کیا ایک صفحہ پھٹ گیا ہے؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 13 / اکتوبر / 2021
- 6620
12 اکتوبر کی تلخ یادیں ہماری پاکستانی تاریخ کا حصہ ہیں جب ایک سرکاری ملازم نے منتخب حکومت پر شب خون مارا اور پھر اسے ہضم کرنے کیلئے پاکستان پر طویل برسوں کیلئے آمریت کی سیاہ رات مسلط کئے رکھی۔
تلخ یادیں تو 16 دسمبر کی بھی ہیں جب پشاور کے معصوم پھولوں کو مذہب کے نام لیواؤں نے مسل ڈالا۔ تلخ یادیں تو 1971 کی بھی بہت ہیں جب عسکریت پسندی نے بنگالی عوام کی تکہ بوٹی جی، تلخ یادیں تو 47 کی بھی بہت زیادہ ہیں جب مذہب کے مقدس نام پر کروڑوں انسانوں کو لاوارث و بے گھر بنا دیا گیا۔ جب لاکھوں انسانوں کو حصول اقتدار کی خواہش نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ تلخ یادیں تو 65 اور پھر کارگل کی بھی بہت ہیں۔ کہتے ہیں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے مگر اس دھرتی پر تو کچھ زیادہ ہی دہراتی چلی آ رہی ہے۔ محض عسکریت والوں کا رونا کیا روئیں کہ وہ ہوس اقتدار میں آئین، پارلیمنٹ جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادیوں کا کھلواڑ کرتے ہیں۔ یہاں تو سویلین کٹھ پتلیوں کے دماغوں میں بھی اس ہوس کا کیڑا ایسے بیٹھتا ہے کہ چاہے عام آدمی کی چیخیں نکل جائیں، عوام جہنم میں جائیں انہیں تو بس مضبوط کرسی پیاری ہوتی ہے۔
ایک ایسے ہی اقتدار کے بھوکے نے کہا تھا کہ میری کرسی بڑی مضبوط ہے حالانکہ وہ کٹھ پتلی کی بیساکھیوں سے اس کرسی تک پہنچا تھا۔ وہ عوام سے اپنی محبت کے نعرے خوب لگاتا تھا لیکن اس کا عشق محض کرسی اقتدار سے تھا۔ اس نے عوام پر دوسری بڑی قیامت ڈھائی حتیٰ کہ خان عبدالولی خان جیسا عوامی حاکمیت اور انسانی حقوق کا علمبردار بھی چیخ اٹھا کہ اس حریص اقتدار عوامی ڈکٹیٹر کو ہٹانے کیلئے ہمیں شیطان کی مدد بھی لینی پڑی تو لیں گے۔ تاریخ نے اپنا آپ دہراتے ہوئے آج پھر عوام کو اس پھانسی گھاٹ پر لاکھڑے کیا ہے۔ ہمارا گمان تھا کہ اگلے انتخابات میں پھر پہلے جیسی دھاندلی ہو گی۔ یوں 77 والی تحریک کا مومینٹم ابھر کر سامنے آ جائے گا لیکن حالات تو اس سے پہلے ہی خرابی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آج کا ولی خان فضل خان بنتا ہے یا کوئی اور۔
کرسی اقتدار کے موجودہ حریص کا یوں تو ہر بیان ہی اتنا انوکھا ہوتا ہے کہ نئے کالم کی بنیاد بنایا جائے۔ کیونکہ انوکھا لاڈلا جو کہے گا انوکھی ہی کہے گا۔ رہ گیا کرنا کرانا اس کی حالت سب کے سامنے ہے۔ پنجابی محاورہ ہے کہ کوئی بھی شخص اتنا ہی ہڈ اٹھائے جتنے جوگا وہ ہے یا اتنے ہی جپھے مارے جتنی اس کی اوقات یا حیثیت ہے۔ لیکن کیا کیا جائے چھوٹا منہ بڑی بات اپنا آپ ہم سے سنبھالا نہیں جا رہا لیکن داعیہ عالمی سپر پاور کی رہنمائی کا ہے۔ ہر دوسرے انٹرویو میں طالبان طالبان ہو رہی ہے۔ ورنہ داعش امریکا کو کھا جائے گا۔ غلامی کی زنجیریں توڑنے والوں کو کبھی آپ مذہب سے جوڑتے ہیں، کبھی پشتون نیشنل ازم سے، کبھی حقانیوں کو پختونوں کا ایک قبیلہ قرار دینے لگتے ہیں۔ کبھی مدنی ریاست کی شان میں رطب اللسان ہو جاتے ہو، کبھی قبائلی سسٹم کے قصیدے پڑھنے لگتے ہو۔ کبھی کہتے ہو میں پلے بوائے رہا ہوں، کبھی تقوے و پرہیز گاری کی عدالتی ڈگریاں فائلوں میں اٹھائے پھرتے ہو۔
