مدینے کی ریاست کا سبز باغ

پاکستان میں عشرہ  رحمت اللعالمین ﷺ منایا جا رہا ہے۔ مدینے کی ریاست کی باتیں ہو رہی ہیں  مگر مدینے کی کون سی ریاست؟  اس وقت  ریاض میں تو  سعودی ریاست کا ڈنکا بج رہا ہے اور اسلامی فلاحی ریاست کا  وہ تصور   وہاں بھی  موجود نہیں  جس کے منشور کی بنیاد یہ تھی کہ اگر دریائے دجلہ کے کنارے ایک کُتا بھی کسی رات بھوکا سویا تو مسلمان حکمران اُس کا ذمہ دار  اور جواب دہ ہوگا۔

 آج مدینے کی ریاست  کا تذکرہ جن سیاق و سباق میں ہو رہا ہے ، آج کی سعودی ریاست اُس کی واضح تردید ہے کیونکہ اسلامی ریاست کی سرحدیں وہاں تک ہیں جہاں اسلام بطور دین رائج ہے۔  کشمیر میں گولیاں کھا کر خاک و خُون میں نہاتے  مسلمان بھی  تمام مسلمان حکمرانوں کی یکساں ذمہ داری ہیں، مگر اسلام اپنے حقیقی مفہوم میں کہیں دکھائی ہی نہیں دیتا۔ آج کی تمام مسلمان  ریاستیں، اسلامی ریاست کی واضح تردید ہے۔ بیشتر مسلمان ریاستیں  جدید سرمایہ داری کی بھونڈی معاشرتوں  میں قائم ہیں۔  آج کسی بھی ریاست کا خلفائے راشدین  کے تصورِ ریاست  سے کوئی تعلق نہیں ، کیونکہ اسلامی یاست کے دو بنیادی ستون ہیں  جو یہ ہیں:

۱۔ معاشرے میں انفرادی اور ادارہ جاتی سطح پر صداقت  کے اصول کی حکمرانی

۲۔ تمام افراد اور اداروں کا امانت دار ہونا اور تمام لوگوں کو  اپنے   باہمی معاشرتی معاملات کو  دیانت داری اور ایمان داری سے طے کرنا

اور یہی وہ  دو اصول ہیں   جو انفرادی طور پر  ایک مسلمان کے وجود کی بنیاد ہیں۔  تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ  پیغمبرِ اسلام ﷺ نے اپنی زندگی کے ابتدائی چالیس سال  صداقت ار دیانداری میں اس شان اور  کمٹ منٹ سے بسر کیے  کہ  دوست تو دوست ہر دشمن نے بھی  آپ کے صادق اور امین ہونے کی گواہی دی۔  اور وہ شخص جس چالیس برس تک صادق اور امین کی زندگی بسر کرتا رہا ، اُسے آسمانوں کی بادشاہت سے  دستارِ نبوت  عطا ہوئی تھی۔  چنانچہ صوفیا کے نزدیک اسلام کے باطنی ارکان دو ہیں  یعنی صادق اور امین ہونا۔ اور جو شخص  دین کے ان دو باطنی ارکان  پر عمل پیرا ہو، اُسے  پانچ ظاہری ارکان تک رسائی حاصل ہوتی ہے  اور وہ کلمہ، نماز،ز کوٰۃ، روزے اور  حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے کوالی فائی کرتا ہے۔  اور جب کوئی صادق اور امین ، دین کے ظاہری ارکان کو صدقِ دل سے بے لوث ہو کر ادا کرتا ہے تو اُسے اخلاص عطا ہوتا ہے جس کے بارے میں اقبال نے کہا:

اخلاصِ عمل مانگ نیاگانِ کُہن سے

شاہاں چہ عجب ، گر بنوازند گدا را

جب اس پورے دینی نصاب کو دیکھیں تو اسلام کے آٹھ بنیادی ارکان ہیں جو یہ ہیں:

