پی آئی اے نے افغانستان کیلئے فلائٹ آپریشن معطل کردیا

  • جمعرات 14 / اکتوبر / 2021
  • 6190

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے طالبان حکام کے غیر پیشہ ورانہ رویے کے باعث کابل کے لیے فلائٹ آپریشن معطل کر دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے بتایا کہ ہماری پروازوں کو اکثر کابل ایوی ایشن حکام کے غیر پیشہ ورانہ رویے کی وجہ سے غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  حالات سازگار ہونے تک فلائٹ آپریشن معطل رہے گا۔

ایک علیحدہ بیان میں ترجمان نے باور کرایا کہ پی آئی اے نے مشکل حالات کے باوجود کابل کے اندر اور باہر پروازیں جاری رکھی تھیں حالانکہ دوسرے ممالک اور پروازوں نے اپنا آپریشن بند کر دیا تھا۔ وہ اگست میں طالبان کی جانب سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والے انخلا کے عمل میں پی آئی اے کے کردار کا حوالہ دے رہے تھے جس میں افغان دارالحکومت میں پھنسے ہوئے ہزاروں لوگوں کا پی آئی اے نے پروازوں کے ذریعے انخلا یقینی بنایا۔

پی آئی اے کے ترجمان نے کہا تھا کہ افغانستان میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے بعد پی آئی اے نے تقریباً 3 ہزار افراد کا انخلا یقینی بنایا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ پی آئی اے کے کپتانوں اور عملے نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر انخلا کا عمل جاری رکھا تھا۔

فلائٹ آپریشن مالی طور پر زیادہ منافع بخش نہیں تھا اور یہ پروازیں صرف انسانی بنیادوں پر چلائی جا رہی تھیں۔ عبداللہ حفیظ خان نے کہا کہ ہم انشورنس پریمیئم کے طور پر 4لاکھ ڈالر سے زیادہ ادا کریں گے جو صرف اس صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب 300 مسافر دستیاب ہوں۔

اس سے قبل طالبان کی حکومت نے پی آئی اے اور افغان کام ایئر کو عوام کی سہولت کے لیے کابل اسلام آباد کرایہ کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ دونوں ایئرلائنز نے ابھی تک تجارتی پروازیں شروع نہیں کیں اور زیادہ کرایوں پر چارٹر پروازیں چلائی ہیں۔

افغانستان کی ٹرانسپورٹ اور سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں پی آئی اے اور کام ایئر سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ کابل اسلام آباد فضائی کرایہ 15 اگست سے پہلے والی سطح پر لے جائیں۔ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے فارسی اور دری زبان میں مراسلہ جاری کیا جو افغان ایوی ایشن وزارت اور آفیشل فیس بک پر پوسٹ کیا گیا۔

مراسلے میں دھمکی دی گئی کہ کرایہ کم نہ ہونے کی صورت میں پی آئی اے اور افغان ائیر لائن کی کابل فلائٹس پر پابندی لگا دی جائے گی۔ مراسلے میں مسافروں کو مخاطب کرکے کہا گیا کہ اگر کرایے میں کمی نہ ہوئی تو متعلقہ وزارت سے رابطہ کریں۔

کابل اسلام آباد کے کرایے سے متعلق اسلام آباد کی ایک خاتون صحافی نے بتایا کہ وہ گزشتہ روز افغانستان سے پاکستان پہنچی ہیں اور انہوں نے جانے اور واپس آنے کے لیے مجموعی طور پر 2700 ڈالر ادا کیے ہیں۔ اسلام آباد میں ایئر لائن آفس کے مطابق کام ایئر ریٹرن ٹکٹ کے 2 لاکھ روپے وصول کررہی ہے۔ پی آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ انشورنس کی قیمت بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے زیادہ کرایہ وصول کرنے پر مجبور ہیں۔

کام ایئر لائن نے 9 اکتوبر کو پاکستان کے لیے پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن 13 اکتوبر سے دوبارہ آپریشن شروع کردیا۔ کام ایئر لائن کی جانب سے مسافروں کو بروقت آگاہ نہ کرسکنے کے باعث کئی مسافر فلائٹ سے محروم ہوگئے تھے۔