حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے مذاکرات شروع نہیں ہوئے: شیخ رشید

  • سوموار 04 / اکتوبر / 2021
  • 4630

وزیر داخلہ شیخ رشید نے پاکستان کی حکومت اور تحریک طالبان پاکستان  کے مابین مذاکرات کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت داخلہ کا مذاکرات میں کوئی کردار نہیں ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات شروع ہی نہیں ہوئے اور اس میں وزارت داخلہ کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اگر افغان طالبان کوئی مذاکرات کررہے ہیں تو میرے نوٹس میں نہیں اور اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا وزارت داخلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا فیصلہ ہے کہ جو لوگ ہتھیار چھوڑ کر پاکستان کے آئین اور قانون پر یقین رکھیں گے، اس سے بات چیت ہوسکتی ہے۔ لیکن جو لوگ دہشت گرد ہیں ان سے بات نہیں ہوسکتی۔

خیال رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت خود وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید بھی ٹی ٹی پی کے کچھ گروہوں سے مذاکرات اور عام معافی سے متعلق بیان دے چکے ہیں جس پر انہیں پیپلز پارٹی سمیت متعدد سیاسی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔

 صدر عارف علوی نے ڈان نیوز کے ایک پروگرام میں انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ جو کالعدم تحریک طالبان کے اراکین جرائم میں ملوث نہیں اور ٹی ٹی پی کے نظریات کو چھوڑ کر پاکستان کے آئین کے ساتھ چلنا چاہے تو حکومت عام معافی کا سوچ سکتی ہے۔ اسی طرح وزیراعظم عمران خان نے ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کالعدم ٹی ٹی پی کے کچھ گروہوں سے مذاکرات اور عام معافی کے بارے میں بتایا تھا۔

عمران خان کے بیان پر پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سینیٹر شیری رحمٰن نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم نے دوبارہ تحریک طالبان پاکستان کو معافی دینے کی بات کی ہے، کیا انہوں نے پارلیمنٹ سے پوچھا کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