سرحدی کشیدگی پر بھارتی و چینی افواج کے درمیان مذاکرات ناکام

  • سوموار 11 / اکتوبر / 2021
  • 4300

بھارت اور چین کی افواج کے درمیان لداخ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ دونوں ملکوں نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرایا ہے۔

چین کی جانب سے لائن آف ایکچوول کنٹرول (ایل اے سی) پر مولڈو کے مقام پر سینئر ملٹری کمانڈرز کی سطح پر ہونے والے یہ تیرہویں دور کے مذاکرات تھے۔ تقریباً دس گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد پیر کی صبح بھارتی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران بھارت نے تنازعات کے حل کے لیے تعمیری تجاویز پیش کیں جنہیں چین نے تسلیم نہیں کیا۔

دوسری جانب چین کی فوج ’پیپلز لبریشن آرمی‘ (پی ایل اے) کی جانب سے ایک بیان میں بھارت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے مسئلے کے حل کے لیے کوئی قابلِ قبول تجویز پیش نہیں کی۔ واضح رہے کہ 15 جون 2020 کو مشرقی لداخ میں ایل اے سی پر دونوں ملکوں کے فوجی جوانوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ چین نے ابتدائی طور پر کسی بھی قسم کے نقصان سے انکار کیا تھا، بعدازاں اس نے کچھ جانی نقصانات کا اعتراف کیا تھا۔

اس واقعے کے بعد جوہری قوت کے حامل دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہی جس کے خاتمے کے لیے فریقین میں کمانڈرز سطح کے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ ان مذاکرات کے بعد بعض متنازع علاقوں سے دونوں ملکوں کی افواج کچھ پیچھے ہٹی تھیں۔

اتوار کو ہونے والے مذاکرات ایک مرتبہ پھر تعطل کا شکار ہو گئے ہیں اور دونوں ملک اس کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں جانب سے جاری ہونے والے بیانات قدرے سخت لب و لہجے میں ہیں جو اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی باقی ہے اور ایک عرصے سے جاری تعطل کے سلسلے میں دونوں کے خیالات مختلف ہیں۔