این آر او سلیکٹڈ ہی کیوں؟

ہمارے یہاں لوٹے کی اصطلاح تو خوب رگیدی گئی ہے جسے سب جانتے ہیں اس کے علاوہ ایک اور ٹرم ہے ’بے پیندے کا گھڑا‘ یہ اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کی اپنی کوئی سوچ یا سوچ کی پختگی نہ ہو وقت یا حالات کا دھارا دیکھ کر کبھی ادھر لڑھک جائے اور کبھی ادھر۔

 اردو ادب میں ایسے ’نابغہ‘ کیلئے ابن الوقت کی پھبتی بھی کسی جاتی رہی ہے۔ ایک لفظ ’کہہ مکرنی‘ بھی ہے پنجابی ادب میں تو زیادہ سخت اسلوب ہے، ’اپنے تھوکے کو چاٹنا‘۔ لیکن فی زمانہ ڈھٹائی پر ایستادہ، کسی بھی ایسے شخص کیلئے اس کا استعمال ہوتا ہے جسے اپنی مطلب براری یا مفاد کیلئے گدھے کو باپ بنانے یا یوٹرن کا کنگ کہلانے میں ذرہ بھی شرم محسوس نہ ہوتی ہو۔ یہ تو خیر ہمارے عوام یا روز مرہ گلی کوچوں میں ہونے والی باتیں ہیں، ہمارے بلند وبالا کوچہ سیاست و صحافت میں عرصہ دراز سے ایک ٹرم کا خوب استعمال ہو رہا ہے اور وہ ہے: این آر او۔

جس کا اولین تذکرہ ان دنوں ہوا تھا جب ایک سابق ڈکٹیٹر نے اپنے مخصوص مفادات کے زیر اثر ہماری ایک بڑی عوامی قائد کو یہ تحفہ عنایت فرمایا تھا لیکن اس بہتی گنگا سے ہاتھ بڑے بڑے بیوروکریٹ نے بھی دھوئے کیوں نے تو خوب اشنان بھی فرمائے ۔

 گزشتہ تین برسوں میں بڑے حکومتی و سیاسی عہدے پر براجمان شخص کی طرف سے اس کا استعمال اس قدر شدید ہوا ہے کہ کئی کان تو یہ سن سن کر پک گئے ہوں گے کہ میں این آر او نہیں دوں گا میں کسی کو بھی این آر اونہیں دوں گا۔ یہ سارا سیاسی عدم استحکام اس وجہ سے ہے کہ میں کسی کو این آر او نہیں دے رہا مگر ان دعوؤں سے کیا فرق پڑتا ہے جب بندہ اس سوچ کا حامل ہو کہ بڑا لیڈر ہوتا ہی وہ ہے جو یوٹرن لیتے ہوئے کسی نوع کا کوئی حجاب محسوس نہ کرے۔ ہاتھی چونکہ بڑا جانور ہے اس لئے معلوم پڑ جاتا ہے کہ اس کے کھانے کے دانت وہ نہیں ہیں جو وہ دکھاتا ہے۔ سیاست میں چونکہ لچک ہوتی ہے ہونی بھی چاہئے نہ معلوم کب کہاں پینترا بدلنا پڑ جائے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کل کے دشمن آج کے دوست اور آج کے دوست کل کے دشمن بن سکتے ہیں۔

