اصول پسندی یا ڈنگ ٹپاؤ پالیسی؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 08 / اکتوبر / 2021
- 10300
ہماری مدنی ریاست کے جدید معماروں یا دعویداروں پر لوگ نہ جانے کیوں ہمہ وقت طرح طرح کے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہتے ہیں، خاص طور پر میڈیا جس کے متعلق بڑے معمار یا دعویدار کا گمان ہے کہ ستر فیصد ہمارے خلاف ہی ہے۔ ہماری برائیاں تلاش کرتا رہتا ہے، ہماری پالیسیوں پر ہر پل تنقید کرتا ہے۔ حالانکہ ہمارا مشن تو کام، کام اور بس کام ہے۔
ہم نے نئے پاکستان کے لئے جو کرنا ہوتا ہے، وہ ہر نئی صبح اور نئی شام کر لیتے ہیں۔ اگر اس کو کوئی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کہتا ہے تو شوق سے کہہ لے ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لئے کہ جو بڑے لوگ ہوئے ہیں، جرمن ہٹلر سے لے کر ما بدولت تک، وہ قواعد و ضوابط اور نام نہاد طے شدہ پالیسیوں یا اصولوں کے پابند نہیں ہوتے۔ عظیم دانشور میکیاولی نے کیا خوب فرمایا ہے کہ اپنے حکومتی استحکام کے لئے انہیں اگر مہینے میں تیس مرتبہ یوٹرن بھی لینا پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
میڈیا والے تو فارغ لوگ ہیں، ہر وقت دوسروں کی برائیاں تلاش کرتے رہتے ہیں حالانکہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ دوسروں کی اچھی باتیں تلاش کرو۔ لیکن کیا کریں جیسا ذہن ہو ویسی کی چیزیں ڈھونڈی جاتی ہیں۔ ان لوگوں کو اخلاقیات کے اعلیٰ تقاضوں کا سوچنا چاہیے۔ یہ کہ کسی کی کوئی ایسی ویسی بات سامنے آ بھی جائے تو اس کی پردہ پوشی کرو۔ ہمارے توشاخانے میں اتنا کچھ پڑا ہوا ہے، کیا فرق پڑتا ہے۔ اگر کچھ گولڈ کی چیزیں رعایتی قیمت پر خرید لی جائیں یا سیال سونا بیچنے والوں کی دی ہوئی گھڑی صرف چھ کروڑ میں فروخت کر دی جائے ۔ اگر اس کی قیمت دگنی بھی تھی، ہم نے تو کوئی لالچ نہیں کیا، جتنے ملے انہی پر صبر شکر کر لیا۔ اور پھر ان کا تیل بھی تو زمین سے اسی طرح نکلتا ہے جس طرح ہماری سرزمین سے پانی۔ ان لایعنی باتوں کے تذکرے کرکے ہم اپنے دوستوں کو کیوں ناراض کریں۔
کئی فارغ لوگ مہنگائی کا رونا لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے ملک میں چیزیں جس قدرسستی دستیاب ہیں پوری دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ پٹرول ہی کو لے لیں جس کو یہ لوگ پٹرول بم کہہ کر اس کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ اس خطے کے دیگر ممالک میں اس وقت پٹرول کی کیا قیمتیں ہیں، ذرا ان کی تفصیلات تو جمع کریں۔ آپ کو لگے گا کہ یہ تو یہاں مفت میں مل رہا ہے۔ اس پر سادگی سے کہہ دیا جاتا ہے کہ ڈالر یا پاؤنڈ کے مقابلے میں ہماری کرنسی کی ویلیو کم ہو گئی ہے۔ بھلے لوگو ذرا میرے ان پاکستانیوں سے پوچھو جو گھروں سے بے گھر ہو کر پردیس میں محنت اور جانفشانی سے ڈالرز اور پائونڈز کماتے ہیں اور پاکستان میں اپنے گھر والوں کو بھیجتے ہیں۔ ان کے پورے پورے گھرانوں کو کتنی خوشی ملتی ہے، جب انہیں ایک ایک کے ڈیڑھ، پونے دو اور ڈھائی ڈھائی سو ملتے ہیں۔ اس پر میرے سمندر پار پاکستانیوں کو جو خوشی ہوتی ہے سو ہوتی ہے، یہاں وطن میں بسنے والے پاکستانیوں کے منہ سے میرے لئے ڈھیروں دعائیں نکلتی ہیں۔
یہ لوگ کبھی شوگر مافیا اور کبھی آٹا مافیا کی کہانیاں بیان کرنے لگتے ہیں حالانکہ ان مافیاز کو ہم نے تو نہیں بنایا، یہ تو پہلے کے بنے چلے آ رہے ہیں۔ ہم نے تو ان کے خلاف تحقیقات کرتے ہوئے کسی ریاعت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان لوگوں نے اعلیٰ ترین گروپ بنایا، ہم پھر بھی ان کے آگے نہیں جھکے ہیں۔ پورے کرتب کے ساتھ اس گروپ کے بندوں کو توڑا ہے، ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ یہ کوئی ایسی بات تو نہ تھی جس پر انہیں پھانسی لگا دی جاتی۔ پھانسی تو انہیں لگنی چاہیے جو ہماری حکومت میں رہتے ہوئے پچھلی کرپٹ حکومتوں کی تعریفیں کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں نے ان دنوں پنڈورا پیپرز کے نام پر نیا پنڈورا باکس کھول دیاہے۔ حالانکہ ہماری حکومت میں ایسے اللوں تللوں کی ضرورت تھی، نہ ہمارے پاس ان فضولیات کے لئے کوئی وقت ہے۔ ہم نے تو اس حوالے سے تحقیقاتی سیل تشکیل دے دیا ہے جس میں ایف بی آر اور ایف آئی اے کے نمائندے شامل ہوں گے۔ اور فروغ صاحب اس کا بہتر طریق کار وضع کر لیں گے کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کن پر پکا ہاتھ ڈالنا ہے اور کن پر ہاتھ ہولا رکھنا ہے۔
