر آئی۔ رینکنگ کی بات چل ہی نکلی ہے تو یہ بھی بتاتے چلیں کہ ٹائمز ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2022میں 93ممالک کی1662 یونیورسٹیوں کی رینکنگ کی گئی ہے جن میں پاکستان کی21یونیورسٹیاں شامل ہیں لیکن ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی اس رینکنگ میں 1662یونیورسٹیوں کے علاوہ450سے زائد ایسی یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں جنہیں ’رپورٹر‘ سٹیٹس کے تحت رکھا گیا ہے۔ رپورٹر سٹیٹس کے تحت شامل کی گئی ان یونیورسٹیوں میں پاکستان کی مزید21یونیورسٹیاں موجود ہیں جن میں خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔
ورلڈ رینکنگ 2022 میں شامل پاکستانی یونیورسٹیوں میں پہلے دس نمبروں پر بالترتیب قائد اعظم یونیورسٹی، ہزارہ یونیورسٹی، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، یونیورسٹی آف مالاکنڈ، یونیورسٹی آف پشاور، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز موجو د ہیں۔ورلڈ رینکنگ میں شامل اگلی دس پاکستانی یونیورسٹیز میں نسٹ یونیورسٹی،اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، یونیورسٹی آف لاہور پنجاب یونیورسٹی، سرگودھا یونیورسٹی، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی، یو ای ٹی لاہور، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور،کراچی یونیورسٹی اورپیر مہر علی شاہ یونیورسٹی راولپنڈی شامل ہیں۔پچھلے سال کی رینکنگ میں نسٹ یونیورسٹی پہلے نمبر پر تھی لیکن رواں برس وہ ٹاپ ٹین میں بھی شامل نہیں۔ اس کے برعکس گزشتہ سال کی رینکنگ میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور 32ویں پوزیشن پر تھی لیکن حیران کن بہتری کے ساتھ رواں برس کی رینکنگ میں وہ 18ویں نمبر پر براجمان ہے۔
عالمی سطح پر موازنہ کیا جائے تو پاکستانی یونیورسٹیوں کی اوور آل رینکنگ بھارت سمیت دیگر ممالک کے مقابلے میں اچھی نہیں۔پاکستان کی سطح پر پہلے نمبر پر آنے والی قائد اعظم یونیورسٹی کی عالمی رینکنگ500 سے 600کے درمیان کہیں آتی ہے جب کہ بھارت کی تین یونیورسٹیوں کی عالمی رینکنگ400کے اندر اندر ہے، یعنی دنیا کی بہترین چار سو یونیورسٹیوں میں بھارت کی تین جب کہ ہماری ایک بھی یونیورسٹی شامل نہیں۔ہمارے مقابلے میں ایران کی یونیوسٹیوں کی تعداد اور عالمی رینکنگ بھی کافی بہتر ہے۔ واضح رہے کہ عالمی رینکنگ میں پاکستان کی21یونیورسٹیوں کے مقابلے میں بھارت کی71اور ایران کی 59یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ دیگر اہم ممالک کی بات کریں تو امریکہ 183یونیورسٹیوں کے ساتھ دنیا بھر میں پہلے نمبر پرہے۔ امریکہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ پہلی دو سو بہترین یونیورسٹیوں میں 57امریکی یونیورسٹیاں شامل ہیں۔رینکنگ میں چین کی مجموعی یونیورسٹیوں کی تعداد147ہے جب کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پہلی 20 یونیورسٹیوں میں دو چینی یونیورسٹیاں موجود ہیں۔
عالمی سطح پر تیسرا نمبر برطانیہ کا ہے جس کی کل132یونیورسٹیاں رینکنگ میں شامل ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان اور ملکی یونیورسٹیوں کی مجموعی کارکردگی حوصلہ افزا نہیں لیکن کئی ایک پاکستانی یونیورسٹیوں میں باصلاحیت اور ویژنری وائس چانسلرز کی کمی نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہائر ایجوکیشن مختلف شعبوں اور کیٹیگریز میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز صاحبان کو مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے اپنے اپنے ماڈلز اور تجربات شئیر کرنے کے مواقع فراہم کرے۔ عالمی رینکنگ میں بہتری کے لیے دوسری اہم چیز عالمی معیار کی تحقیق کو فروغ دینا ہے اور اس کے لیے یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران اور طلبا کا عالمی تعلیمی و تحقیقی اداروں کے ساتھ روابط اور تبادلہ خیال کے مواقع بڑھانا ناگزیر ہے۔