آئی ایم ایف سے مذاکرات کامیاب رہیں گے: شوکت ترین
- جمعرات 14 / اکتوبر / 2021
- 3460
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کامیاب ہوں گے اور 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت دوبارہ بحال ہوجائے گی۔
امریکا کے انسٹی ٹیوٹ آف پیس کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم نے آج تک جو پیشرفت کی ہے وہ حوصلہ افزا ہے اور اس دورے میں یہ ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا چھٹا دور امریکا کے دورے کا سب سے اہم حصہ تھا، کئی ورچوئل ملاقاتیں ہو چکی ہیں جبکہ تکنیکی سطح پر بات چیت بھی ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخری مرحلے پر آئی ایم ایف میں سینئرز کے ساتھ ملاقاتیں ہوں گی جن میں فنڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔
شوکت ترین نے کہا کہ ان کی حکومت کو یقین ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا مطالبہ افراط زر کو ہوا دے گا۔ یہ نکتہ فنڈ کے ساتھ تکنیکی بحث میں کیا گیا جس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹیرف میں اضافہ بتدریج کیا جائے گا تاکہ افراط زر پر کوئی اچانک اثر نہ پڑے۔ پاور سیکٹر میں کچھ مسائل تھے جس کے لیے حکومت کو ادائیگی کرنا پڑی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ترقی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور پاکستانی معیشت مالی سال 22-2021 کے دوران 5 فیصد سے زیادہ ترقی کرے گی۔ 1960 کی دہائی میں پاکستان کی معیشت ایشیا میں چوتھی بڑی تھی لیکن ذوالفقار علی بھٹو کی نیشنلائزیشن پالیسی اور 1979 میں افغان جنگ نے معاشی ترقی کو متاثر کیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے ایک ایسی معیشت سنبھالی جو 2018 میں 20 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور غیر مستحکم مالیاتی خسارے کے ساتھ جدوجہد کر رہی تھی۔ وزیر اعظم کو آئی ایم ایف کے سخت پروگرام کے علاوہ کرنسی کی قدر میں کمی سمیت کچھ غیر سیاسی فیصلے کرنے پڑے۔
مالی سال 2021 کے دوران ترقی گزشتہ سال 0.5 فیصد کے مقابلے میں 4 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی تقریبا 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے، انہیں نوکریوں کی ضرورت ہے لہذا حکومت نے زراعت، صنعت، برآمدات اور رہائش کو دوبارہ بحال کیا ہے۔