جدید نو آبادیاتی نظام
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 04 / اکتوبر / 2021
- 12680
عالمی سامراج کی ایک سو ایک صورتیں۔ برطانیہ عظمیٰ ایک زمانے میں وہ ملک تھا جس کی دور تک پھیلی ہوئی نوآبادیوں میں کبھی سورج غرب نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اس نظام کی ایک خوبی یہ تھی کہ اس نے کبھی مذہب کو دوسرے ممالک پر قبضہ کرنے میں اس طرح استعمال نہیں کیا جس طرح، عربوں م ترکوں، پٹھانوں، مغلوں اور منگولوں نے کیا تھا۔
درہ ء خیبر کے راستے ہندوستان پر حملہ کرنے والے بیشتر حملہ ٓاور اسلام کا پرچم لہراتے ہوئے آئے اور ان میں سے کچھ تو لوٹ مار اور خراج وصال کرنے کے بعد واپس چلے گئے اور کچھ نے یہیں برِ صغیر میں ڈیرہ جمالیا۔ اس سلسلے میں تاریخ محمود غزنوی کو کبھی بھول نہیں سکتی جس نے سترہ بار برِ صغیر کو لُوٹا تھا اور مال و دولت سمیٹ کر واپس چلا گیا تھا۔ البتہ ایبک، بلبن، تغلق، لودھی، سوری،، درانی اور مُغل اس ملک پر حکومت کرتے رہے۔ ان میں سب سے طویل دورِ حکومت مغلوں کا رہا ۔ مغل جو حملہ آور بن کر آئے تھے ہندوستانی بن کر رہ گئے اور ظیر الدین بابر کے پوتے نے تو راجپوت مہاراجہ مان سنگھ کی بہن جودھا بائی سے شادی کر لی جس کے بطن سے جہانگیر پیدا ہوا جو ہمارے پیارے بلاول بھٹو زرداری کی طرح راجپوت مغل تھا۔
اور پھر جودھا بائی کے پڑپوتے اورنگ زیب نے جس اسلام کو رواج دیا اس پر تو آسمان کی آنکھ میں بھی بارہا اانسو آگئے ہوں گے کہ موصوف نے اپنے بھائیوں کو ایک ایک کر کے قتل کیا، باپ کو جیل میں دالا اور بہنوئی کو اندھا کیا اور بالآخر ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کا تابوت بنا کر چھوڑ گیا تاکہ بہادر شاہ ظفر اُس میں آخری کیل ٹھونک سکیں۔ حکمرانوں کی ہر عہد میں اپنی اخلاقیات ہوتی ہے۔ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، اقتدار کے لیے ہر سودے بازی پر تیار ہو جاتے ہیں جس طرح راجہ مان سنگھ سے اپنی بہن کی شادی کر کے کیا ۔ اس وقت کسی پنڈت، کسی برہمن یا کسی جگت گرو نے لوگوں کو اس بات پر نہیں اُکسایا کہ وہ مان سنگھ کے خلاف احتجاج کریں۔ سب نے چُپ چاپ محمد جلال الدین اکبر کو اپنا داماد تسلیم کرلیا۔ اور تاریخ میں ایک دل چسپ واقع ملتا ہے جس میں ایک مسلمان راجپوت نے اکبر سے بغاوت کی اور اُسے پنجاب سے ایک ہندو لڑکی کو اپنے حرم میں ڈالنے پر مزاحمت کی اور لڑکی کا باپ بن کر اُس کی شادی کروادی جس کی پاداش میں اُسے دلی میں پھانسی دے دی گئی۔ اور اُس مسلمان راجپوت کا نام دُلّا بھٹی تھا اور اس واقعے کی یاد میں پنجاب کے ہندو اور سکھ لوہڑی کا تہوار مناتے ہیں اور دُلا بھٹی کے لیے گیت گاتے ہیں ۔ جس کے بول کچھ یوں ہوتے ہیں:
دُلّا بھٹی والا ہوہ
دُلے دھی ویاہی ہوہ۔
کُڑی دا سالہو پاٹا ہوہ
اسی ضمن میں دُلے
اور اسی موضوع کو دُلا بھٹی دی وار میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے جس میں دُلّا بھٹی جلال الدین اکبر کو للکارتے ہوئے کہتا ہے:
میں بھناں دِلّی دے کنگرے
دیواں شکر وانگوں بھور
