ترقی کا پیمانہ بدلنے کی ضرورت

تبدیلی  کسے  اچھی نہیں لگتی مگر جب تبدیلی  کی رفتار سنبھالے نہ سنبھلے  تو  یہی تبدیلی  بعض اوقات بوجھ بننے لگتی ہے۔ دنیا میں 80 کی دِہائی سے  انٹر نیٹ، موبائل فونز، کمپیوٹرز، کمیونیکیشن جیسی درجنوں ایجادات نے دنیا  کے رنگ ڈھنگ ہی بدل ڈالے ہیں۔  انسان کی تاریخ میں اس قدر تیزی سے ٹیکنالوجی، پراڈکٹس اور خیالات کا سیلاب  کبھی وارد  نہ ہوا۔ 

 نتیجہ  یہ نکلا کہ  چند ہی سالوں میں  اس سیلاب نے  زمینی ماحول  اور انسان کو بدل کر رکھ دیا۔ امریکہ کے ایلون ٹافلر  گزشتہ صدی کے  منفر د  مصنف اور ممتاز اسکالر تھے،  مستقبل بینی  ان کا  امتیازی میدان تھا۔ان کا خصوصی موضوع یہ تھا کہ  ایجادات سے  پھوٹنے والی  تبدیلیوں کے انسان، معاشرے اور کاروبار پر کیا اثرات ہوں گے۔     انہوں نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی بہت سی تبدیلیوں کو وقت سے پہلے بھانپ لیا۔1970  میں شائع ہونے والی ان کی کتاب  ’مستقبل کا  جھٹکا‘ نے  اپنے موضوع اور چونکا دینے والے مندرجات سے دنیا کو شاک لگا دیا۔ پچاس سال گزرنے کے باوجود یہ کتاب آج بھی  دلچسپ اور افادیت رکھتی ہے۔

 ایلون ٹافلر کے مطابق انسانی معاشرے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جب ایک  انسانی ایجاد کو  دنیا کے ایک کونے  سے دوسرے کونے تک پہنچنے میں آٹھ سو سال لگ جاتے۔  انسان کی ترقی، علم اور کمیونیکیشن میں بہتری آتی گئی تو یہ  عرصہ  بھی کم ہوتا گیا۔ صنعتی ترقی کا دور شروع ہوا تو تبدیلی کا یہ  فاصلہ صدیوں  کی بجائے  چند سالوں  بلکہ بیسویں صدی میں  مہینوں، ہفتوں اور دنوں میں طے ہونے لگا۔ اب یہ عالم ہے کہ بہت سی ایجادات دنیا بھر میں ایک ہی  وقت  متعارف ہو رہی ہیں۔  ترقی کی رفتار او ر  بھرمار  نے انسان کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ انسان کا  انفرادی مزاج، تعلقات اور شب و روز بدلتے جا  رہے ہیں۔

معیشت دانوں کے ہاں ملکی ترقی ماپنے  کا ایک سکہ بند پیمانہ جی ڈی پی  کی سالانہ افزائش ہے۔ اسی پیمانے پر ملکوں کے  درمیان   تقابل  ہوتا  ہے۔  معاشی خوشحالی کے ساتھ ساتھ  انسان کی ایندھن  اور دیگر شیائے صرف کی   کھپت  میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ بجلی گیس و تیل کی  فی کس کھپت ہو ، کھانے پینے کی اشیا کی فی کس کھپت ہو یا لائف اسٹائل کے  مطابق مختلف اشیا اور خدمات کی فی کس کھپت۔ خو ش حالی ماپنے کے ان  درجنوں بلکہ سینکڑوں معاشی اشاریوں کی  جڑیں اسی ایک سادہ پیمانے میں ہیں یعنی سالانہ جی ڈی پی گروتھ ریٹ۔

اپنی معیشت کو  مسلسل سالانہ جی ڈی پی گروتھ ریٹ کی ڈگر پر قائم رکھنا حکومتوں کی کامیابی کا پیمانہ بھی  ہے، اسی  پر فی کس  خوشحالی منحصر ہے اور اسی بنیاد پر ہی الیکشن لڑے اور جیتے جاتے ہیں۔ گزشتہ تین صدیوں سے   ترقی یافتہ  ملکوں  نے  ترقی کی رفتار برقرار رکھنے  کے لئے وسائل کی  مسلسل فراہمی اور بسا اوقات لوٹ کھسوٹ تک  کو روا رکھا ہے۔  پچھلی ایک صدی بالخصوص   پچاس  سالوں  کے دوران زمین  سے  محدود وسائل کی اندھا دھند  یافت اور استعمال نے دنیا کے موسموں اور وسائل میں عدم توازن پیدا کر دیا ہے۔