کبھی فرماتے ہیں کہ ’لندن میں بیٹھے شخص پر لوگ پھول کیوں پھینک رہے ہیں‘؟ حضور لوگ اس شخص پر اس لئے پھول پھینک رہے ہیں کہ اس میں دوسروں جیسی منافقت نہیں ہے۔ وہ جو ہے سو ہے ملاوٹی نہیں۔ جینوئن آدمی ہے جس نے کھوکھلے بھاشن نہیں دیے، کارکردگی دکھائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پروپیگنڈے کے طوفان میں جتنا بھی گند اس شخص پر پھینکا گیا ہے، وہ پلٹ کر پھینکنے والوں پر پڑا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جھوٹ کی دھول بیٹھنے لگتی ہے یوں عوام کو جھوٹے سچے، کھرے کھوٹے، کھوکھلے نعروں اور چرب زبانوں کی پہچان ہونے لگتی ہے۔ یہ ایک آزمودہ حقیقت ہے کہ مذہب کا سیاسی استعمال وہ لوگ کرتے ہیں جن میں اپنے اصل کام کو سمجھنے اور جانفشانی سے کارکردگی دکھانے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ جب وہ عوامی دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتے تو ردعمل میں ان کے خلاف عوامی نفرت اٹھتی ہے جس کے بالمقابل وہ مذہبی جذباتیت کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں۔ یوں تقدس کا لبادہ اوڑھے وہ رحمت اللعالمینؐ کا مقدس نام استعمال کرتے ہوئے ایسی اتھارٹی قائم کرنا چاہتے ہیں جس کی سربراہی پر وہ اپنا ماضی دیکھے بغیر خود براجماں ہو جائیں۔ یوں وہ اس سستی شہرت و مقبولیت کے ذریعے تنقید سے ماورا ہونا چاہتے ہیں، اپنی جعلی نیکوکاری کی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں۔ ورنہ ہمارے تعلیمی نصاب میں پہلے ہی ایسی کونسی بات ہے جو مقدس اتھارٹی کے برخلاف ہو۔ تنگ نظری پرمبنی نصاب نے تو پہلے ہی نئی نسلوں کو شاہ دولے کے چوہے بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔ اب آپ اس میں مزید کیا کسر نکالنا چاہتے ہیں؟
رہ گیا سوشل میڈیا، اس کا تو ویسے ہی خاتمہ کر ڈالیں تاکہ دل جلے عوام کہیں بھی بک بک نہ کر سکیں۔ اب اصل بات پر آتے ہیں جس کی تائید نہ کرنا سب سے بڑی بے اصولی ہوگی۔ ارشاد ہوا ہے کہ خالد بن ولیدؓ اتنا بڑا جنرل تھا لیکن خلیفہ وقت حضرت عمر فاروقؓ نے انہیں ان کے عہدے سے ہٹا کر کسی دوسرے کو جرنیل بنا دیا۔ کتنی خوبصورت بات کہی گئی ہے۔ 12 اکتوبر 1999 کو جب اس وقت کے منتخب حکمران نے اپنے جرنیل کو ہٹاتے ہوئے کسی دوسرے جنرل کو یہ کمان سونپی تھی، سب کو یاد ہو گا کہ اس حکمران پرجواباً کیسا وار ہوا تھا؟ حالانکہ اسے جونیئر پوسٹ سے اٹھا کر اس عہدے پر اسی حکمران نے بٹھایا تھا۔ درویش نے اس دن بلاسفیمی والے ایڈووکیٹ اسماعیل قریشی کا انٹرویو کرتے ہوئے جب خالد بن ولیدؓ کی مثال دی تو ان کے پاس کوئی دلیل نہ تھی مگر بولے کہ اس طرح تو اردلی کو بھی نہیں ہٹایا جا سکتا۔ عرض کیا کہ اردلی قوم کی پیٹھ میں چھرا بھی نہیں گھونپتا۔
بہرحال یہ ایک ایسی مثال ہے جسے ہر کوئی اپنے مفاد میں استعمال کر سکتا ہے۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے آپ خود عمر فاروق جیسے اوصاف اپنے اندر لائیں ورنہ میری بلی مجھے میاؤں میاؤں کہا جائے گا۔ یہاں تو منتخب جینوئن عوامی قیادت کو ایسی اصولی جسارت کتنی مہنگی پڑی تھی۔ ذرا اس کا حساب لگایا جائے۔ لیکن جس کی سکہ بند پہچان ہی یہ ہو کہ وہ مہربانوں کے کاندھوں پر سوار ہو کر اس کرسی تک پہنچا ہے ، اسے اتنا بڑا بول بولنے سے پہلے سو بار تولنا چاہیے تھا۔ جب نتیجہ معلوم ہے تو پھر کیا ضرورت تھی کابینہ میں جھک مارنے کی اور یوں اپنی سرعام رسوائی کروانے کی۔ اب پارلیمنٹ میں جائیں گے تو مزید سوچ لیجئے۔ پنجابی کی معروف کہاوت ہے کہ نانی نے نیا کھسم (خاوند) کیا، برا کیا، کرکے چھوڑا تو اور برا کیا۔