ہندو انتہا پسندی کا چیلنج
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 10 / اکتوبر / 2021
- 4330
بھارت بنیادی طور پر اپنے آئینی، قانونی اور سیاسی فریم ورک میں ایک سیکولر ریاست ہے۔لیکن عملی طور پر اس وقت بھارت کی جو تصویر ہم کو دنیا بھر میں نظر آرہی ہے یا بالادست ہے وہ ہندواتہ کی بنیاد پر سیاست او رانتہا پسندی پر مبنی رجحانات ہیں۔
بی جے پی، آرایس ایس سمیت دیگر ہندو انتہا پسند جماعتوں کی سیاست نے مودی کی قیادت میں اقلیتوں کے لیے سنگین مشکلات پیدا کردی ہیں۔انتہا پسندی پر مبنی یہ رجحان محض بھارت کے لیے ہی نہیں بلکہ خطہ کی مجموعی سیاست کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔خود بھارت میں موجود سیکولر سیاست سے جڑے افراد یا ادارے مودی کی انتہا پسندی کی سیاست پر بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھارہے ہیں او ران کے بقول اگر مودی کی انتہا پسندی پر مبنی پالیسی کا یہ عمل جارہ رہا تو ہم داخلی محاذ پر خود کو تنہا محسوس کریں گے۔اس وقت بھارت میں انتہا پسندوں اور سیکولر طبقہ کے درمیان جاری سیاسی رسہ کشی ظاہرکرتی ہے کہ اس بحران نے مودی کی حکمرانی اور طرز عمل کو بھی چیلنج کیا ہے۔
حال ہی میں فرانسیسی مصنف کرسٹوف جیفرلاٹ جو کنگز کالج لندن میں بھارتی سیاست اور سماجیات کے پروفیسر ہیں کی کتاب شائع ہوئی ہے۔ کتاب کا نام
Modi's India: Hindu Nationalism and the Rise of Ethnic Democracy
)مودی کا ہندوستان:ہندو قوم پرستی اور نسل پرستانہ جمہوریت کا ظہور(ہے۔اس کتاب میں ا ن کے بقول ہندو انتہا پسند قوم پرست سیلف سنسر شپ کے لیے طرح طرح کے منفی ہتکھنڈے استعمال کررہی ہے۔ بھارت میں ہندواتہ کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو ملک و قوم دشمنی اور غداری سے جوڑا جاتا ہے۔اسی طرح اسرائیلی اخبار ہارٹز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایک طرف تو بھارتی وزیر اعظم نریند ر مودی اسلامی انتہا پسندی کے خطرے کے بارے میں دنیا بھر کے سربراہوں سے گفتگو کررہے ہیں لیکن بھارت کو لاحق حقیقی خطرہ انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے ہے جن کی بدتمیزیوں او راسلام مخالف تعصب سے خود مودی کی اپنی جماعت بھی محفوظ نہیں ہے۔روزنامہ ایکسپریس کے اداریہ کے بقول امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی جاری کردہ رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ہندو انتہا پسند مظالم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔انتہا پسند وں کی جانب سے کسی بھی شخص کو گاؤ کشی کے الزام میں قتل کیا جاسکتا ہے، اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، غیر ہندووں کی آبادیوں پر حملے ہوتے ہیں او ر اعلی بھارتی حکام خود انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہیں۔
بنیادی طور پر نریندر مودی ہندتوا کو اپنی سیاست او رانتخابات میں سیاسی کارڈ سمجھتے ہیں۔ان کے بقول اگر وہ سیاست اور اقتدار میں کامیاب ہونگے تو ان کی ہتھیار یہ ہی ہندو انتہا پسندی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت جو بھی بھارت میں ہندو انتہا پسندی کے نام پر ہورہا ہے او رجو بھی انتہا پسند عناصر وہاں اقلیتوں او رمسلموں کے خلاف کررہے ہیں ان کو نہ صرف مودی حکومت بلکہ ایک سطح پر ریاست کی سطح پر سرپرستی بھی شامل ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج بھارت میں انتہا پسند ہندو ماضی کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور ہوگئے ہیں او ران کو لگتا ہے کہ مودی حمایت کے ساتھ ہی وہ اپنا ہندوتوا کا ایجنڈا بھارت پر مسلط کرسکتے ہیں۔ انتہا پسند ہندو برملا یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ جس نے بھی بھارت میں رہنا ہے اسے ہندوتوا کی سیاست او راجارہ داری کو قبول کرنا ہوگا۔بھارت کے یہ انتہا پسند ہندو اور ان کے سرپرست نریند ر مودی برملا کہتے ہیں کہ ہم سیکولر ریاست کے مقابلے میں ہندو ریاست چاہتے ہیں۔
