پینڈورا پیپرز وزیرخزانہ شوکت ترین، مونس الہٰی سمیت 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام
- اتوار 03 / اکتوبر / 2021
- 4950
انٹرنیشنل کنسورشیئم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی بین الاقوامی تحقیقاتی روپورٹ 'پینڈورا پیپرز' میں میڈیا رپورٹس کے مطابق 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام شامل ہیں۔
پاکستان کے وزیرخزانہ شوکت ترین، وزیر آبی امور مونس الہٰی، سینیٹر فیصل واوڈا، اسحٰق ڈار کے بیٹے، شرجیل میمن، وفاقی وزیر خسرو بختیار کا خاندان اور علیم خان جیسے اہم ناموں سمیت 700 سے زائد پاکستانی شامل ہیں۔
پینڈورا پیپرز میں فوج کے چند ریٹائرڈ عہدیداروں، کاروباری شخصیات، ایگزیکٹ کمپنی کے مالک شعیب شیخ سمیت میڈیا اداروں کے مالکان کے بھی نام آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے قریبی حلقے کے لوگوں کی آف شور کمپنیوں کے سامنے آنے کا انکشاف ہوا ہے۔ حالانکہ وہ دعویٰ کرتے رہے ہین کہ ٹیکس چوری سے اور منی لانڈرنگ کے باعث غریب ممالک کی غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔
آئی سی آئی جے کے مطابق لیک ہونے والے ڈیٹا کے مطابق عمران خان کے قریبی حلقے میں سے وفاقی وزیر خزانہ شوکت فیاض احمد ترین، ان کے اہل خانہ، وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیر خزانہ اور ریونیو وقار مسعود خان اور پاکستان تحریک انصاف کو فنڈز فراہم کرنے والے اور امریکا میں مالی فراڈ میں نامزد عارف نقوی بھی شامل ہیں۔
یہ دنیائے صحافت کی تاریخ میں کی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی تحقیق ہے۔ آئی سی آئی جے کے مطابق پینڈورا پیپرز دنیا کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والی ایک کروڑ 19 لاکھ سے زائد فائلز کے 'لیکڈ ڈیٹا بیس' پر مشتمل ہیں۔ دنیا کے 117 ممالک سے 150 میڈیا اداروں سے تعلق رکھنے والے 600 سے زائد رپورٹرز نے 2 سال تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں حصہ لیا۔
پاکستان سے انگریزی روزنامے دی نیوز انٹرنیشنل سے وابستہ صحافی عمر چیمہ اور فخر درانی اس تحقیقات میں شامل تھے۔ آئی سی آئی جے کے مطابق یہ انکشافات اتوار کے روز پاکستانی وقت کے مطابق رات ساڑھے 9 بجے جاری کئے۔
یاد رہے کہ اپریل 2016 میں آئی سی آئی جے کی تحقیق پاناما پیپرز کے نام سے سامنے آئی تھی جس نے دنیا میں تہلکہ مچادیا تھا۔ پاناما پیپرز ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل تھے جس میں درجنوں سابق اور اس وقت کے سربراہان مملکت، کاروباری شخصیات، مجرموں، مشہور شخصیات اور کھلاڑیوں کی 'آف شور' کمپنیوں کا ریکارڈ موجود تھا۔
پاناما لیکس میں پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کا بھی آف شور کمپنیوں سے تعلق سامنے آیا تھا جس پر ان کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمات چلائے گئے تھے اور اسی وجہ سے نواز کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔
آئی سی آئی جے کے 'پینڈورا پیپرز' سے اعلان کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر ڈاکٹر فیصل جاوید نے ٹوئٹ پر ایک بیان میں میڈیا رپورٹس کے حوالے سے کہا تھا کہ پاناما پیپر کے بعد آئی سی آئی جے پینڈورا پیپرز کے منظر عام پر لانے والا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ غریب ممالک سے امیر ممالک کی جانب منی لانڈرنگ کی وجہ سے دنیا میں بہت زیادہ عدم مساوات پیدا ہوئی ہے اور وزیراعظم نے اس معاملے کو اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر اٹھایا ہے۔
اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ دنیا بھر کی اہم شخصیات کے خفیہ مالی معاملات پر بڑی بین الاقوامی تحقیق ’پینڈورا پیپرز‘ سے وزیراعظم عمران خان کے مؤقف کو مزید تقویت ملے گی۔