 کوئی ہمارے لئے جہاز بنا رہا ہے یا اے ٹی ایم مشین بیچ میں انکار کرنے کے بعد دوبارہ رجوع کر لیتا ہے تو این آر او کا استحقاق حاصل کر سکتا ہے۔ پنجاب کا کوئی بڑا ڈاکو بھی اگر ہمارے مفادات پورے کرتا ہے اسےاین آراوسے انکار کیسے ممکن ہے ؟ مگر اس علامیے کی گردان جاری رکھنے میں کیا حرج ہے کہ ہم کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔ یہ تو خیر35 پنکچرز جیسی باتیں تھیں اصل بات تو وہ ہے جو ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کو انٹرویو میں کہی گئی ہے اپنے کانوں سے سننے کے باوجود جس پر یقین نہیں آ رہا کہ یہ اتنی بڑی ذمہ داری پر براجمان شخص کی طرف سے کہی گئی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے جن گروپوں کے حوالے سے قوم کو پیہم یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ یہ سب انڈیا کے ایجنٹ یا آلہ کار ہیں جو پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کیلئے دہشت گردی کی وارداتیں کر رہے ہیں، یہ بیانیہ محض کمزور سیاسی قیادت یا اشاروں پر چلنے والوں کا نہیں تھا طاقتور بھی اس لب ولہجے کے ساتھ انہی الفاظ کا چناؤ کرتے چلے آ رہے ہیں۔

سولہ دسمبر 2014 کا پشاور سانحہ تو وہ قیامت صغریٰ تھی جس نے کتر کتر بولنے والے نوسر بازوں کی زبانیں بھی گنگ کر دیں۔ ما بعد بشمول اپوزیشن و حکومت عسکری و سیاسی قیادت بھر پور ڈائیلاگ ہوا، یوں قومی ایکا ہوا کہ اب پانی سر سے گزر چکا، بہت دی جا چکیں رعایتیں، بہت ہو چکے مذاکرات۔ ہرگز نہیں،  ایک ’میثاق قومی ‘ طے پایا جسے ’نیشنل ایکشن پلان ‘ کا نام دیا گیا۔ یہ جیسا محض فقرہ نہیں تھا ’ایکشن پلان‘ تھا، جو قومی اتفاق رائے سے پیش کیا گیا اس کے انطباق میں کوتاہیاں اپنی جگہ مگر اس کی اثبات پر کسی طرف سے بھی کسی نوع کی کوئی انگلی آج تک نہ اٹھی تھی۔ آج جب ٹی آر ٹی کے نمائندے سے ہونے والی یہ گفتگو سنی تو یاد آیا کہ ایک ڈکٹیٹر نے طالبان خاں کی جو پھبتی کسی تھی وہ کوئی مذاق نہ تھی۔

بھلے مانسو آپ اتنا بڑا یو ٹرن لے رہے ہو، قومی اتفاق رائے کو یوں ردی میں پھینک رہے ہو، کچھ تو قوم کو اور ان کی جیسی تیسی منتخب پارلیمینٹ کو اعتماد میں لے لو۔ قومی سیاست و دانش کا اس پر مباحثہ کروا لو۔ ایک طرف آپ پور ی دنیا کے سامنے ستر ہزار جانوں کے ٹسوے بہاتے ہو، قوم کو سروں کے فٹ بال دکھاتے ہو، برسوں سے یہ ساری دہشت گردی انڈیا کے کھاتے میں ڈالتے ہوئے انہیں انڈیا کی پراکسی بتاتے ہو ئے آپ کے گلے خشک نہیں ہوتے۔ لیکن ایک ہی سانس، جہت یا مہمیز میں آپ معافی ناموں کے ہار تھامے قاتلوں کے گلوں میں ڈالنے کیلئے بے چین ہو جاتے ہو کس برتے پر ؟

لاؤ ذرا حاجی گل بہادر کو نارتھ وزیر ستان میں اور مولوی فقیر محمد کو سوات میں بسا کر دکھاؤ تو دیکھو مقامی پختون کیا سلوک کرتے ہیں ؟ ذرا قوم کو یہ بھی بتاؤ کہ ماقبل آپ نے دہشت گردوں کے ساتھ کتنے معاہدے کئے کتنی رقوم دیں اور کیا ملا؟ آپ کے ان مس گائیڈڈ لوگوں نے کتنے گائیڈڈ حملے کئے ۔ آپ کس منہ سے پوری دنیا کے سامنے طالبان کے ترجمان بنے کھڑے ہو اور پوری دنیا سے یہ مطالبہ کر رہے ہو کہ ’ہماری ترجیح یہ ہے کہ امریکا ، یورپ، چین اور روس طالبان کی حکومت کو تسلیم کر لیں ‘۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکا طالبان حکومت کو کب تسلیم کرے، جلد یا بدیر انہیں یہ حکومت تسلیم کرنی پڑے گی۔ اگر امریکہ افغانستان کے اثاثے غیر منجمد نہیں کرتا اور یہ حکومت گر جاتی ہے تو نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ آئندہ برس تک 90فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے گر جائیں گے اور انسانی بحران پیدا ہو جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔

