آئی ایس آئی کا ڈائیریکٹر جنرل تبدیل کردیا گیا

  • بدھ 06 / اکتوبر / 2021
  • 6260

پاکستانی فوج میں بڑے پیمانے پر تقرریاں اور تبادلے کئے گئے ہیں۔ خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کی جگہ لیفٹننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا گیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے اعلان کے مطابق جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور تعینات کیا گیا ہے۔ لیفٹننٹ جنرل محمد سعید کور کمانڈر کراچی، لیفٹننٹ جنرل نعمان محمود کو صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی تعینات کر دیا گیا ہے۔ لیفٹننٹ جنرل محمد عامر کو کور کمانڈر گوجرانوالہ جب کہ کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر کو کوراٹر ماسٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ میجر جنرل عاصم ملک کو لیفٹننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر انہیں پاک فوج کا ایجوڈنٹ جنرل تعینات کر دیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پنجاب رجمنٹ میں کمیشن لینے والے لیفٹننٹ جنرل ندیم احمد انجم دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ردالفساد کے دوران آئی جی ایف سی تعینات رہے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے دوران اُنہوں نے ایک انفنٹری بریگیڈ کی بھی کمانڈ کی جب کہ کمانڈر فائیور کور سندھ میں بھی تعینات رہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل فیض حمید اب آرمی چیف کے عہدہ کے لیے امیدوار بن سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ پاکستان میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی جنرل فیض حمید پر سیاست میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

جنرل فیض حمید نے ان الزامات کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ پاکستانی فوج کی جانب سے متعدد مواقع پر یہ کہا جاتا رہا ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید پانچ برس تک آئی ایس آئی میں خدمات سرانجام دینے کے بعد اب کور کمانڈر پشاور تعینات کئے گئے ہیں۔ ان پانچ برسوں میں پہلے دو برس بطور میجرجنرل وہ ڈائریکٹر جنرل انٹرنل سیکیورٹی اور بعد میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کے طور پر کام کرتے رہے۔

فیض حمید کا نام پہلی مرتبہ اس وقت عوامی طور پر سامنے آیا جب 2017 میں فیض آباد میں مذہبی تنظیم تحریکِ لبیک پاکستان نے الیکشن لڑنے کے لیے ضروری حلف نامے میں مبینہ تبدیلیوں کے خلاف دھرنا دیا۔ 22 دن تک جاری رہے والے اس دھرنے کے اختتام پر ہنگامہ آرائی کے بعد مذاکرات کیے گئے اور مذاکرات کے بعد ہونے والے معاہدہ پر اس وقت میجر جنرل فیض حمید نے بطور گواہ دستخط کیے تھے۔

اس کے کچھ عرصے کے بعد سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما پیپرز سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ میں کیس کے دوران ان کا نام لیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بھی راولپنڈی بار کی ایک تقریب میں ان کا نام لیا اور الزام لگایا کہ انہوں نے نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی ضمانت نہ دینے کے حوالے سے ججز پر دباؤ ڈالا۔ اس معاملہ پر پاکستان فوج کی طرف سے تردید کی گئی تھی۔

مریم نواز نے بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر جنرل فیض حمید کا نام لے کر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ مریم نے جو پیٹشن دائر کی ہے اس میں ایک سابقہ جج کا سہارا لیا اس کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس میرٹ پر کچھ کہنے نہیں ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے خلاف جو مہم چلا رہا ہے، پاکستان میں مریم اس مہم کی قیادت کر رہی ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار اور پاکستان کے سابق لیفٹننٹ جنرل امجد شعیب نے اس تبادلے پر وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں آنے والی حالیہ تبدیلی کے بعد جنرل فیض حمید کا تبادلہ اہمیت کا حامل ہے۔

اُن کے بقول جنرل فیض افغانستان کے حالیہ معاملات پر خاصے متحرک رہے ہیں۔ لہذٰا ان کی بطور کور کمانڈر تعیناتی سے فوج کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ بطور ڈی جی آئی ایس آئی مصروفیت بہت زیادہ ہوتی ہے، اب بطور کور کمانڈر وہ افغانستان سرحد کے ساتھ معاملات کو زیادہ بہتر انداز میں دیکھ سکتے ہیں۔