عالمی یوم اساتذہ پر ہونے والی بحث
- تحریر مظہر چوہدری
- منگل 12 / اکتوبر / 2021
- 5450
چند روز قبل دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یوم اساتذہ بڑی عزت واحترام اور جوش وخروش سے منایا گیا۔رواں برس اساتذہ کے عالمی دن کاموضوع "اساتذہ بحالی تعلیم کا مرکز" تھا جس کامقصد کرونا کی وبا جیسی مشکلات کے دوران تعلیم کا سلسلہ برقرار رکھنے کے لیے اساتذہ کی انتھک خدمات کا اعتراف کرنا تھا۔
گذشتہ برس اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی یوم اساتذہ "استاد میں سرمایہ کاری کریں، مستقبل میں سرمایہ کاری کریں "کے موضوع کے تحت منایا گیا تھا۔ بنیادی طور پر عالمی یوم اساتذہ منانے کا مقصد اساتذہ کے حقوق اور ذمہ داریوں پرروشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ ان کی تدریسی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہوتا ہے تاہم ا قوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم یونیسکو ہر سال عالمی یوم اساتذہ کوایک نئی تھیم یا موضوع کے تحت مناتی ہے کہ ممالک اور قومیں متعلقہ موضوع پر فوکس کرتے ہوئے اساتذہ کی اہمیت اور کردار کا عمیق جائزہ لے سکیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے ہمارے ہاں ماضی کی نسبت اساتذہ کا عالمی دن بڑے جوش و خروش سے منانے کا اہتمام ہونے لگا ہے تاہم ابھی اس اہتمام میں وہ سنجیدگی اورمقصدیت دیکھنے میں نہیں آ رہی جو اس دن کا بنیادی تقاضا ہے۔
ہمارے ہاں بیشتر عام افراد، طالب علم اور اساتذہ اول تو یوم اساتذہ کی تھیم یا موضوع سے آگاہ ہی نہیں ہوتے یا پھر اسے زیر بحث لانا گوارا نہیں کرتے۔ یوم اساتذہ کو محض روایت کے طور پر منا لینے سے وقتی طور پر اساتذہ کی عزت افزائی تو ہو جاتی ہے لیکن وہ مقصد حاصل نہیں ہو پاتا جس کے لیے عالمی سطح پر یہ دن منانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ طالب علموں کو آگاہی دینا اساتذہ کی ذمہ داری بنتی ہے لیکن جب اساتذہ خود ہی باخبر نہ ہوں تو وہ طالب علموں کو کیوں کر آگاہ کر سکیں گے۔ دنیا بھر کی ریاستیں اپنے اساتذہ کونہ صرف دور جدید میں ہونے والی تعلیمی تبدیلیوں سے باخبر کرنے کا اہتمام کرتی رہتی ہیں بلکہ انہیں جدید دور کے تعلیمی تقاضوں کے مطابق درس وتدریس کے قابل بنانے کے لیے ان پر سرمایہ کاری بھی کرتی ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں سرکاری اور نجی شعبے کے اساتذہ پر کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں۔عالمی اداروں کی معاونت کے باوجود ہمارے اساتذہ کی اکثریت جدید دور کے تعلیمی تقاضوں سے نابلد ہے جس کا نتیجہ معیار تعلیم کی اجتماعی زبوں حالی اور ورلڈ ملینیم گولز سے کوسوں دوری کی صورت میں ہمارا منہ چڑا رہا ہے۔
چند روز قبل منائے جانے والے عالمی یوم اساتذہ پر جہاں ایک طرف طالب علموں سمیت زندگی کے مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے اپنے انداز میں اساتذہ کو خراج تحسین پیش کیاوہیں کچھ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی جانب سے ماضی اور حال کے اساتذہ کے تدریسی رویوں اور طرز عمل پر تنقیدی مباحث بھی دیکھنے میں آئے۔سب سے زیادہ تنقید تعلیمی اداروں اور مدارس میں بچوں پر ہونے والے جسمانی وذہنی تشدد پر ہوئی، سوالات اٹھانے والے طالب علموں کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی پر بھی اساتذہ کو مورود الزام ٹھہرایا گیا جب کہ سبق یا لیکچر صیح طرح سے ڈلیور نہ کرنے والے اساتذہ کو بھی جلی کٹی باتیں سنائی گئیں۔