پاک امریکہ مذاکرات افغانستان کی صورت حال تک محدود رہے

  • ہفتہ 09 / اکتوبر / 2021
  • 3380

اسلام آباد میں مذاکرات کے تازہ ترین دور کے بعد امریکا اور پاکستان نے وسیع البنیاد تعلقات بحال کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ فریقین کی ساری توجہ افغانستان پر مرکوز رہی۔

امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی آرشرمن مذاکرات کے لیے جمعرات کو اسلام آباد پہنچی تھیں۔ دورے کے دوران گفت و شنید کا محور افغانستان کی موجودہ صورت حال رہی اور کابل کے نئے طالبان حکمرانوں کے لیے مربوط نقطہ نظر تیار کرنے کی واشنگٹن کی کوششوں پر توجہ دی گئی۔

اعلیٰ امریکی سفارت کار نے پاکستانی دارالحکومت میں اپنے دو روزہ قیام کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ ان کی وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات متوقع تھی لیکن ملاقات نہیں ہوسکی۔

جمعے کو محکمہ خارجہ نے اسلام آباد میں وینڈی آرشرمن کی مصروفیات کے بارے میں دو بیانات جاری کیے جو کہ امریکا پاکستان مذاکرات میں افغان مسئلے کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں وینڈی آرشرمن نے دوطرفہ تعاون کے شعبوں، امریکا پاکستان تعلقات کی اہمیت اور افغانستان میں آگے بڑھنے کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔

ڈپٹی سیکریٹری وینڈی آرشرمن نے افغانستان کے لیے مربوط نقطہ نظر کی اہمیت اور علاقائی استحکام کے لیے ضروری دیگر امور پر بھی زور دیا۔ وینڈی آرشرمن کی معید یوسف سے ملاقات کے بارے میں ایک اور مختصر بیان میں کہا گیا کہ دونوں عہدیداروں نے ’افغانستان میں پیش رفت اور دوطرفہ تعلقات میں تعاون کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا‘۔

اسلام آباد میں ایک نیوز بریفنگ میں وینڈی آرشرمن نے کہا کہ یہ خاص دورہ افغانستان میں رونما ہونے والی سیاسی صورتحال کے پیش نظر ضروری تھا تاکہ اس پر سیرحاصل مشاورت ہو۔

وینڈی آرشرمن کی بات سے اس امر کی تصدیق ہوتی کہ امریکا اب پاکستان کے ساتھ ’وسیع البنیاد تعلقات‘  کے تناظر میں نہیں دیکھتا۔ وہ اپنے دورہِ پاکستان میں’مخصوص اور محدود مقصد‘ رکھتی ہیں جس کا تعلق افغانستان سے ہے۔

امریکہ کی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمن نے کہا کہ افغان طالبان کو وعدوں کی پاسداری کے لیے جواب دہ ٹھہرانا ضروری ہے۔ پاکستانی عہدیداروں سے ملاقات کے بعد ایک ویڈیو بیان میں امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک ایسا مستحکم اور شراکت داری پر مبنی افغانستان سب کے مفاد میں ہے جو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناگاہ نہ بن سکے۔

امریکی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم افغان عوام اور ہر جگہ انسانی وقار اور خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے انسانی حقوق کی حمایت کے لیے مل کر کام کریں گے۔ پاکستانی عہدیداروں سے بات چیت کا محور اگرچہ افغانستان رہا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ موسمیاتی بحران، جیو اکنامکس اور علاقائی رابطوں اور کرونا وائرس کی وبا کے خاتمے کے لیے تعاون پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو رواں سال کرونا ویکسن کی ایک کروڑ 60 لاکھ خوراک عطیہ کیں جبکہ مزید 96 لاکھ خوراکیں جلد پاکستان پہنچ جائیں گی۔

اس سے قبل بھارت کا دورہ مکمل کرنے کے بعد، وینڈی شرمن اسلام آباد پہنچیں جہاں انہوں نے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق وینڈی شرمن اور شاہ محمود قریشی کی اس ملاقات میں افغانستان کی صورتِ حال، علاقائی امن و امان اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