افغانستان کو محفوظ رکھنے کے لئے امریکہ امداد فراہم کرے: عمران خان
- سوموار 11 / اکتوبر / 2021
- 3140
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکا کو افغانستان کو امدادی پیکج دینا ہوگا یا یہ ملک داعش کے عسکریت پسندوں کی پناہ گاہ بن جائے گا۔
برطانوی آن لائن خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ آئی کو انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ واشنگٹن اس چیلنج کو پورا کرے۔ ہمارے ہاں امریکا کی زیر قیادت ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے منسلک تنازع میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہمیں افغانستان میں تنازعہ کی ایک مرتبہ پھر بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
یہ واقعی نازک وقت ہے اور امریکا کو خود کو اکٹھا کرنا ہوگا کیونکہ امریکا میں لوگ صدمے کی حالت میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی طرح کی جمہوریت، قوم کی تعمیر یا آزاد خواتین کا تصور کر رہے تھے اور اچانک انہیں معلوم ہوا کہ طالبان واپس آگئے ہیں۔ اس لیے ان میں بہت غصہ، صدمہ اور حیرت ہے۔ جب تک امریکا، قیادت نہیں کرے گا ہم پریشان ہیں کہ افغانستان میں افراتفری ہوگی اور ہم اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
عمران خان نے کہا کہ امریکا کے پاس افغانستان میں مستحکم حکومت کی حمایت کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں تھا کیونکہ طالبان ہی خطے میں داعش سے لڑنے کا واحد آپشن تھے۔ افغانستان میں داعش کی علاقائی وابستگی، جسے اسلامک اسٹیٹ صوبہ خراسان کے نام سے جانا جاتا ہے، نے طالبان کے خلاف لڑائی کی ہے اور حالیہ مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں شمالی شہر قندوز میں اہل تشیع برادری سے منسلگ مسجد پر بمباری جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔
عمران خان نے کہا کہ دنیا کو افغانستان کے ساتھ مشغول ہونا چاہیے کیونکہ اگر وہ اسے تنہا کرتے ہیں تو طالبان میں سخت گیر لوگ بھی موجود ہیں اور یہ آسانی سے 2000 کے طالبان کے پاس واپس جا سکتا ہے اور یہ ایک تباہی ہو گی۔ واضح رہے کہ طالبان اب بھی امریکی محکمہ خزانہ کے پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں، جو اس گروپ کو امریکی سینٹرل بینک میں موجود 9 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثوں تک رسائی سے روکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے 2008 میں اس وقت کے امریکی سینیٹرز جو بائیڈن، جان کیری اور ہیری ریڈ کو خبردار کیا تھا کہ وہ افغانستان میں ایک دلدل پیدا کر رہے ہیں جس کا کوئی فوجی حل نہیں ہے تاہم انہوں نے نہیں سنا۔ ’جو بائیڈن سن نہیں رہے تھے، ہم دونوں میں ابھی تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے‘۔
انہوں نے انٹرویو میں کہا کہ ہمیں طالبان کے پر امن طریقے سے کابل پر قبضے کو دیکھ کر بہت اطمینان ملا کیونکہ ہمیں خون کی ہولی کی توقع تھی لیکن جو ہوا وہ اقتدار کی پرامن منتقلی تھی۔ ہم نے یہ بھی محسوس کیا کہ ہم اس کے لیے قصوروار ٹھہرائے جارہے ہیں۔ 3 لاکھ افغان فوجیوں نے بغیر کسی لڑائی کے ہتھیار ڈال دیے، واضح طور پر ہم نے انہیں ہتھیار ڈالنے کے لیے نہیں کہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کو وقت دینا چاہیے، انہوں نے درست بیانات دیے ہیں اور ان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے، ہم ان پر پابندی لگا کر کیا کرلیں گے؟ سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ ان کو اپنی بات پر چلنے کی ترغیب دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ نازک اور سیاسی طور پر حساس مذاکرات میں مصروف ہے جسے اکثر پاکستانی طالبان کہا جاتا ہے۔ ’ٹی ٹی پی اور پاکستانی فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سائیڈ لائن میں خونی تنازع کا سامنا کیا ہے جس میں 80 ہزار سے زائد جانیں ضائع ہوچکی ہیں'۔
ٹی ٹی پی، جسے پانچ سال قبل قبائلی علاقوں سے نکال دیا گیا تھا، نے فوج کے ساتھ نئی جھڑپوں کے ساتھ اپنی مہم کا دوبارہ آغاز کردیا تھا۔ ٹی ٹی پی نے جنگ بندی کے لیے دو شرائط رکھی ہیں، قبائلی علاقوں میں شرعی قوانین اور قیدیوں کی رہائی جبکہ حکومت پاکستان کا اصرار ہے کہ ان علاقوں میں صرف آئین پاکستان ہی لاگو ہوتا ہے۔
عمران خان نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ ٹی ٹی پی 50 گروپس پر مشتمل ہے اور وہ ان عناصر سے صلح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اب ہم ان لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں صلح ہو سکتی ہے، میرا ماننا ہے کہ ہر انتشار بالآخر بحث کی میز پر ختم ہو جاتی ہیں۔
عمران خان نے افغانستان میں امریکی ڈرون حملوں کی مذمت کی۔ یہ دہشت گردی سے لڑنے کا سب سے برا طریقہ ہے۔ ایک گاؤں میں مٹی کے گھر پر ڈرون حملہ کرنا اور توقع کرنا کہ وہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوگا، زیادہ تر ڈرون حملوں میں غلط لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔
عمران خان نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکی انخلا کے علاقائی اثرات کیا ہوں گے۔ چین ابھرتی ہوئی قوت ہے جس نے اس خلا میں قدم رکھا اور پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔ وہ کونسا ملک تھا جو مدد کے لیے آیا؟ یہ چین تھا جس نے ہماری مدد کی، آپ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتے ہیں جو مشکل وقت میں آپ کی مدد کرتے ہیں۔