احتساب کے نام پر سیاسی سمجھوتے
- تحریر سلمان عابد
- منگل 12 / اکتوبر / 2021
- 4370
پاکستان میں احتساب کا نظام ہمیشہ سے کمزوراور سیاسی سمجھوتوں کا شکار رہا ہے۔ طاقت ور حکمران طبقات اور اشرافیہ کا بنیادی مقصد ملک میں احتساب کے نظام کو شفاف بنانے سے زیادہ اس نظام کو اپنی مرضی او رمفاد کے تحت چلا کر اپنے مفاد کو ہی ترجیح دینا ہوتا ہے۔
یہ مسئلہ ملک کی سطح پر کسی ایک خاص حکومت یا کسی خاص طاقت ور گروہ کی نہیں بلکہ اس عمل میں سارے ہی حکمران اور طاقت ور طبقات برابر کے مجرم ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ملک میں احتساب کم اور اس کا نام نہاد ڈرامہ، مصنوعی پن، کمزور ی کا پہلو، مخالفین کے خلاف سیاسی کارڈ یا سیاسی سمجھوتے کے پہلو زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن نے میثاق جمہوریت 2006کے معاہدے میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد نیب کو ختم کرکے ایک منصفانہ اور شفاف احتساب کا نظام قائم کریں گے، مگر یہ دونوں جماعتیں بھی کوئی منصفانہ اور شفاف احتساب کا نظام دینے کی بجائے سمجھوتے کی سیاست کا شکار رہے۔
حالیہ دنوں میں نیب کے اختیارات او رچیرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے حکومت کی جانب سے ایک ہم پیش رفت قومی احتساب بیورو)نیب(کے 1999کے آرڈنینس میں کچھ ترامیم کرکے ایک نیا آرڈنینس جاری کیا گیا ہے جس کو اب نیب آرڈنینس 2021کا نام دیا گیا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت کا نعرہ ہی ملک میں صاف اور شفاف احتساب کا نظام قائم کرنا تھا او راس کے بقول وہ اس معاملے میں کوئی سیاسی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔لیکن اب اس بات پر تجزیہ کرنا ہوگا کہ کیا اس نئے آرڈینس کے بعد ملک میں کوئی بڑا شفاف او ربے لاگ احتساب ہوسکے گا۔لیکن اس سوال سے پہلے اس نئے آرڈینس لانے کے پیچھے جو سیاسی پس منظر ہے اسے سمجھنا ہوگا کہ وہ کیا تھا۔ نیب کو پاکستان میں سب سے زیادہ مخالفین کی جانب سے تنقید کا سامنا تھا۔ یہ تنقید محض سیاست دانوں تک محدود نہیں تھی بلکہ دیگر طبقات جن میں کاروباری طبقہ، بیوروکریٹس بھی پیش پیش تھے۔ ان کے بقول نیب کی وجہ سے ملک کا مکمل سیاسی اور قانونی نظام سمیت کاروباری یا معیشت کا نظام تباہ ہوگیا ہے۔ یہ نظام ملک میں معیشت کو آگے بڑھانے کی بجائے اسے پیچھے کی طرف لے جارہا ہے اور سیاسی قوتوں کے بقول اس نظام سے جمہوری نظام کو مختلف سطحوں پر خطرات لاحق ہیں۔
اگر ہم حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کی طرف سے جو نیب ترامیم کے حوالے سے دی گئی تجاویز کا تجزیہ کریں تو اس میں سے بیشتر نکات وہ ہی ہیں جو اس نئے ترمیمی آرڈنینس میں شامل کی گئی ہیں۔ بظاہر حزب اختلاف اس نئے ترمیمی آرڈنینس پر بڑی تنقید کررہی ہیں او راسے قانونی محاذ پر چیلنج کرنے کی بات بھی کی جارہی ہے۔لیکن عملی طورپر حزب اختلاف او ربالخصوص پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن اس حالیہ ترمیمی آرڈیننس پر مطمن یا خوش نظر آتی ہیں او رامکان یہ ہی ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اس نئے آرڈینس کو قانونی محاذ پر چیلنج بھی نہیں کریں گی۔البتہ سیاسی شور ہمیں میڈیا پر ضرور دیکھنے کو ملے گا۔جہاں تک چیرمین نیب کی تقرری پر جو حکومت او رحزب اختلاف میں اعتراض نظر آرہا ہے اس نئے ترمیمی آرڈنینس سے پہلے ”نیب آرڈنینس میں لکھا ہوا تھا کے چیرمین نیب کی تعیناتی کے لیے قائد ایوان او رقائد حزب اختلاف درمیان باہمی بامقصد مزاکرات کے بعد ہی چیرمین نیب تعینات ہوگا۔“ اس معاملے میں فریقین کی طرف سے دیے گئے تین تین ناموں پر غور ہوگا جس میں سے کسی ایک پر اتفاق کرنا ضروری ہے۔“ لیکن اب نئے آرڈنینس کے تحت ”یہ تبدیلی کی گئی ہے کہ صدر مملکت کو اس میں شامل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اب صد مملکت وزیر اعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے ساتھ نیب کے چیرمین کے لیے مختلف ناموں پر غور کریں گے اور اگر دونوں کے درمیان کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہوا تو یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا جائے گا جو اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔“اس سے قبل صدر کا کردار محض نوٹیفیکیشن جاری کرنے تک محدود تھا جبکہ اس ترمیمی آرڈنینس میں صدر کو نہ صرف مشاورت کا کردار دیا گیا ہے بلکہ پارلیمانی کمیٹی کا کردار بھی پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔اس ترمیمی آرڈنینس میں یہ بھی کہا گیاکہ جب تک نئے چیرمین نیب کا تقرر نہیں ہوتا اس وقت تک موجودہ چیرمین اپنے عہدے پر کام جاری رکھیں گے۔