پاناما لیکس میں بھی تو نام چار سو لوگوں کا نکلا تھا لیکن وسیع تر قومی مفاد میں ہاتھ ڈالنا ایک پر ہی بنتا تھا۔ سو ہم نے کتنی خوبصورتی کے ساتھ ڈالا اور وہ کہتا ہی رہ گیا کہ مجھے کیوں نکالا؟ اب کے حالات مختلف ہیں۔ ہمارے اتنے وزرا ہیں جن کے نام لئے جا رہے ہیں اور کچھ نام ایسی مقدس ہستیوں کے ہیں جن کو زبان پر لانا بھی توہین کے زمرے میں آئے گا۔ لہٰذا ہمارے آزاد قومی میڈیا کو بھی اس حوالے سے احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہی تقوی کا اعلیٰ ترین تقاضا ہے۔ عوام کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اب وقت بدل چکا ہے، سات سو معززین کی پکڑ دھکڑ تو ممکن ہی نہیں ہے اس سے خوامخواہ خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گا۔ یہ لوگ تو چاہتے ہیں یہاں انارکی پھیلے مگر حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ حالات پر کنٹرول رکھے تاکہ امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ لوگوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے جس شخص کو پاناما میں رگڑا لگایا گیا تھا، اس کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے اپنے لندن فلیٹس ڈکلیئر نہیں کئے تھے۔ اب کے تو ایسی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ لندن چھوڑ دبئی کے فلیٹس بھی سامنے نہیں آ سکے ہیں۔
وقت کے ساتھ قومی تقاضے بدلتے رہتے ہیں۔ فقہ کا واضح اصول ہے کہ حالات بدلنے سے حکم بھی بدل جاتا ہے۔ جس شخص نے داخلہ کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسیاں بدلنے کے لئے ناجائز طور پر ہاتھ پاؤں مارے، پینٹاگان سے اختیارات چھین کر دفتر خارجہ کو تفویض کرنے کی سعی لاحاصل کی اورپھر محض اسی پر اکتفا نہیں کیا، پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے وزیراعظم مودی کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائیں، اسے پاناما یا پھر اقاما میں کیوں قابو نہ کیا جاتا۔ اب ان کرپٹ لوگوں نے ہمارے اوپر تنقید کا ایک اور بہانہ ڈھونڈھ لیا ہے۔ چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے۔ ہم وقت کے حکمران ہیں جس کو چاہیں چیئرمین بنائیں یا نہ بنائیں۔ یہ کون ہوتے ہیں ہمیں ڈکٹیشن دینے والے۔ موجودہ چیئرمین نیب جیسا شریف نیک، پرہیز گار شخص کوئی دوسرا پاکستان میں آج تک پیدا نہیں ہوا۔ اگر اس کی کوئی کمزوری ہمارے ہاتھ آ بھی گئی ہے تو اس میں ایسی کوئی بڑی بات نہیں، وہ تو اس کے بغیر بھی انہیں نتھ ڈالے ہوئے تھا۔ اگر ہم اسے اس احتسابی عہدے پر براجمان رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے طریقے بھی آتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف کون ہوتا ہے، ہمیں روکنے والا یا مشاورت پر مجبور کرنے والا۔ اگر کوئی ایسا کالا قانون بنا بھی تھا جو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان شخص کو مجبور کرتا تھا کہ وہ اپوزیشن رہنما سے مشاورت کرے تو ہم نے بڑے سلیقے سے اس قانون کے دانت توڑ دیے ہیں۔
مہربانوں کی نئی تقرریوں پربھی یہ لوگ زیادہ خوش نہ ہوں۔ جب ہم نے اپنے مہربانوں کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی ہے اور ان کی کسی بات کو نیچے آنے ہی نہیں دینا تو پھر ساتوں خیریں ہمارے ساتھ ہیں۔ اگر اوپر والے کا فیصلہ ہو گیا کہ ہم نے اگلی ٹرم میں بھی یہیں رہنا ہے تو پھر دیکھتے ہیں کون ہمیں ترچھی نظروں سے دیکھتا ہے۔ ہم کسی پالیسی والیسی کے پابند یا محتاج نہیں ہیں جو ہم کہیں یا کریں بس وہی ہماری پالیسی ہے، کوئی ہمیں ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ مکانات کے طعنے نہ دے، ہم ایک کروڑ سے کہیں زیادہ نوکریاں دے چکے ہیں۔ لنگر خانوں کی صورت میں مکانات کا وعدہ بھی جلد پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
یہ جو ہم نے اربوں درخت لگائے ہیں ان کے بعد تو کوئی سوال بنتا ہی نہیں ہے۔ جسے شک ہے، وہ بے شک کے پی کے میں جا کر تمام درختوں کی گنتی مکمل کر لے۔ ہم باتوں پر نہیں، عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ کام، کام اور بس کام۔