افغانستان میں نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں دھماکہ، 100 سے زائد افراد ہلاک و زخمی

  • ہفتہ 09 / اکتوبر / 2021
  • 4690

افغانستان کے شمالی صوبے قندوز میں ایک مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران دھماکہ ہوا ہے جس سے 100 سے زائد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکہ اہلِ تشیع کی مسجد میں اس وقت ہوا جب جمعے کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔ دھماکے کے حوالے سے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کا کہنا ہے کہ قندوز میں ہونے والے دھماکے کے فوری بعد ٹراما سینٹر میں ہنگامی حالات نافذ کر دیے گئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کے افغانستان سے متعلق معاونت کے مشن کا کہنا ہے کہ قندوز میں دھماکے میں ہونے والی بڑی تعداد میں اموات پر شدید تشویش ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک بیان میں اقوامِ متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ قندوز کے علاقے خان آباد میں ہونے والے دھماکے میں ابتدائی طور پر 100 افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ دھماکہ مسجد کے اندر ہوا ہے۔

بیان کے مطابق ایک ہفتے میں یہ تیسرا ہلاکت خیز حملہ ہے جس میں کسی مذہبی مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اتوار کو داعش نے کابل میں مسجد کے باہر ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس کے بعد خوست میں ایک مدرسے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ جمعے کو ہونے والے دھماکے کی نوعیت واضح نہیں ہو سکی ہے جب کہ اس کی ذمہ داری بھی فوری طور پر کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔ عینی شاہدین نے ’اے پی‘ کو بتایا کہ مسجد میں نماز ادا کی جا رہی تھی جب انہوں نے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی۔ طالبان نے بھی مسجد میں ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

یہ دھماکے طالبان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔ قبل ازیں طالبان بھی 20 سالہ افغان جنگ کے دوران اس طرح کے حملے کرتے رہے ہیں جب کہ داعش نے بھی حملوں کا وہی طریقہ اختیار کیا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں طالبان دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ افغانستان میں داعش موجود نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ داعش کے نام سے افغانستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کا شام اور عراق میں لڑنے والوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد کا دعویٰ تھا کہ داعش کی افغانستان میں حقیقی موجودگی نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ، جو افغان ہوں، داعش کا نظریہ اپنا چکے ہوں، البتہ یہ نظریہ افغانستان میں نہ تو مقبول ہے اور نہ ہی اسے افغان باشندوں کی حمایت حاصل ہے۔