صدر عارف علوی نے قومی احتساب ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کر دیے

  • بدھ 06 / اکتوبر / 2021
  • 3870

وفاقی کابینہ نے نیب ترمیمی آرڈیننس 2021 کی منظوری دے دی تھی۔  وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے نیب ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دی، منظوری کے بعد نیب آرڈیننس کا مسودہ صدر مملکت کو ارسال کر دیا تھا۔ صدر مملکت کے دستخط کے بعد نیب ترمیمی آرڈیننس کا اطلاق ہو گیا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے نیب آرڈیننس میں ترمیم کے مسودے کی منظوری دی تھی۔وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں قانونی ٹیم کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم ، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان شریک ہوئے۔

نئے آرڈیننس میں نئے چیئر مین کی تعیناتی تک موجودہ چیئر مین نیب کو برقرار رکھنے کی شق شامل  کی گئی ہے۔ آرڈیننس مسودہ میں چیئر مین نیب کی تعیناتی پر اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کرنے کی شق بھی شامل ہے۔ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت کی موجودہ شق برقرار رہے گی، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق نہ ہوا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین نیب کو ہٹانے کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرنا ہوگا، نئے مستقل چیئرمین نیب کیلئے جسٹس (ر) جاوید اقبال کے نام پر بھی غور ہوسکے گا۔ مجوزہ آرڈیننس کے تحت موجودہ چیئرمین نیب نئے کی تعیناتی تک برقرار رہیں گے، چیئرمین نیب کی تعیناتی کے طریقہ کار میں پارلیمانی کمیٹی پہلی بار شامل کی جا رہی ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آج میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ نئے چیئرمین نیب کی تقرری صدر مملکت وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈرشہباز شریف سے مشاورت کے بعد کریں گے ۔ اتفاق رائے نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا، میرے اور فواد چودھری کے بیانیے میں کوئی فرق نہیں۔اسی دوران وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ عمران خان شہبازشریف سے بات نہیں کریں گے۔

گزشتہ روز دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے چیئرمین نیب کی تقرری کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نئے چیئرمین نیب کی تقرری تک موجود چیئرمین اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہیں گے۔ چیئرمین نیب کو ہٹانے کا فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہو گی، چیئرمین نیب کو ہٹانے کا طریقہ کار نئی ترامیم میں واضح کردیا ہے۔