بے برکتی کا سفر

2021 :  پندوڑا پیپرز  میں 700 کے لگ بھگ پاکستانیوں  کے ناموں  کا انکشاف سب کو  حیران کر گیا۔ اس فہرست میں حکومتی وزرا، ان کے رشتہ داروں، سیاست دان،   چند  میڈیا مالکان،   کاروباری، ریٹائرڈ  جنرلز اور ان کے رشتہ داروں   کے نام سامنے آنے پر  میڈیا میں کافی شور مچا۔

 وزیر اعظم عمران خان نے  فوری طور پر  ایک اعلی لیول کا سیل قائم  کر دیا   جو  جائزہ لے گا کہ ان  افراد نے کیا بے ضابطگی  کی۔ وزیر قانون اس  سیل کے سربراہ ہوں گے۔

2016 : پانامہ پیپرز میں  دو سو پاکستانیوں کے نام  شامل تھے جن میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی فیملی کا بھی  نام  شامل تھا۔  مگر ہوا کچھ یوں کہ ان دو سو افراد  میں سے لے دے کر  شریف  خاندان  پر ہی ساری توجہ مرکوز رہی۔  سبھی سیاسی پارٹیوں  نے  تنقیدی توپوں کے دہانے وزیر اعظم نوز شریف کی جانب موڑ دیے  لیکن  مولوی مدن کی سی بات صرف پی ٹی آئی سے ہی بن پائی، وزیر اعظم سے استعفے کے مطالبے میں لمحہ بھر بھی  تاخیر  نہ کی۔  وزیر اعظم   کی جانب سے انکار  کے بعد دھرنا  پلان  کابھی  اعلان  کر دیا گیا۔  باقی جو ہوا وہ سب تاریخ اور ہماری یادوں  میں تازہ ہے۔

 ایک ہی جیسی واردات اور الزامات پرآج کے  وزیر اعظم عمران خان کے رویہ کا  واضح  فرق سامنے آیا۔ اپنے ترجمانوں کے ساتھ ایک طویل نشست میں پندوڑا پیپرز پر تفصیلی بحث ہوئی۔ وزیر اعظم کا  اصرار تھا کہ  جن  جن کے نام   آئے ہیں انہیں اپنی اپنی پوزیشن کو کلئیر کروانا ہوگی۔  وقت اور اقتدار کی مصلحتیں  انسان کو  کیا کیا سکھا دیتی ہیں،  پانچ سالوں کے وقفے میں  وزیر اعظم  کی فیملی کے نام آنے پر  ان  کے استعفیٰ سے کم پر راضی نہ ہونے والا  اب خود بطور وزیر اعظم اس پر راضی ہے کہ جن کے نام شامل ہیں وہ اپنے اپنے نام کلئیر کروائیں  اور  بس!

ہماری مجموعی بد قسمتی ہے کہ سیاست  جس طرح شخصیات کے گرد گھوم رہی ہے،  کسی بھی معاملے میں سیاست دانوں کی دلچسپی  مخالفین کو پچھاڑنے کی حد تک رہتی ہے، معاملے کی  تہہ میں  اترنے اور  برائی کو جڑ سے اکھاڑنے میں کسی کی دلچسپی نہیں۔  2016 کے سیاسی ماحول میں نواز شریف کی فیملی کے نام  سے جُڑے معاملات پر پارلیمنٹ  میں دھواں دھار بحث ہوئی، جے آئی ٹی بنی، سپریم کورٹ کی دہلیز پر جے آئی ٹی کے دس والیومز کی   شکل میں استغاثہ  نے کیس پیش کیا۔ فیصلہ سامنے آیا تو اقامہ  پوشیدگی اور ممکنہ آمدن چھپانے کی سزا کے طور پر وزیر اعظم نواز شریف کی نا اہلی ہوگئی۔  اس ایک  کیس کے علاوہ بقیہ دو سو افراد کے بارے  میں نیم دلی کے ساتھ ایف بی آر نے نوٹس بھیجے، آدھے  بغیر  ڈیلیوری  واپس  آ گئے، جو  ڈیلیور ہوئے ان کے جواب  ٌ  سوال گندم جواب چنا  ٌ  پر مشتمل تھے، کچھ نے  تو  جواب میں چَنے کی وضاحت بھی  ضروری نہ سمجھی،  اِدھر   اُدھر کی  بات بنا کر بات ٹال دی، اللہ خیر صلّا۔

