دنیا طالبان کی عبوری حکومت سے رابطہ کرے: معید یوسف

  • جمعہ 08 / اکتوبر / 2021
  • 4250

مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے امریکی نائب سیکریٹری اسٹیٹ وینڈی شرمن سے ملاقات میں کہا ہے کہ عالمی برادری کو افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت سے رابطے قائم کرنے چاہئیں۔

 ملاقات کے دوران فریقین نے امریکا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقتصادی تعاون کے علاوہ خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر امریکی وفد نے افغان مہاجرین کو مدد فراہم کرنے اور افغانستان سے غیر ملکیوں کے انخلا میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ اپنے بیان میں معید یوسف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں سے علاقائی امن کو بھی خطرہ ہے۔

امریکی نائب سیکریٹری اسٹیٹ وینڈی آر شرمن نے وفد کے ہمراہ وزارتِ خارجہ کے دورہ کیا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے اس موقع پر کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کی جانب سے مثبت شمولیت، انسانی امداد، مالیاتی وسائل کی فراہمی اور افغان عوام کے مصائب کو دور کرنے کے لیے پائیدار معیشت کی تعمیر کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

افغانستان میں پرامن تصفیے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے نقطہ نظر میں ہم آہنگی موجود ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ افغانستان میں نیا سیٹ اپ امن اور استحکام کے علاوہ تمام افغان عوام کی بہتری کے لیے کام کرے گا۔ افغان عوام کی نمائندہ اور وسیع البنیاد حکومت، بین الاقوامی برادری کے لیے قابل اعتماد شراکت دار ہو سکتی ہے۔

امریکی نائب سیکریٹری اسٹیٹ نے پاکستان اور امریکا کے درمیان موسمیاتی تغیر اور متبادل توانائی کے حوالے سے دو طرفہ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کی تعریف کی۔ انہوں نے بلوچستان میں آنے والے زلزلے اور اس کے نتیجے میں ہونیوالے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان معاشی تعاون، علاقائی روابط کے فروغ اور خطے میں قیام امن کے لیے امریکا کے ساتھ وسیع البنیاد، طویل المیعاد اور پائیدار تعلقات کے قیام کا خواہاں ہے۔

پاکستان اور امریکا کے درمیان باقاعدہ اور منظم ڈائیلاگ کا عمل ہمارے دوطرفہ مفاد کے ساتھ ساتھ مشترکہ علاقائی مقاصد کو فروغ دینے کے لیے بہت ضروری ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی اہمیت پر زور دیا۔

واضح رہے کہ امریکی نائب سیکریٹری اسٹیٹ وینڈی شرمن 7 سے 8 اکتوبر 2021 تک پاکستان کا دورہ کر رہی ہیں۔ ان کا یہ دورہ 23 ستمبر 2021 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر وزیر خارجہ قریشی اور سیکریٹری اسٹیٹ بلنکن کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد ہو رہا ہے۔

امریکی نائب سیکریٹری اسٹیٹ کے دورے سے متعلق ایک سوال پر سینیئر سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ دورہ افغانستان کے تناظر میں اور خطے میں ہونے والی وسیع پیش رفت کے حوالے سے ایک انتہائی نازک وقت پر ہورہا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نےبھارت اور پاکستان دونوں کا ایک ہی وقت میں دورہ کرنے میں ہچکچاہٹ یا مظاہرہ نہیں کیا جو ماضی میں ہوتا تھا۔

اس سے قبل انہوں نے بھارت کا دورہ کیا تھا اور اس دوران متعدد دو طرفہ ملاقاتوں، سول سوسائٹی کی تقاریب اور انڈیا آئیڈیاز سمٹ میں شرکت کی۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں وینڈی شرمن سیکریٹری اسٹیٹ انٹونی بلنکن کے بعد سینیئر ترین عہدیدار ہیں۔ صدر جو بائیڈن کے اقتدار کے دوران کابل میں طالبان کی کامیابی کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والی سینیئر ترین امریکی عہدیدار ہیں۔