اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسلامو فوبیا کا نعرہ

پچھلے کالم ’ہم اپنی تطہیر کیوں نہین کرتے‘ پر احباب نے کچھ سوالات اٹھائے ہین۔ ایک یہ کہ مغرب میں اسلاموفوبیا کیا حقیقت نہیں ہے؟ وہاں کوئی مسیحی، یہودی یا ہندو اسی نوع کی شدت پسندی دکھاتا ہے یا دہشت گردی کرتا ہے تو مغرب اسے اس کے مذہب سے نتھی نہیں کرتا۔

 جبکہ کوئی مسلمان خواہ کتنی ہی ذاتی حیثیت میں کسی ایسی حرکت کا مرتکب ہو تو اسے فوری طور پر اس کے مذہب سے منسلک کرتے ہوئے اسلامک ٹیررازم یا اسلامک ایکسٹریم ازم کا پروپیگنڈہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے ہمیں یہ حقیقت ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ عصر حاضر کا مغرب اس نوع کی مذہبیت یا مذہبی تعصبات اور منافرتوں سے نکل چکا ہے جس میں ہم لوگ ہنوز بری طرح پھنسے یا دھنسے ہوئے ہیں، آپ وہاں کے کٹر کیتھولک یا پروٹسنٹ سے بات کر لیجئے وہ بھی اس امر کی گواہی دے گا کہ ان کی اپنی سوسائٹیاں اگر مذہب بیزار نہیں تو بھی مذہب آزاد ضرور ہو چکی ہیں۔ آکسفورڈ کے مسیحی مشنری ٹم گرین نے درویش کے سامنے اعتراف کیا کہ عقیدے کی پختگی یا اس پر عملداری کے لحاظ سے یہاں دس فیصد بھی مسیحی نہیں ہیں، باقی تو صرف نام کے مسیحی ہیں۔ شاید مذہب بیزاری وقت کے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

اس کے باوجود ہمارا گمان ہے کہ مغربی سوسائٹی میں مذہب کا احترام ضرور ہے اس سے آگے کچھ نہیں اگرچہ بہت سے مسیحی مشنری ادارے اس حوالے سے کوشاں ہیں مگر وہ آٹے میں نمک کے برابر ہی کہے جا سکتے ہیں۔ اس احترام کے بھی وہ تقاضے نہیں ہیں جو ہمارے یہاں ہیں نہ بلاسفیمی کا کوئی ایسا چکر ہے۔ ایک اور حقیقت بھی قابل غور ہے اس وقت بلاشبہ دنیا کا سب سے بڑا مذہب مسیحیت ہے۔ یورپ، امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا سمیت افریقہ و ایشیا کے بہت سے ممالک میں بسنے والے کروڑوں اربوں عوام خود کو مسیحیت کے پیروکار اور سیدنا مسیحؑ کے عقیدتمند بیان کرتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ اتنی بھاری تعداد کے باوجود ان کے اندر کبھی یہ طوفان نہیں اٹھا کہ ہم پوری دنیا میں مسیحیت کو غالب کریں گے یا بائبل کے قوانین کو اپنے اپنے خطوں میں لاگو کریں گے۔ ان کے کروڑوں لوگ خود کو اتھیسٹ یا ہیومنسٹ کہتے ہوئے مذہب یا مسیحیت سے فارغ یا آزاد کر لیتے ہیں۔ ہزاروں مسیحیت کو ترک کرتے ہوئے دوسرے مذاہب کو اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ یورپی سوسائٹی میں رہتے ہوئے کئی مسیحیوں نے اپنا مذہب چھوڑ کر مذہب اسلام اختیار کر لیا۔ مگر قابل غور سوال یہ ہے کہ ایسی حرکت پر وہاں ان کے اپنے بھائی بند اپنے راسخ العقیدہ مسیحی انہیں مارنے کے لئے دوڑے ہوں یا وہاں اس حوالے سے کوئی اضطراب یا بے چینی پھیلی ہو یا وہاں کی حاوی میجارٹی کے کچھ گروہ پروپیگنڈہ کرتے ہوئے نومسلموں یا ان کے اختیار کردہ نئے مذہب کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہوں؟