صنعتی ترقی کی دوڑ میں کوئلے و  تیل سمیت ہر طرح کے ایندھن  کی  زیرِ زمین  سے  مسلسل  کھنچائی اور ان سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی کثافت، انڈسٹریل ویسٹ، زہریلی گیسز اور  استعمال شدہ پراڈکٹس کے  پہاڑ اب  ملکوں اور معاشروں کے لئے ڈراؤنی حقیقت ہیں۔  سرد موسم  میں ایشیا کے بڑے شہروں میں ہوا کی آلودگی اس قدر  ہو جاتی ہے کہ سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے۔ ان  شدید موسمی تبدیلیوں کی  بنیاد میں صنعتی ترقی کے جنون میں  ایندھن کے وسائل سمیت ہر طرح  کے زیرِ زمین اور بر سرِ زمین  وسائل پر تصرف نے اس کرّہ ارض پر انسانی زندگیوں کو  مشکل سے دوچار کردیا ہے۔ خوشحال اور ترقی پذیر  ممالک اپنی ترقی کے تسلسل کیلئے ان وسائل اور نئے وسائل کی استعمال  کے لئے ہلکان ہو رہے ہیں۔ ملکوں اور معاشروں میں خوشحال اور درماندہ لوگوں کے درمیان خلیج اس سارے عمل سے  خوفناک انداز میں بڑھی ہے۔

وسائل سمیٹنے کے معاملے میں دنیا پہلے سے زیادہ  لالچی اور بے رحم ہو رہی ہے، رہی سہی کسر گلوبل ویلیج کی  صورت میں عالمی منڈیوں میں قدرتی وسائل اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ  نے کمزوروں کے لئے قیامت کا سامان پیدا کر دیا ہے۔ جی ڈی پی کی صورت  میں مسلسل گروتھ کے معاشی نظریے کے مقابل کچھ عرصے سے ایک متبادل معاشی نظریہ سامنے آ رہا ہے یعنی   منصوبہ بندی  کے تحت کم ترقی یا  منفی گروتھ۔

اس نظریے  کے  محرکین کے مطابق  انسان کے بس میں نہیں  کہ  بڑھتی ہوئی توانائی کی ضرورتوں کے لئے  فوسل فیول سے مکمل گریز کرے، اس  مقصد کے حصول کے لئے  اسے اپنے  تصرف  میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔ بہتر ہو کہ ترقی یافتہ ممالک اپنے ہاں تصرف میں کمی لائیں تاکہ وسائل  جلانے کا بوجھ کم ہو، ماحول کی آلودگی کم ہو اور اس دوران میں غریب ممالک کو موقع مل سکے کہ وہ ان وسائل کے  استعمال سے ترقی یافتہ اقوام کے ساتھ اپنی معاشی خلیج کم کر سکیں۔  لہٰذا ضروری ہے کہ جی ڈی پی  گروتھ کے پیمانے کی بجائے  سازگار  ماحول اور   انسانی  آسودگی میں بہتری  کے پیمانے کو اپنایا جائے یعنی

   Shifting from GDP growth towards sustainable ecosystems and improving human well being

 2019 میں گیارہ ہزار سائنس دانوں نے ایک  اوپن لیٹر میں اس متبادل نظریے کو اپنانے پر زور دیا۔ ظاہر ہے ترقی یافتہ ممالک کے  ماہرین معیشت، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور حکومتوں کے لئے یہ مطالبہ دیوانے کا خواب ہے جس کے لئے وہ اپنی ترقی کے خواب ریزہ ریزہ کیوں کریں گے، سو اس متبادل نظریے کے مخالفین موثر اور زیادہ بلند آواز ہیں۔ تاہم یہ امر خوش کن ہے کہ کچھ آوازیں تو ابھر رہی ہیں کہ زمین پر  بسنے والے بھلے لوگو،  ایندھن کے قدرتی وسائل لا محدود نہیں  اور نہ ہی ہمیں اپنی ضروریات کو مسلسل لامحدود کرنے کی ضرورت ہے۔ ہوش کے ناخن لیں،  اسراف  کم  کریں،   ترقی یافتہ  ممالک  پیہم  ترقی کے گھوڑے کو لگام ڈالیں  اور اس زمین کے ساتھ مزید پنگا نہ لیں۔