مقبوضہ کشمیرمیں سرچ آپریشن کے دوران 5 فوجی ہلاک
- سوموار 11 / اکتوبر / 2021
- 3700
مقبوضہ کشمیر میں پولیس نے ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات میں ملوث ایک عسکریت پسند کو مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ ایک الگ کارروائی میں فوج کے پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق پیر کو شورش زدہ وادی کشمیر کے شمالی ضلع بانڈی پور میں انکاؤنٹر آپریشن کے دوران امتیاز احمد ڈار نامی عسکریت پسند مارا گیا ہے جس کے چار ساتھیوں کو گزشتہ دنوں چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس سربراہ دل باگ سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ پانچوں افراد ایک مقامی ٹیکسی ڈرائیور محمد شفیع لون کے قتل کی سازش میں ملوث تھے جن کا تعلق 'دی ریزسٹنس فرنٹ' یا ٹی آر ایف نامی تنظیم سے ہے۔
گزشتہ ہفتے سری نگر اور اس کے مضافات میں یکے بعد دیگرے سات افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا جن میں ایک سکھ خاتون اور تین ہندو بھی شامل تھے۔ ان واقعات کی وجہ سے اقلیتوں میں پیدا شدہ خوف و ہراس سیکیورٹی فورسز کے لیے نیا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب نئی دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اور اس کے مقامی نمائندوں کو حزبِ اختلاف کی شدید نکتہ چینی کا سامنا ہے۔ حکومت کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ پانچ اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی نیم خود مختاری کو ختم کرنے کا اقدام علاقے میں امن کو بحال کر کے صورتِ حال کو معمول پر لانے میں مدد گار ثابت ہوا ہے۔
بھارتی کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات کے بعد مقامی پولیس نے ایک بڑے کریک ڈاؤن کے دوران تقریباً 700 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ حراست میں لئے گئے افراد کالعدم جماعت اسلامی، استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعتوں کے اتحاد کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دوسری ہم خیال سیاسی جماعتوں کے اراکین، حامی یا ہمدرد ہیں۔
پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے سینکڑوں کشمیریوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے اب تک کے سب سے بڑے کریک ڈاؤن میں 1400 سے زائد کشمیریوں کو بے بنیاد الزامات پر گرفتار کرنے کے اقدام کی پاکستان شدید مذمت کرتا ہے۔