اس سے بھی آگے بڑھ کر جائزہ لیجیے کیا کسی نے ان کی سوسائٹی میں اس نوع کے نعرے سنے ہیں کہ دنیا بھر کے مسیحیو ایک ہو جاؤ فلاں مذہب والے تمہارے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، انہیں سبق سکھا دو وغیرہ۔ ذرا صبر اور حوصلے کے ساتھ اس اپروچ کا تقابل اپنی مسلم سوسائٹیوں سے کیجئے کیا یہاں مسیحی لوگ اپنا لٹریچر اس آزادی کے ساتھ ہمارے مسلم عوام میں پھیلا سکتے ہیں جس آزادی اور دھڑلے کے ساتھ ہم اپنا مذہبی لٹریچر مغربی سوسائٹیوں میں پھیلاتے ہیں؟ ایسی تقاریر کر سکتے ہیں ؟ جس تیزی کے ساتھ وہاں ہماری مساجد اگی ہیں یا اگ رہی ہیں کیا یہ ممکن ہے کہ اس طرح کی موجیں دیگر مذاہب والوں کو یہاں ہماری مسلم سوسائٹی میں میسر ہوں؟ یہاں تو اسلام آباد میں ایک مندر کی تعمیر نے وہ فتنہ کھڑا کر دیا تھا کہ نہ جانے کون سی قیامت برپا ہونے والی ہے۔ حالانکہ ہمارے مصور پاکستان نے برسوں قبل ہمیں ایک نظم لکھ کر تھمائی تھی۔ ’ ایک نیا شوالہ اس دیس میں بنا دیں‘ ہم نے اس کا بھی پاس و لحاظ نہ کیا۔

کیا ہم یہ سوچ بھی سکتے ہیں کہ یہاں کا کوئی محمد یوسف، یوسف یوحنا بن جائے اورپھر وہ یہاں زندہ سلامت رہ بھی سکے یا چل پھر سکے؟ آج درویش جیسے نام نہاد ماڈریٹ مسلمان اپنے خود ساختہ تصورات کے زیر اثر جو مرضی ہانکتے پھریں مگر 14 صدیوں سے مسلم ا مہ مرتد کی سزا کے حوالے سے قطعی واضح رہی ہے۔ اس سلسلے میں اگر کچھ ریفرنسز تحریر کر بھی دیے جائیں تو وہ بھی شاید بڑی جسارت سمجھی جائے گی۔ افغانستان میں اس نوع کا ایک واقعہ ہوا تھا تو ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوگیا تھا اور بات کہاں سے کہاں تک پہنچی۔ زیادہ دور جانے کی کیا ضرورت ہے اسی سرزمین پاک و ہند میں آج جو کروڑوں مسلمان آباد ہیں، کیا ان سب کے آباؤاجداد عربستان سے یہاں تشریف لائے تھے؟ ہم توبڑے فخر سے یہ بیان کرتے نہیں تھکتے کہ ہمارے عظیم الشان صوفیا کے ہاتھوں کتنے ہندوؤں نے اسلام قبول فر مایا، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ اور حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی خدمات ان حوالوں سے واضح ہیں۔ اورنگ زیب عالمگیر کی خدمات بھی کم نہیں ہیں۔ درویش کا معصومانہ سوال محض اس قدر ہے کہ جب یہ لاکھوں کروڑوں ہندو اپنا مذہب چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کر رہے تھے کیا دیگر راسخ العقیدہ ہندوؤں نے انہیں اس بنا پر قتل کیا یا آج کر رہے ہیں؟