تعلیمی اداروں اور مدارس میں بچوں سے زیادتی اور ہراسمنٹ کے بڑھتے واقعات کی بنیاد پر بھی اساتذہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔سب سے اہم بحث اس نکتے پر ہوئی کہ ابتدائی کلاسز کے طالب علموں میں سوالات اٹھانے کا جو کریز نظر آتا ہے، وہ سیکنڈری کلاسز تک آتے آتے مدہم کیوں پڑ جاتا ہے۔تعلیمی اداروں میں بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی بجائے نمبرز گیم کی نذر کرنے کا ملبہ بھی اساتذہ پر ڈالا گیا۔یہ بحث بھی خوب ہوئی کہ ہمارے اساتذہ بچوں کوبورڈز امتحانات میں پورے پورے نمبرز لینے کے لیے تو تیار کر دیتے ہیں لیکن ان کے اندر وہ تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتیں پروان نہیں چڑھا پاتے جو انہیں عالمی سطح کا محقق اور سائنس دان بنانے میں مد د دے سکیں۔
اس بحث میں اٹھائے جانے والے بیشتر نکات کو جھٹلانا بہت مشکل ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ تعلیمی اداروں میں اپنے پیشے سے انصاف کرنے والے اساتذہ کی بھی کمی نہیں۔ہو سکتا ہے کئی لوگوں کو تعلیمی کیریر میں اچھی خوبیوں کے حامل اساتذہ نہ ملے ہوں لیکن اس معاملے میں راقم کا تجربہ مجموعی طور پر خوشگوار رہا ہے۔اسکول سطح پر ایک سے زائد ایسے اساتذہ کے قریب رہنے کا موقع ملا جنہوں نے اپنے طور پر بہترین تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ خود پر اعتماد پیدا کرنے میں مدد دی۔یونیورسٹی کی سطح پر بھی بہت سے قابل اور ڈلیور کرنے والے اساتذہ کا نام لیا جا سکتا ہے تاہم جرنلزم کے استاد شفیق احمد کمبوہ صاحب نے جس طرح کلاس میں سوالات اٹھانے پر حوصلہ افزائی کر کے اعتماد بخشا، وہ یونیورسٹی کے علاوہ پیشہ ورانہ تعلیمی اور صحافتی زندگی میں بہت کام آیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بچوں پر جسمانی و ذہنی تشدد اور کلاس میں ان کی عزت نفس مجروح کرنے کے علاوہ کئی ایک معاملات میں اساتذہ قصوروار قرار پاتے ہیں تاہم راقم کے خیال میں تما تر خرابیوں کا ملبہ صرف اساتذہ پر ڈالنا مناسب نہیں۔اساتذہ کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ٹرینڈ نہ کرنے اور ان پر تعلیمی سرمایہ کاری نہ کرنے سمیت بہت سے معاملات میں ریاست و حکومت پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں سوالات اٹھانے والے زیادہ تر بچوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے لیکن اس کی ایک بنیادی وجہ تعلیمی نصاب میں تنقیدی و سائنسی تصورات کی بجائے نظریاتی و مذہبی مواد کا زیادہ ہونا ہے۔اظہار رائے اور اجتہادی فکر پر لگائی جانے والی گوناگوں نوعیت کی قدغنوں کے باعث ہمارے تعلیمی اداروں میں آزادانہ تحقیق و جستجو اور سوالات اٹھانے کا ماحول ہی نہیں بن سکا۔ اس کے بعد یہ کہ ہمارے ہاں اساتذہ کی بھرتی کے وقت تعلیمی شعبے میں اساتذہ کی دلچسپی اور قابلیت کو جانچنے کا کوئی میکنزم نہیں۔اس کے علاوہ ہم دو سے تین برس کے ٹیچنگ کیرئیر کی بنیاد پر"خراب کارکردگی" والے ٹیچرز کو نکال کر بھی اساتذہ کا معیار کافی حد تک بہتر رکھنے کے انتظامات کر سکتے ہیں لیکن ہم پروبیشن بھرتی والے ٹیچرز کو پکا کرنے سے پہلے بھی اس پیمانے کو بنیاد نہیں بناتے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ طلبہ کی بہترین تعلیم و تربیت کے لیے اچھے اساتذہ کا ہونا ناگزیر ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ نہ تو بھرتی سے پہلے اچھے اساتذہ کا پتہ چلانے کے لیے ہمارے پاس کوئی قابل ذکر طریقہ کار ہے اور نہ ہی اب تک ہمارے ٹیچرز ٹریننگ پروگرامز کہیں کارگر ہو سکے ہیں۔ماہرین کے مطابق اساتذہ کا تدریسی معیار اور انداز بہتر کرنے کاواحد موثر حل دور جدید کے تعلیمی تقاضوں کے مطابق ان کوتربیت دینا ہے اور اس کے لیے تعلیم اور اساتذہ پر بھاری سرمایہ کاری کرنا ناگزیر ہے۔