۱۔زبان کا صادق ہونا  ۲۔ ہاتھ کا امین کونا۔ ۳۔  کلمتہ اللہ کے عواقب و جوانب کا تفصیلی علم اور اُس پر تصرف۔  ۴۔ صلوٰۃ  جو برائی اور بے حیائی سے پاک کرتی ہو  ۵۔ زکوٰۃ سے اپنے مال کو پاک رکھنا۔ ۶ ۔ رمضان کے روزے رکھنا  ۷۔ استطاعت ہو تو حجِ بیت اللہ کرنا۔ ۸۔ اخلاصِ عل

اور جب یہ آٹھوں ارکان کسی ایک فرد  میں جمع ہوں تو وہ مسلمان ہونے کے لیے کوالیفائی کرتا ہے۔ ایسا شخص ایک متقی معاشرے کی عمارت کی خشت یا اینٹ بنتا ہے۔  اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ  چوہتر برس میں متقی نہیں بن سکا بلکہ اُلٹا  کرپشن کاروں، بھتہ خوروں، منی لانڈرنگ کے حرامخوروں، جنسی درندوں اور لوٹ مار کرنے والوں  کا گہوارہ بن کر رہ گیا ہے۔  اور وہ معاشرہ جو  انفرادی، اجتماعی اور ادارہ جاتی سطح پر  صادق اور امین نہیں ہوتا ، اُسے کوئی بھی نام دے لو مگر وہ اسلامی ہر گز، ہر گز نہیں ہوتا  بلکہ اس کے برعکس ایک نیا تصور سامنے آتا ہے  کہ جن ممالک میں خواہ اسلامی کہلائیں یا غیر اسلامی  ہوں، معاشرتی نظام کی بنیاد  صداقت اور امانت داری ہے۔

ایسے ہی معاشرے محمد ﷺ کے ویژن کے معاشرے ہیں ، خواہ وہ محمد کا نام لیتے ہیں یا نہیں مگر وہ  محمد ﷺکے ویژن کے معاشرے ہیں۔ ہم لوگ جو نارے میں رہتے ہیں  نارویجن نظام کے اصولوں  کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں،  جانتے ہیں کہ  یہاں بڑی حد تک وہ  وہ اصول، ضابطے اور قاعدے رائج ہیں  جو صادق اور ﷺ کی تعلمات کے زیادہ قریب ہیں۔  اسلام اب ایک پندرہ صدیاں پرانا مذہب ہے  لیکن مسلمانوں کی بد قسمتی  کہ وہ فرقہ آرائی کی آگ میں جل رہے ہیں ۔ بقول اقبال:

شجرہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اُس کا

یہ وہ پھل ہے کہ جنت میں بھی رلواتا ہے آدم کو

اور ہم  پاکستانی  مسلمان  پچھلے چوہتر برس سے  پاکستان کی جنت  میں رو رہے ہیں۔  اور جب  تک انفرادی طور پر پاکستانی مسلمان  صداقت  اور امانت داری  کے راستے کا راہی نہیں بن جاتا  ہے  تب تک مدینے کی ریاست  کا راہی نہیں بن جاتا  تب تک  مدینے کی ریاست کا تصو ر ایک سبز باغ  رہے گا اور ہم من حیث القوم  ان سبز باغوں میں بھٹکتے رہں گے۔ اور آخر میں چند اشعار:

یہ طرزِ زیست عجب کافرانہ لگتا ہے

مجھے یہ کاغذی مذہب فسانہ لگتا ہے

تہِ فلک مرا دم گھٹ نہ جائے راستہ دے

ترا جہاں مجھے قید خانہ لگتا ہے

حرم طلسمِ کُہن ہے مجھے رجھانے کا

قسم سے دامِ مشیت، بہانہ لگتا ہے

زمیں پہ بھیج وہی اب نئے قرینوں سے

ترے صحیفوں کا لہجہ پرانا  لگتا ہے

فلک مچان ہے اور وقت اک شکاری ہے

یہ آدمی مجھے اس کا نشانہ لگتا ہے

پرندے گاتے ہیں،  تم سے ہمیں محبت ہے

یہ چہچہا مجھے فلمی ترانہ لگتا ہے

سفر میں عشق کے مسعود مجھ کو منزل تک

کبھی تو لمحہ، کبھی اک زمانہ لگتا ہے