ناروے کے شہر کونگسبرگ میں تیر کمان سے حملے میں پانچ افراد ہلاک
- جمعرات 14 / اکتوبر / 2021
- 5980
ناروے میں تیر کمان سے متعدد شہریوں کو ہلاک کرنے والے شخص نے اسلام قبول کر لیا تھا اور وہ شدت پسندی کی طرف مائل تھا۔ گزشتہ شام کونگسبرگ کے شہر میں ایک 37 سالہ شخص نے تیر کمان اور دیگر ہتھیار سے حملہ کرکے پانچ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔
اس سانحہ میں دو افراد زخمی ہوئے تھے تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ 37 سالہ حملہ آور کو مقامی وقت کے مطابق چھے بج کر 47 منٹ پر گرفتار کرلیا گیا تھا تاہم پولیس اس بارے میں زیادہ تفصیلات بتانے سے گریز کررہی ہے۔ حملہ آور ڈنمارک کا شہری ہے تاہم گزشتہ بیس برس سے ناروے میں مقیم ہے۔ گزشتہ سال اپنے والدین کو دھمکانے کے الزام میں اس پر اہل خاندان کے گھر جانے پر پابندی بھی لگائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ وہ بعض معمولی جرائم میں بھی ملوث رہا ہے۔ مرنے والے پانچ افراد میں چار خواتین اور ایک مرد ہے۔ ان کی عمریں پچاس سے ستر برس کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
علاقے کے پولیس چیف اولے بریڈرپ سیورڈ کا کہنا تھا کہ افسران نے آخری مرتبہ اس شخص کو 2020 میں گرفتار کیا تھا اور اس دوران اس سے رات بھر تفتیش کی گئی تھی۔ پولیس کو دارالحکومت اوسلو کے جنوب مغرب میں واقع قصبے کونگس برگ سے مقامی وقت کے مطابق سوا چھے بجے اس واقعے کے بارے میں اطلاع ملی۔
پولیس سربراہ اویوند آس نے اس واقعے کے فوراً بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ایک مشتبہ شخص کو پکڑا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس نے یہ کام اکیلے کیا ہے۔ پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق اس بارے میں تفتیش کی جائے گی کہ آیا یہ دہشتگردی کا واقعہ تو نہیں۔ذریعہREUTERS
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آور نے کونگس برگ کی ایک سپر مارکیٹ کے اندر حملہ کیا۔ زخمی ہونے والوں میں ایک آف ڈیوٹی پولیس افسر ہے جو اس وقت سپر مارکیٹ میں موجود تھا۔ سپر مارکیٹ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ان کے سٹور پر ایک ’سنگین واقعہ‘ ہوا تاہم انہوں نے بتایا کہ کہ ان کے عملے کے کسی بھی شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
مبینہ طور پر حملہ آور اور پولیس کے درمیان لڑائی بھی ہوئی جس کے بعد مقامی وقت کے مطابق 18:47 بجے اس شخص کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس سربراہ اویوند آس نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس بات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا حملہ آور نے اس واقعے کے دوران دیگر ہتھیار بھی استعمال کیے تھے۔
حکام نے شہر کے کئی حصوں کو گھیرے میں لے لیا اور اہل علاقہ کو اپنے گھروں کے اندر رہنے کا حکم دیا گیا تاکہ جائے وقوعہ کا جائزہ لے کر شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔ واقعے کے بعد درجنوں ایمرجنسی گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جن میں ایمبولینس، پولیس کاریں اور ہیلی کاپٹر شامل تھیں۔
اے ایف پی نیوز ایجنسی کے مطابق ایک عینی شاہد نے مقامی ٹی وی 2 کو بتایا کہ اس نے ایک ہنگامہ سنا اور ایک عورت کو اوٹ لیتے ہوئے دیکھا، ایک شخص کونے پر کھڑا تھا جس کے کندھے پر تیر اور ہاتھ میں کمان تھا۔ اس کے بعد میں نے لوگوں کو اپنی زندگیاں بچانے کے لئے بھاگتے ہوئے دیکھا۔ ملزم کو درامن قصبے کے ایک پولیس سٹیشن لے جایا گیا ہے تاہم اس سے ابھی پوچھ گچھ ہوگی۔
واضح رہے یہ سانحہ ملک میں حکومت کی تبدیلی سے ایک روز پہلے پیش آیا اتاہم سبکدوش ہونے والی وزیر اعظم ارنا سولبرگ نے رات گئے ایک پریس کانفرنس میں عوام کو یقین دلایا کہ حالات مکمل طور سے کنٹرول میں ہیں اور اس معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اب آربائیدر پارٹی کے یوناس گار ستورے نئے وزیر اعظم کے فرائض سنبھال چکے ہیں اور انہوں نے اس واقعہ کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔
ملکی خفیہ ایجنسی پی ایس ٹی اس معاملہ میں پولیس کی مندد کررہی ہے اور اس بات پر غور کیا جارہا ہے کہ کیا اس ہلاکت خیزی کا تعلق مذہبی انتہا پسندی سے ہوسکتا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہے کہ حملہ آور کا کیا مقصد تھا اور اس نے یہ انتہائی اقدام کیوں کیا۔