ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کردیا گیا

  • اتوار 10 / اکتوبر / 2021
  • 5120

پاکستان کے جوہری پوگرام کا آغاز کرنے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سرکاری اعزاز کے ساتھ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایچ 8 قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا ہے۔ گزشتہ شب ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

نامور پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان طویل علالت کے 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کی نماز جنازہ اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ادا کی گئی تھی۔ نماز جنازہ کی امامت پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی نے کی جس میں قائم مقام صدر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے علاوہ سول و ملٹری حکام اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

جنازے کے وقت اسلام آباد میں تیز بارش کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث عوام کو جنازہ گاہ پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود عوام کی بڑی تعداد اپنے قومی ہیرو کو الوداع کہنے کے لیے فیصل مسجد پہنچی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جسدِ خاکی کو قومی پرچم میں لپیٹا گیا اور نماز جنازہ سے قبل انہیں پاک فوج کے دستے کی جانب سے سلامی بھی پیش کی گئی۔ اس موقع پر فیصل مسجد کے اطراف اور اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

نماز جنازہ میں شرکت کے لیے وفاقی دارالحکومت کے قریبی شہروں سے بھی عوام کی بڑی تعداد پہنچی جبکہ کچھ شہروں میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کی نمازِ جنازہ ادا ہونے کے بعد وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کی نماز جنازہ میں آمد سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ قوم اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتی۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان طویل عرصے سے علیل تھے اور طبیعت بگڑنے پر انہیں آج صبح ہی اسلام آباد کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے تمام اراکین کو محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی ہدایت کی تھی۔

وزیر داخلہ شیخ رشید نے بتایا تھا کہ آرمی چیف جنرل جاوید باجوہ سمیت بحریہ اور فضائیہ کے اعلیٰ افسران بھی نماز جنازہ میں شریک ہوں گے۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ معروف سائنسدان کو ان کی خواہش کے مطابق فیصل مسجد کے احاطے میں ہی سپرد خاک کیا جائے گا تاہم ان کے اہلِ خانہ کی خواہش پر اسلام آباد کے سیکٹر ایف8 میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی تدفین کی گئی۔

محسنِ پاکستان کے انتقال پر حکومت پاکستان کی جانب سے قومی پرچم بھی سرنگوں رکھا گیا ہے۔ ان کی وفات پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری سمیت سیاسی رہنماؤں اور اہم شخصیات نے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار بھی کیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان 27 اپریل 1936 کو متحدہ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے اور برصغیر کی تقسیم کے بعد 1947 میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آگئے تھے۔ نیوکلیئر فزکسٹ اور میٹلرجیکل انجینئر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملکی دفاع کو نا قابل تسخیر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جب کہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے بعد وطن واپسی پر 1976 میں انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی، جس کا 1981 میں جنرل ضیاالحق نے نام تبدیل کرکے ’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھا۔ پاکستان میں ایٹمی پروگرام سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا، جنہیں مختلف حکمرانوں نے آگے بڑھایا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر کی سربراہی میں ہی پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے جواب میں مئی 1998 میں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دوران کامیاب ایٹمی تجربہ کیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کی خدمات کے عوض حکومت پاکستان نے 14 اگست 1996 کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز جبکہ 1989 میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی عطا کیا تھا۔

انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران ایک درجن سے زائد طلائی تمغے بھی حاصل کیے جب کہ انہیں متعدد ملکی و عالمی خصوصی ایوارڈز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

ان کی خدمات کے عوض 1993 میں انہیں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند بھی دی تھی جب کہ ڈاؤ یونیورسٹی ہسپتال میں ان کے نام سے سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کئی تنازعات کا شکار ہوئے۔ پہلے ان پر ہالینڈ سے ایٹمی معلومات چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا، جس سے وہ باعزت بری ہوئے۔ 2004 میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں حساس معلومات دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کی چارج شیٹ لگائی گئی، جس پر انہیں اپنے گھر میں نظر بندی کا سامنا کرنا پڑا۔

عدالت اور عوامی رد عمل پر ان کی نظربندی کچھ عرصے بعد ختم کردی تھی، مگر اس کے باوجود باقہ ماندہ زندگی انہیں گھر تک ہی محدود رہنا پڑا۔