اسی طرح اس نئے ترمیمی آرڈنینس میں چیرمین نیب کے اختیارات بھی محدود کیے گئے ہیں او راس کی وجہ حکومت اور حزب اختلاف سمیت مختلف سیاسی، کاروباری اور انتظامی فریقین کی مشاورت اور اتفاق رائے بھی تھا۔پہلے آرڈنینس میں گرفتاری سے لے کر کسی کے خلاف کسی بھی سطح پرانکوائری شرو ع کرنے او رریفرنس دائر کرنے کے اختیارات بھی تھے۔لیکن اب یہ اختیار پراسیکوٹر جنرل کو دے دیا گیا ہے جس کے تحت اگر پراسیکوٹر جنرل یہ سمجھتا ہے کہ کسی کے خلاف شروع کئی گئی انکوائری یا دائر کیا گیا ریفرنس غلط ہے تو وہ اسے ختم کرسکتے ہیں جبکہ اس سے پہلے اس اقدام کے لیے چیرمین نیب کی اجازت لینا ضروری تھا۔اسی طرح اس ترمیمی نئے آرڈنینس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی کابینہ ملک کی ترقی کے لیے کوئی بھی فیصلہ کرتی ہے او ربیوروکریسی اچھی نیت سے اس پر عملدرآمد کرواتی ہے تونیب کو ان معاملات میں مداخلت کرنے یا تحقیقات شروع کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس کے معاملات میں بھی نیب مداخلت نہیں کرے گا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ حکومت کی کاروباری، سرمایہ دار طبقہ، تاجر برادری،چاہے وہ حکومت یا حزب اختلاف کا حامی ہو یا کابینہ میں بیٹھے افراد سب ہی یہ ترمیم چاہتے تھے او راسی بنیاد پر یہ ترمیم کی گئی ہے۔کیونکہ اعتراض یہ تھا کہ نیب کی وجہ سے بیشتر ترقیاتی منصوبہ تاخیر کا شکار ہوئے ہیں اور مختلف فریقین میں نیب کی مداخلت کا خوف پایا جاتا ہے۔اسی بنیاد پر مالیاتی بے قاعدگیوں کی تفتیش گورنر اسٹیٹ بینک کی پیشگی طور پر اجازت سے مشروط کی گئی ہے۔جبکہ ٹیکس اور لیوی سے متعلق انکوائری یا تفتیش کے اختیارات متعلقہ حکام اور وزارتوں کو منتقل ہوجائیں گے۔ عملی طور پر ان ترامیم کی مدد سے نیب کے دو دانت کاٹ دیے گئے ہیں جن میں 90دن کا جسمانی ریمانڈاور تفتیش کا عمل اور اب ہائی کورٹ کے مقابلے میں نیب عدالت کو ضمانت کا اختیار دینا شامل ہے۔
یہ بات پیش نظر رہے کہ نیب نے پچھلے تین برسوں میں سابقہ سترہ برسوں کے مقابلے میں جو ریکارڈ ساز مالیاتی ریکوری کی ہے اس کی بڑی وجہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں۔ لیکن اب خطرہ ہے کہ نیب کی ریکوری ریکارڈ ساز ممکن نہیں۔نیب کے مطابق ہم نے پہلے سترہ برسوں میں جو ریکوری کی تھی وہ17965 ملین تھی۔ جبکہ سابقہ چار برسوں میں یہ ریکوری 14433ملین ہے جو کہ ماضی کے مقابلے میں تقریبا 188 فیصد زیادہ ہے۔اسی طرح نیب نے پہلے سترہ برسوں میں 345جبکہ محض چار برسوں میں 285ریفرنسوں کا فیصلہ کیاجو کہ 200 فیصد بنتا ہے۔حکومت کے حالیہ آرڈنینس کاروباری طبقہ کو نیب سے محفوظ رکھنے کے ضمن میں بے جا قانونی شق کا اضافہ بھی لایا گیا جس کی رو سے آئندہ نیب کسی ایسے کاروباری فرد یا پروایٹ فرد پر ہاتھ نہیں ڈال سکے گا جس کا کسی پبلک آفس ہولڈر کے ساتھ کوئی باہمی ربط ثابت نہیں ہورہا ہو۔ اس طرح عوام کو دھوکہ دہی او رلالچ دے کر اربوں بٹورنے والا مافیا اس این ار او کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے جس پر نیب کو تھوڑا بہت رعب اور خوف قائم تھا۔
اب جبکہ نیب کا اختیار بیوروکریٹس، سیاست دان او رکاروباری طبقہ کے لیے بھی محدود کردیا گیا ہے تو حکومت کو ان اختیارات کی بھی وضاحت کردینی چاہیے جس کے لیے نیب کے ادارے وجود کو قائم کیا گیا تھا۔بہرحال اب ملک میں احتساب کا عمل کمزور ہی ہوگا او راسی کی وجہ سمجھوتوں کی بنیاد پر سیاست اور قانون سازی ہے جو بڑا المیہ ہے۔