پاکستان کی ریاست کئی دہائیوں تک مسلم انتہا پسندی کا شکار رہی ہے اور آج بھی اس کی شکلیں کسی نہ کسی سطح پرموجود ہیں۔ لیکن پاکستان نے جس حکمت عملی کے ساتھ انتہا پسندی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دہشت گردی سے نمٹنے کی جو جنگ لڑی ہے اس کی کامیابی کا ہر سطح پر اعتراف کیاجانا چاہیے۔ اگرچہ یہ جنگ ابھی موجود ہے لیکن ماضی کی شکل سے بہت مختلف ہے او رہم نے کافی حد تک اس جنگ میں خود کو سرخرو کیا ہے۔ یہ جنگ بدستورلڑی بھی جارہی ہے اور نیشنل ایکشن پلان، پیغام پاکستان، دختران پاکستان سمیت ہائبرڈ وار سے نمٹنا ہی اس جنگ کا حصہ ہے۔لیکن ہمارے مقابلے میں بھارت اب جس تیزی سے مذہبی انتہا پسندی کی جانب بڑھ رہا ہے وہ بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ لیکن لگتا یہ ہے کہ مودی حکومت نہ تو اپنے تجربات سے کچھ سیکھنا چاہتی ہے او رنہ ہی دنیا کے تجربات سے کچھ سیکھ کر انتہا پسندی کے مقابلے میں امن اور رواداری کی سیاست کو لے کر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
مسئلہ محض ہندو انتہا پسندی کا ہی نہیں بلکہ مودی او رسخت گیر ہندو انتہا پسند عناصر پاکستان مخالفت میں بھی پیش پیش نظر آتے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں خرابی، ڈیڈ لاک اور مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کی بدترین انسانی حقوق کی پامالی میں بھارت پیش پیش ہے۔ اس وقت مودی حکومت کی حکمت دنیا میں پاکستان کو سیاسی اور سفارتی محاذ پر تنہا کرنا، الزام تراشی کی سیاست اور خاص طور پر آج کل اس کے ایجنڈے کا اہم حصہ افغانستان کو غیر مستحکم کرنا اور وہاں کے بحران کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو بھار ت اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھتا ہے او راس کی اب حکمت عملی یہ ہی ہے کہ افغانستان کے بحران کو او رزیادہ خراب کرکے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کیا جائے۔
سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ آج جو کچھ بھارت میں ہورہا ہے اس پر دنیا، طاقت ور بڑے ممالک اور عالمی فورمز خاموش ہیں۔ ان کی آوازوں میں وہ شدت نہیں جو دنیا چاہتی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے دنیا بھارت کی منفی سیاست کے خلاف مزاحمت کرنے یا ان پر دباؤ ڈالنے کی بجائے ان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔دنیا میں انسانی حقوق او رمذہبی آزادیوں پر کام کرنے والے اداروں کی اہم رپورٹس پر بھی دنیا خاموش ہے۔ بالخصوص جو بربریت ہمیں مقبوضہ کشمیر میں نظر آرہی ہے اس پر دنیا واقعی بے حسی کا شکار ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بھارت کی انتہا پسندی اور پرتشدد سیاست کی چوہدراہٹ اور زیادہ مضبوط یا ڈھٹائی کی صورت میں نظر آتی ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر پر کسی بھی قسم کی عالمی ثالثی کے لیے بھی تیار نہیں او رجو بھی بھارت کو پاکستان سے تعلقات کی بہتری کا دعوت دیتا ہے تو بھارتی رویہ اس دعوت کے خلاف نظر آتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی او رعسکری قیادت دونوں ماضی سے نکل کر مستقبل کی طرف اور علاقائی استحکام او رمعاشی ترقی کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ اسی تناظر میں ہم تواتر کے ساتھ بھارت کو بامقصد مزاکرات او رتعلقات کی بہتری کی دعوت دے رہے ہیں کہ ہمیں ماضی کے تناؤ، ٹکراؤ او رتضادات سے باہر نکل کر مستقبل کی طرف پیش قدمی کرنا چاہیے۔لیکن بھارت اس حوالے سے آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں۔حالانکہ اس وقت علاقائی سطح پر تمام ممالک کے درمیان باہمی تعاون، معاشی ترقی، سیاسی اور سماجی بنیادوں پر ایک د وسرے کی مدد کے ساتھ علاقائی ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے کی ہونی چاہیے۔ بھارت کی اس عمل میں بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عملی طور پر مثبت کردار کے ساتھ باقی ممالک کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو بہتر بنائے او ربلاوجہ انتہا پسندی، مذہبی تفریق اور نفرت یا کسی تعصب کی بنیاد پر بلاوجہ کا ٹکراؤ پیدا کرے۔ اس عمل میں اگر پاک بھارت تعلقات بہتر ہوتے ہیں اور دونوں مل کر انتہا پسندی او رمذہبی طور پر موجود جنونیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو یہ ہی عمل دونوں ممالک سمیت خطہ کی ترقی، خوشحالی او رامن کی عملی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