اب اس سلسلے میں میرا سوال یہ ہے کہ ان پٹھانوں، مغلوں، تُرکوں کے پاس کون سا مذہبی لائسنس تھا ، جس کی بنا پر وہ برِ صغیر پر حملے کے حقدار ٹھہرے تھے۔ جس طرح وہ آئے اسی طرح ڈچ، پرتگالی اور فرانسیسی بھی آئے اور پھر انگریزآگئے۔ انگریز برِ صغیر میں بیرونی حملہ آور تھے بالکل اسی طرح جیسے منگول، پٹھان، ترک اور مُغل تھے۔ اور یہ سب کچھ قدرت کے ایک نظام کے تحت ہوتا ہے، جس میں طاقت ور لوگ ، جن کے پاس خوا ہ علم کی طاقت ہو یا لشکروں کی طاقت، حکمرانی پر فائز ہو جاتے ہیں۔ جب کسی انسانی گروہ کے پاس سائنسی طاقت بھی اور لشکری طاقت بھی تو وہ پھر اپنے قوانین بناتے ہیں اور زمین کو اپنے زیرِ نگیں لاتے تھے۔ جیسا انگریزوں نے کیا اور پھر محمود غزنوی کی طرح دنیا بھر کی دولت لوٹ لی اور اسی طرح اپنے گھر لے آئے جس طرح محمود غزنوی لے گیا تھا۔ برطانیہ نے بحری قراقی کے ذریعے مال بنایا اور اپنے ایک بحری قزاق فرانسس ڈریک کو سر کا خطاب دیا۔ لشکر کشی کر کے کوئی مسلمان لوٹ مار کرے یا کوئی عیسائی کرے وہ دونوں مجرم ہیں۔ اور دنیا کے بیشتر طاقت ور ممالک اب بھی یہی کر رہے ہیں۔ لیکن اب ایک نیا نو آبادیاتی نظام ہے جس کے ذریعے دنیا بھر کی دولت برطانیہ میں لائی جاتی ہے ، جس کی ایک مثال کئی ملکوں کے وہ بھگوڑے سیاست دان ہیں جنہوں نے غریب ملکوں سے کسی بھی جائز ناجائز طریقے سے بٹوری دولت کو لندن کی معیشت کو تقویت دینے کے لیے سرمایہ کاری کی ہے۔
آج ہی ایک ٹی وی پروگرام میں بتایا جا رہا تھا کہ اس وقت برطانیہ غریب ملکوں سے لوٹی ہوئی دولت کا مرکز بن چکا ہے۔ منی لانڈرنگ ایک بہت بڑا معاشی جرم ہے جو انسانوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے۔ اور اس کا طریقِ کار سیدھا اور واضح ہے کہ غریبوں کو غریب تر اور امیروں کو امیر تر بنا دیا جائے۔ یہ امیر اور امیر تر لوگ اس نئے نو آبادیاتی نظام کے وائسرے ہوتے ہیں جو کمزور طبقوں کا لہو نچوڑ کر مال و دولت امیر ملکوں میں منتقل کرتے رہتے ہیں۔ اس نئے نو آبادیاتی نظام کو آئی ایم ایف، ، ورلڈ بنک اور آف شور کمپنیاں چلاتی ہیں جن کے ذریعے ایک انتہائی سفاکانہ نظام قائم کیا گیا جو پوری دنیا کے مالی وسائل کی تقسیم کرتا ہے ۔ یہ تقسیم انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ اس تقسیم کی وجہ سے تیسری دنیا کے بہت سے ملکوں میں خطِ غربت سے نیچے سسکنے والے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن ان امیروں کو اس سے کیا۔ وہ لاکھوں روپے کا لباس، کروڑوں روپوں کی گھڑی اور زیور پہن کر ہر روز اپنی امارت اور مال و دولت کی نمائش کرتے ہیں اور غریب لوگوں کو ذہنی صدمے پہنچاتے ہیں جبکہ اسراف اور فضول خرچی اسلام میں حرام ہے۔
اسراف اپنی حد سے گزرنا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کا واضح حکم ہے: کُلو واشربوا ولا تسرفو۔ کھاؤ، پیو مگر اسراف نہ کرو۔ اسراف قسم قسم کی مرغن غذاؤں، شاہانہ اور فاخرہ لباسوں، اور محلات نما گھروں میں رہنے سے عبارت ہے لیکن ہم سیکنڈ ہینڈ لوگ ہیں جو سنی سنائی باتوں پر بلا تحقیق یقین کر لیتے ہیں اور پھر افواہوں اور من گھڑت خبروں کو پھیلاتے ہیں اور ہمارا میڈیا اس کا چمپیئن ہے۔ ہم نظریات کے نام پر جھوٹ بولتے ہیں، جھوٹ تخلیق کرتے ہیں، اور اپنی بدعنوانیوں کو چھپانے کے لیے طرح طرح کے حیلے بہانے کرتے ہیں جو ہمارا طرزِ زندگی ہے اور ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم سب اس نئے نو آبادیاتی نظام کے قیدی ہیں اور اُن اپنوں کے ہاتھوں لُٹ رہے ہیں جو اس عالمی سامراجی نظام کے گماشتے اور ایجنٹ ہیں اور ہم جس صورتِ حال میں گرفتار ہیں اُس سے نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی ۔
اُمتِ مجبور کا اب آسرا کوئی نہیں
ایسے لگتا ہے کہ بندوں کا خُدا کوئی نہیں