 سوال یہ ہے کہ اسے کمزور ترین سیٹ اپ کو آپ کس برتے پہ عظیم فتح اور غلامی کی زنجیریں ٹوٹنا قرار دے رہے ہیں ؟ یہ کیسے فاتحین ہیں جو اپنی بقا کیلئے مفتوحین سے امداد کی التجائیں کر رہے ہیں اور آپ ان کا ڈھول پیٹنے پر لگے ہوئے ہیں۔ چلیں پیٹیں مگر پھر دنیا ہمیں دوغلا کہے تو اس کا غصہ نہ کریں اور جن کے لئے ڈھول پیٹ رہے ہیں حالت یہ ہے کہ ان سے اتنا سا مطالبہ منوانے سے بھی قاصر ہیں کہ ہماری قوم پر آپ کی سرزمین سے کوئی دہشت گرد حملہ ہوا تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ امریکیوں نے تو گولیاں چلاتے ہوئے بھی یہ مطالبہ منوا لیا اور آپ پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے بھی اس سے قاصر ہیں۔ بے بسی کی یہ حالت ہے کہ اپنے بچوں کے قاتلوں کی حوالگی کا وہ مطالبہ کرنے کی بھی سکت نہیں جو اشرف غنی حکومت سے دن رات کیا جاتا تھا، وہ جو مودی کی یار حکومت تھی اس نے تو مودی کے ان ڈھائی ہزار ایجنٹوں کو جیلوں میں ڈال رکھا تھا اب جب آپ کی دلدار حکومت آئی ہے تو ان قاتلوں کو فوری رہائی ہی نہیں ملی ہے وہ اپنے ان افغان طالبان کےساتھ گھی او رشکر کی طرح فاتحین ہیں۔

نہ جانے کیوں ہمارے ان سیانوں کو اتنی بھی سمجھ نہیں ہے کہ یہ دونوں اور ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ یہ یہاں فضول نوعیت کا پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں گڈ طالبان بیڈ طالبان، جو افغان عوام کو قتل کریں وہ جہادی جو پاکستان پر حملے کریں وہ فسادی۔ مت بھولیں آپ کے ان مس گائیڈ ڈ میزائلوں کی ٹریننگ صرف اور صرف بم دھماکوں کی ہے۔ آنے والے برسوں نہیں مہینوں میں بہت سے حقائق کھل جائیں گے آپ جن ’شادمانیوں‘  کے خواب دیکھ رہے ہیں وہ بھی جلد شرمندہ تعبیر ہو جائیں گے۔ جو عقل کی بات کریں گے وہ امریکی و انڈین ایجنٹ قرار پائیں گے۔ دیگر کی یلغار آپ کے دشمنوں سے پہلے آپ پر ہو ۔

وطن عزیز کے  مہربانو! ان تلوں سے تیل نہیں نکلے گا۔ سیدھے سبھاؤ چلو، خارجہ پالیسی کی کجی آپ کیا ٹھیک کروگے، کم از کم داخلہ پالیسی ہی ٹھیک ہونے دو، آ ئین جس کے تحفظ کی آپ سب نے قسمیں اٹھا رکھی ہیں اس کی عظمت اور اس کی ماں یعنی پارلیمینٹ کی بالادستی کےسامنے غیر مشروط سرنگوں ہو جاؤ۔ نارمل اقوام کی طرح عوام کو اپنی پارلیمینٹ آپ منتخب کرنے دو۔ یہی سلامتی کا واحد راستہ ہے۔