ا ب کی بار پندوڑا پیپرز میں زمان پارک لاہور  میں وزیر اعظم عمران خان کی رہائش گاہ  سے ملتے جلتے ایڈریس کی ممکنہ موجودگی نے رپورٹ کے باقاعدہ اجرا سے پہلے الزامات کی منڈی میں خوب رونق  لگائے رکھی۔  تفصیلات سامنے آئیں تو وزیر اعظم یا ان کی فیملی کا نام شامل نہ تھا، البتہ ان کے پارٹی کے کئی  سینئیر وزرا کے نام ضرور شامل تھے جس پر  ن لیگ نے  2016  کی یاد تازہ کروائی۔ پی پی پی کے  اپنے چند سرکردہ ناموں کی شمولیت کے باوصف ان کی جانب سے الزامات کی بوچھاڑ  رسم نبھانے  کی حد تک رہی۔  جے  آئی ٹی بنوانے  اور اعلیٰ عدالتوں کی دہلیز پر انصاف کی دہائی دینے کوئی پہنچا، نہ  ابھی تک  کسی فریق کا ایسا موڈ بنا ہے۔  ایسے  میں میڈیا پر چند دن رونق  ضرور لگی  مگر  کرپشن کے ناسور،  رولنگ ایلیٹ کی  بے حسی،  لالچ اور بوسیدہ نظام  کی  درستی کے بارے میں کسی کا  کوئی فکر فاقہ  سامنے نہیں  آیا۔ رات گئی بات گئی کی طرح  دو چار دنوں   میں ہی   پنڈوڑا پیپرز میڈیا کی ہیڈ لائنز سے غائب  ہو گئے۔  ہیڈ لائنز پر اب   نیب آرڈی نینس  چھایا ہوا  ہے۔

یہ بے حسی اور  بے نیازی ہمارے سیاسی کلچر  او ر  سماجی مزاج کا  عمومی خاصا  بن چکی ہے۔ پانامہ پیپرز سامنے آنے پر اپنے ایک کالم میں ہم  نے اس بے حسی کا ماتم کیا  تھا۔  ایک نظر دوبارہ اس کالم پر ڈالی تو یوں لگا کہ ان پانچ سالوں میں  زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد والا معاملہ  رہا ہے۔ 15 اپریل 2016 کو انہی صفحات پر لکھے گے کالم سے یاد  دہانی کے لئے  دو اقتباسات۔ان انکشافات  میں  وہی تصویر ہے  جسے ہم دیکھنے سے گریز  کرتے ہیں۔ پانامہ لیکس کی مہربانی سے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار ہو ئی کہ ہماری    اشرافیہ کا پاؤں یہاں   مگر دولت کا  وافر حصہ کہیں اور پارک ہے۔  اگر یہ دولت مند اشرافیہ ٹیکس  نہیں دیں گے، اپنی دولت کو معیشت میں گردش  کا موقع نہیں دیں گے تو  اور کون یہ جرات کرے گا۔  بلیک اکونومی کا سائز  بڑھتے بڑھتے مجموعی معیشت کا ساٹھ فی صد ہو چکا ہے، یہ بلیک اکونومی  ہمارا پنا پیدا کردہ پانامہ ہے۔

 ہمارے کایاں سیاست دانوں نے  پانامہ پیپرز میں فقط  اپنے مطلب کی بات  پکڑی باقی لیکس تو  بس افسانہ بن کر رہ  گئی ہے۔  کسے پریشانی ہے کہ سات سمندر پار پانامہ سے  کہیں بڑا پانامہ  ہماری اپنی ناک کے نیچے موجود ہے، اور کئی دِہائیوں سے موجو دہے، کچھ شور شرابا اس پر بھی بنتا ہے کہ نہیں۔

اس بار بھی یہی کچھ ہوا، چند دن الزامات کا شور مچا، ن لیگ نے پی ٹی آئی کو 2016 کا  اپنا چلن اور اخلاقی بیانیہ یاد کروایا، پی ٹی آئی نے  انوسٹی گیشن کے لئے ایک سیل بنا کر معاملہ نمٹا دیا۔ ن لیگ نے بھی اس وقت ایک  جوڈیشل کمیشن بنا کر معاملہ نمٹانا چاہا تھا مگر   وہ ہو  نہ سکا۔ دائروں کے مسافر اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟  اور یہ بھی کہ دائروں  میں سفر ایسے ہی کٹتے ہیں،  بے برکت، بے روح اور رائیگاں۔ جون ایلیا یاد آئے:

اب فقط عادتوں کی ورزش ہے

روح شامل نہیں شکایت میں