ہندو کے سینے میں صدیوں سے جو وسعت ، فراخی اور برداشت رہی ہے، ذرا ایمان داری کے ساتھ اس کا تقابل ہم اپنے سماج کے ساتھ کر کے دیکھیں۔ ہندوؤں کا ذکر اس حوالے سے بھی ضروری تھا کہ اس مرتبہ ہماری وزارت عظمیٰ کی کرسی پرمتمکن شخص نے یو این جنرل اسمبلی سے اپنے ورچوئل خطاب میں اسلامو فوبیا کی ساری گردان انڈیا اور ہندوؤں کے حوالے سے بیان فرمائی ہے۔ کاش ہم قومیت اور مذہبیت کی تنگناؤں سے بلند ہو کر حقائق کا جائزہ انسانیت اور خالص انصاف کی نظر سے لیں۔ محض اپنی پارٹی کا نام رکھ لینے سے انصاف نہیں آتا۔ اس کے کچھ بدیہی و لازمی تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ جس طرح کی انٹی سٹیٹ آوازیں ہندوستان میں اٹھتی ہیں جب تک نوبت دنگے تک نہ جائے بھاری ہندو میجارٹی انہیں برداشت کرتی ہے۔ لمحے بھر کے لئے سوچیں اس نوع کی انٹی ریاست آوازیں اگر ہمارے ملک کے کسی بھی حصے سے اٹھیں تو ہمارا حسن سلوک کیا ہو گا؟

ہم ربڑ کی گولیاں نہیں پھینکیں گے سچ مچ کی چلا دیں گے بلکہ ایسے نامرادوں کو ’مسنگ پر سن‘ بنادیں گے۔ ساری باتیں چھوڑے دیتے ہیں عوامی سوسائٹیوں کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہاں شعور کی بجائے جذبات زیادہ چلتے ہیں۔ دیگر مذاہب کی اپنے پیروکاران پر گرفت چونکہ کمزور پڑ چکی ہے جبکہ ہماری گرفت مضبوط ہے اس لئے اس نوع کی شدت بھی ہمارے اندر کچھ زائد ہے۔ لیکن کسی بھی خطے کی ریاست تو ایک قطعی ذمہ دار ادارہ ہوتی ہے۔ جس سے دنیا بھر میں یہ توقع کی جا تی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو مائی باپ کی طرح ایک نظر سے دیکھے گی۔ کیا دنیا بھر میں موجود ہماری مسلم ریاستیں واقعی اپنے تمام شہریوں کو ایک نظر سے دیکھتی ہیں؟ کیا کبھی کسی نے دیکھا کہ دنیا بھر کی ساری مسیحی آبادی والی ریاستوں نے مل کر عالمی سطح پر او آئی سی طرز کی مسیحی تنظیم تشکیل دی ہو یا اس کیلئے دنیائے مسیحیت میں کوئی کاوش ہو رہی ہو۔ یا دیگر مذاہب والوں نے اپنے تئیں کسی ایسے بڑے سرکاری کلب کی تشکیل کا ڈول ڈالا ہو؟ یا یہ مطالبہ ہی اٹھا ہو کہ یو این اجلاسوں کا آغاز بائبل کی تلاوت یا سیدنا مسیح ؑ کی نعت سے ہوگا کیونکہ ہم دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہیں یا سب سے بھاری ہماری آبادی ہے؟

تو پھر ہماری نمائندگی کے دعویدار کو کیا حق پہنچتاہے کہ وہ یو این جنرل اسمبلی میں ’اسلاموفوبیا‘ جیسے مذہبی نعرے لگائے؟ ہمہ وقت مذہبی امتیاز و تفریق کی تقاریر کرے، اپنی سستی شہرت کیلئے پاکستان کو دنیا میں طالبان جیسا بنا کر کیوں پیش کیا جاتا ہے ہم مظلوموں کی بات انساینت کی بنیاد پر کیوں نہیں کرسکتے؟