امریکا کو طالبان کی حکومت جلد یا بدیر تسلیم کرنا ہوگی: وزیر اعظم

  • ہفتہ 02 / اکتوبر / 2021
  • 4560

وزیر اعظم عمران خان نے سقوطِ کابل کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر طالبان کو فوری طور پر عالمی امداد فراہم نہیں کی گئی تو خطرہ ہے کہ وہاں تشکیل پانے والی عبوری حکومت گر جائے گی۔

اس سے وہاں افراتفری پیدا ہوگی اور انسانی بحران جنم لے گا۔ انہوں نے کہا کہ  امریکا کو طالبان کی حکومت جلد یا بدیر تسلیم کرنا ہوگا۔ ترک نشریاتی ادارے 'ٹی آر ٹی ورلڈ' کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ اب افغانستان کا مسئلہ دراصل انسانی بحران کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ افغان حکومت اپنے بجٹ کے لیے 75 فیصد تک بیرونی امداد پر انحصار کرتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ افغان عوام کو خطرہ ہے کہ طالبان کے بعد بیرونی امداد کا سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ طویل مدت کے لیے تو شاید طالبان اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجائیں گے لیکن اگر انہیں فوری طور پر امداد فراہم نہ کی گئی تو خطرہ ہے کہ وہاں تشکیل پانے والی عبوری حکومت گر جائے گی جس کے نتیجے میں افراتفری پیدا ہوگی اور انسانی بحران جنم لے گا۔

طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ہماری افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک سے مشاورت جاری ہے کہ ان کی حکومت کو کب تسلیم کیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے تنہا طالبان کو قبول کیا تو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ اس لیے ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ امریکا، یورپ، چین اور روس بھی ان کی حکومت کو تسلیم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم سب مل کر ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیتے ہیں تو اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے سوال اٹھایا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکا طالبان کی حکومت کو کب تسلیم کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ جلد یا بدیر امریکا کو طالبان کی حکومت تسلیم کرنا ہوگی، ان کے سینیٹ میں جو سماعت ہوئی، ان کے میڈیا میں دیکھیں، امریکا صدمے اور تذبذب کا شکار ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا 20 سال کے بعد طالبان کی حکومت کے آنے سے شدید حیرت کا شکار ہے اور اب وہ قربانی کا بکرا ڈھونڈ رہا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بنانا افسوس کی بات ہے۔ جو بائیڈن کیا کرسکتے تھے، انخلا کی تاریخ جب بھی دی جاتی ایسا ہی ہوتا جیسا آپ نے سقوطِ کابل میں دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اب قربانی کا بکرا تلاش کر رہا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان ان میں سے ایک ہے۔ واشنگٹن منطقی ذہنیت سے نہیں سوچ رہا کہ آگے کیسے بڑھنا ہے۔ اگر امریکا، افغانستان کے اثاثے غیر منجمد نہیں کرتا اور افغان حکومت گر جاتی ہے تو نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں آئندہ برس تک عوام 90 فیصد غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے اس لیے امریکا کو مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

بعض امریکی سینیٹرز کی جانب سے پاکستان پر پابندیاں لگانے کی تجویز سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ جو کوئی افغانستان بشمول خطے کی تاریخ سے واقف ہے، ہم سب جانتے تھے کہ ایسا ہی ہوگا۔ ہمیں علم تھا کہ آخر کار مسئلہ جنگ سے حل نہیں ہوگا۔

