پاکستان کی خارجہ پالیسی او رعالمی طاقتوں کا کردار
- تحریر سلمان عابد
- بدھ 06 / اکتوبر / 2021
- 6360
پاکستان عملی طور پر ایک مشکل دور سے گزررہا ہے۔ اس کو داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز میں ایک مسئلہ ہماری علاقائی یا عالمی سطح پر خارجہ پالیسی کا بھی ہے۔
بالخصوص جس انداز سے حالیہ کچھ عرصہ میں خطہ کی بدلتی ہوئی صورتحال، افغانستان میں ہونے والی تبدیلیاں، پاک بھارت تعلقات، خطہ میں چین کا بڑھتا ہوا اثرسمیت امریکہ چین تعلقات کو دیکھیں تو بہت سی ایسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں جس کا اثر خود پاکستان کی داخلی سیاست اور خارجہ پالیسی پر بھی پڑتا ہے۔ پاکستان امریکہ تعلقات کی نوعیت میں بھی ہمیں مختلف مسائل یا بداعتمادی کا ماحو ل غالب نظر آتا ہے او راسی بنیاد پر ہم خارجہ پالیسی میں نئے امکانات کو بھی تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ خارجہ پالیسی میں خود کو مضبوط پیش کرنے کا ایک ہی بنیادی اصول ہے وہ داخلی سطح کا سیاسی او ربالخصوص معاشی استحکام ہوتا ہے۔لیکن ہم داخلی سطح پر معاشی طور پر بہت زیادہ مضبوط نہیں تویہ ہی وجہ ہے کہ ہم عالمی سیاست کے بڑے دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔
پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں پاکستان میں امریکہ کے طرز عمل پر شدید تحفظات ہیں۔ پاکستان نے جو کچھ افغان بحران کے حل میں کیا او رجو میز عالمی سطح پر امریکہ، افغان حکومت او رافغان طالبان کے لیے مزاکرات کی سجائی وہ یقینی طو رپر پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھی، مگر اس کے نتیجے میں جو بداعتمادی کا ماحو ل امریکہ کی جانب سے پاکستان کے تناظر میں دیکھنے کو مل رہا ہے وہ واقعی پاکستان کی تشویش کو نمایاں کرتا ہے۔پاکستان 2001-21تک افغانستان کے تناظر میں امریکہ کا اہم اتحادی رہا ہے۔ خود امریکہ میں اعتراف علمی و فکری سطح پر موجود ہے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر افغان بحران کا حل ممکن نہیں۔ لیکن اب جس انداز میں امریکی سینٹ میں ایک بل کا مسودہ پیش کیاگیا اور اس میں تقاضہ کیاگیا کہ طالبان او ران کی مد د کرنے والے ممالک اور حکومتوں پر پابندی لگائی جائے او راس میں پاکستا ن کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ طرز عمل پاکستان کے کردار کی نفی بھی ہے او راس میں امریکہ افغانستان میں اپنی بڑی ناکامی کا بوجھ بھی پاکستان پر ڈال کر خود کو بچانے کی کوشش کررہا ہے۔اس لیے اگر پاکستان نے اس پر اپنا شدید ردعمل دیا ہے تو فطری بھی ہے اور حقیقت پر مبنی بھی ہے کہ امریکہ دوہرے معیارات کا شکار ہے۔
بہت سے لوگوں نے افغانستان سے امریکی انخلا کو سیاسی تنہائی میں دیکھا او ر کہا تھا کہ امریکہ اب افغانستان سے چلاگیا ہے۔ اس وقت بھی راقم نے یہ ہی لکھا تھا کہ امریکی فوجیوں کا انخلا افغانستان سے ضرور ہوا ہے لیکن امریکہ بدستور افغانستان میں ہی رہے گا۔ اب جو ہمیں صورتحال افغانستان کی نظر آرہی ہے اس میں امریکہ کا کردار بڑھ گیا ہے اور وہ طالبان سمیت پاکستان کو افغانستان میں سخت ٹائم دینا چاہتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ افغانستان میں تناظر میں امریکہ کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہے اور امریکہ بھارت کی سرپرستی کرکے افغانستان میں اپنی پراکسی وار کو بھارت کی مدد سے چلائے گا۔ابتدا میں امریکہ نے پاکستان کو پیغام دیا تھا کہ وہ افغان بحران کے حل میں بھارت کو بھی شامل کرے لیکن پاکستان کی مخالفت کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔ اب امریکہ اور بھارت دونوں ہی افغانستان میں ناکام ہوئے ہیں اور دونوں ہی اس ناکامی سے کچھ سبق سیکھنے کی بجائے بدلہ لینے اور افغان حکومت کو تنہا کرنے او رپاکستان پر دباو بڑھانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں ایک طرف امریکہ تو دوسری بھارت سے بھی خطرات لاحق ہیں جو افغانستان سمیت پاکستان کو مستحکم دیکھنے کی بجائے غیر مستحکم رکھنا چاہتے ہیں۔
یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کے تناظر میں اس بنیادی نقطہ کو سمجھنا ہوگا کہ امریکہ کا مستقبل کا کردار افغانستان کی تعمیر نو ہے یا وہ اپنے بدلہ کی آگ میں اسے غیر مستحکم رکھنا چاہتا ہے۔ اگر امریکہ کی پالیسی افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہے تو پھر پاکستان کا استحکام بھی اسے کسی صورت قبول نہیں۔ ایسے میں پاکستان کیونکر اپنا پورا جھکاؤ امریکہ کی طرف کرلے جو پاکستان کے مقابلے میں بھار ت کے مفادات کے ساتھ زیادہ کھڑا ہے۔حالانکہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت واضح طو رپر کہہ چکی ہے کہ ہم ماضی کے تنازعات پر مبنی پالیسی سے نکل کر مستقبل کی طرف او رمعاشی استحکام کی بنیاد پر علاقائی او رعالمی تعلقات کو موثر بنانا چاہتے ہیں۔ اس میں پاک امریکہ تعلقات اور پاک بھارت تعلقات کی بہتری کا ایجنڈا بھی شامل ہے۔لیکن لگتا یہ ہے کہ امریکہ کے لیے پاکستان کا چین کی طرف بڑھتے ہوئے جھکاؤ کی قبولیت قبول نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ امریکی پالیسی میں ہمیں پاکستان کے لیے مفاہمت سے زیادہ مزاحمت یا دباو ڈالنے کی پالیسی نمایاں نظر آتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کی علاقائی اور عالمی سیاست کے تناظر میں ہمیں اپنی خارجہ پالیسی میں کیا کرنا چاہیے او رہماری اپنی ایسی کیا حکمت عملی ہونی چاہیے جو ہمیں خطرات موجود ہیں ان کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں ہمیں سات اہم نکات پر توجہ دینی ہوگی۔اول ہمیں کسی بھی ملک کے خلاف ان کی سخت ردعمل کی پالیسی پرویسا ہی سخت رویہ اختیار کرنے کی بجائے مدلل انداز میں یا اپنی سوچ و فکر کی بنیاد پر متبادل لانگ ٹرم، مڈٹرم اور شارٹ ٹرم پالیسی پر مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا جس میں جذباتیت کے مقابلے میں ٹھوس گہرائی موجود ہو اور یہ پالیسی کسی سیاسی تنہائی میں نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی فریم ورک او رمشاورت پر مبنی ہونی چاہیے۔دوئم ہمیں علاقائی ممالک سے اپنے اتحاد وتعلق کو ایک نئی جہت دینی ہوگی اور خودکو علاقائی ممالک کے ساتھ کھڑا کرکے عالمی سیاست کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس میں چین کے ساتھ اپنے تعلق کو بھی مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنا ہوگا۔امریکہ او رچین کے درمیان تعلقات کے تناظر میں بھی ہمیں توازن پر مبنی پالیسی رکھنی ہوگی اور اس تاثر کی نفی کرنی ہوگی کہ ہمارا چین سے تعلق کی بنیاد امریکہ سے تعلقات ختم کرنے پر ہے۔
سوئم عالمی سطح پر امریکہ اور بھارت کی طرف سے ہمیں سنگین نوعیت کی الزام تراشیوں کا سامنا ہے اس کے لیے ہمیں عالمی میڈیا، تھنک ٹینک، یورپی پارلیمنٹ او رامریکی کانگریس سمیت دیگر رائے عامہ کو متاثر کرنے والے افراد یا اداروں کے ساتھ موثر پالیسی درکار ہے۔ ہمیں دنیا کو پیغام دینا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں او رکون اس وقت خطہ یا عالمی امن کے خلاف ہے۔چہارم ہماری حکومت، ریاست، فارن آفس، خارجہ امور کے ماہرین، دنیا میں پاکستان کے سفارت کار وں اور میڈیا کے محاذ پر ایک ٹھوس بیانیہ کو طاقت فراہم کرنا ہوگی اور اس بیانیہ میں تضاد سے زیادہ اتفاق رائے پر مبنی ایجنڈا ہونا چاہیے۔کیونکہ ہمارے باہمی تضادات کو بنیاد بنا کر ہی عالمی سیاست سے جڑے ممالک ہی اسے ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں۔
پنجم پاکستان کو اپنے داخلی مسائل میں سیاسی او رمعاشی استحکام کو بنیادبنانے او روہ مسائل جس پر عالمی دنیا ہم پر تنقید کرتی ہے اس پر ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ ہماری داخلی پالیسی ہماری خارجہ پالیسی کو طاقت فراہم کرنے کا سبب بنے۔ششم ہمیں اپنی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ٹکراؤکی پالیسی کی بجائے ایک دوسرے کے لیے بھی او رخود ملک کے لیے بھی ایک ذمہ دارانہ پالیسی اور طرز عمل کی ضرورت ہے جس میں قومی مفاد کی اہمیت سب سے زیادہ ہونی چاہیے۔ہفتم ہمیں افغانستان یا طالبان کے تناظر میں ایک توازن پر مبنی پالیسی درکا ر ہے جس میں ہمارا کردار معاونت کا ہی ہو او رہمیں خود کو ان کا ترجمان پیش کرنے کی بجائے ان کے مثبت یا منفی اقدامات کی تعریف او رتنقید دونوں کرنی ہوگی۔بھارت کا ایجنڈا یہ ہے کہ وہ پاکستان کو دنیا میں اس انداز سے پیش کرے کہ طالبان کے پیچھے پاکستان ہے اور جو کچھ افغانستان میں برا ہورہا ہے یا ہوگا اس کی ذمہ داری پاکستان پر ہی عائد ہوگی۔