افغانستان میں لوگ غیر ملکی طاقتوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ خاص طور پر اگر وہ مسلمان نہ ہو تو ان کی قبولیت کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ افغانستان میں نصف سے زیادہ پشتون ہیں اور ان کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اگر ان کا کوئی عزیز قتل ہوجائے تو وہ اس کا بدلہ لیتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ جب ہم نے امریکا کا اتحادی ہونے کا فیصلہ کیا اور کیونکہ طالبان پشتون تھے تو طالبان کے ساتھ ہمدردیاں ان کے مذہبی نظریات کی وجہ سے نہیں تھیں بلکہ ان کی پشتون قومیت کی وجہ سے تھیں۔ سرحد کی اِس جانب پہلی مرتبہ ہم نے پاکستانی طالبان دیکھے۔ انہوں نے ہمیں امریکیوں کا ساتھی تصور کیا اور ہم پر حملے شروع کر دیے، امریکا نے جتنے حملے کیے طالبان کی طاقت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 2008 میں امریکی تھنک ٹینک سمیت متعدد سینیٹرز سے ملاقات ہوئی تو اندازہ ہوا کہ امریکی عوام کو افغانستان کی صورتحال کے بارے میں مکمل طور پر بےخبر رکھا گیا تھا۔  وہ سمجھتے تھے کہ افغان میں جمہوری حکومت قائم ہوگی، افغان خواتین کو آزادی مل جائے گی لیکن سقوطِ کابل کے بعد پورا امریکا پریشان ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 2010 میں آرمی چیف نے امریکا کا دورہ کیا اور انہیں آگاہ کیا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل جنگ نہیں ہے اور جیسے ہی وہ افغانستان سے انخلا کریں گے افغان حکومت اور آرمی گر جائے گی۔ عمران خان کو ’طالبان خان‘ کہنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ جارج بش کی حکومت میں ان کے سامراجی رویے کا عکاس ہے۔ یہ ان کا بدترین تکبر تھا، جب انہوں نے ہم سے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا مخالف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں جنگی حل کا مخالف ہوں، میں اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ دنیا کے مسائل کا حل جنگی ذرائع ہیں۔ میں عراق جنگ کا مخالف تھا، امریکا نے ہمیں افغانستان جنگ میں قربانی کا بکرا بنایا اور ہماری خدمات کو تسلیم کرنے کے بجائے مسلسل تنقید کی جو ہمارے لیے سب سے تکلیف دہ امر تھا۔ میرا خیال ہے کہ جب امریکا کھلے ذہن کے ساتھ سوچے گا تو اسے اندازہ ہوگا کہ پاکستان اس سب کے لیے کیسے ذمہ دار ہوسکتا ہے۔ یہ کیسے ہوا کہ بہترین اسلحے سے لیس 3 لاکھ افغان فوج نے لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے، یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں تھا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ صورتحال کا تجزیہ کریں تو نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے لیکن پاکستان اس کا ذمہ دار نہیں ہوسکتا، طالبان کی تحریک دیہی علاقوں میں شہرت پاگئی یہی وجہ ہے کہ وہ کامیاب ہوگئے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب ہم شمولیتی حکومت کی بات کرتے ہیں تو پہلی بات یہ کہ افغانستان کے خیر خواہ کی حیثیت سے ہم چاہیں گے کہ وہ مستحکم ہوں اور ایک شمولیتی حکومت قائم ہو۔ شمولیتی حکومت کا آپشن طالبان پر مسلط نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ مداخلت ہوگی

امریکا اور پاکستان کے تعلقات سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم ان سے مسلسل رابطے میں ہیں جبکہ ہماری انٹیلی جنس کے سربراہ اپنے امریکی ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں۔

امریکی صدر نے اب تک آپ کو کال نہیں کی؟ کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ جو بائیڈن نے کال نہیں کی لیکن ایسا ہونا بھی نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں ایسا کیوں ہے، یہ بہت ضروری بھی نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ امریکی صدر اس وقت شدید دباؤ میں ہیں، پریشان کن صورتحال کی وجہ سے ان کو تنیقد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا نکتہ نظر یہ ہے کہ جو بائیڈن کیسے پیش گوئی کرسکتے ہیں کہ انخلا سے دو ہفتے قبل ملک کا صدر بھاگ جائے گا۔ پاکستان، امریکا اور طالبان بھی ایسی پیش گوئی نہیں کرسکتے۔ میرے خیال میں افغانستان کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ امریکا اپنا کردار ادا کرے۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو 1979 کی تاریخ دہرائی جائے گی جب سوویت یونین وہاں سے چلا گیا تھا۔

بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے فورم سمیت بین الاقوامی میڈیا پر اٹھایا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو یکساں طور پر تمام معاملات کو دیکھنا چاہے۔ اگر وہ افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو دیکھتے ہیں تو بلاامتیاز بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بھی مسلمانوں سمیت اقلیتی برادری پر ہونے والے مظالم پر بھی بات کرنی چاہیے۔