برطانوی رکن پارلیمنٹ کو چرچ میں چاقو سے حملے میں ہلاک کردیا گیا
- جمعہ 15 / اکتوبر / 2021
- 3700
وزیراعظم بورس جانسن کی کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چرچ میں چاقو سے کیے گئے حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایسکس پولیس نے بتایا کہ اپنے انتخابی حلقے میں ووٹرز سے ملاقات کرنے والے برطانوی 69سالہ رکن پارلیمنٹ کو ایک شخص نے چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا۔ ان پر ایکسکس کے مغربی علاقے میں واقع بیلفیئرز میتھوڈسٹ چرچ میں حملہ کیا گیا اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
پولیس نے فوری طور ایک شخص کو گرفتار کر لیا اور پولیس کا کہنا ہے کہ وہ حملے کے شبے میں کسی اور شخص کو تلاش نہیں کررہے۔ ایمرجنسی سروس نے چرچ میں ہی انہیں طبی امداد فراہم کی لیکن یہ کوششیں رائیگاں گئیں اور ڈیوڈ امیس موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
پولیس نے ایک 25سالہ نوجوان کو جائے حادثہ سے قتل کے شبے میں گرفتار کر کے حملے میں استعمال ہونے والے چاقو کو برآمد کر لیا ہے۔ ڈیوڈ امیس شادی شدہ تھے اور ان کے پانچ بچے تھے۔ وہ پہلی مرتبہ 1983 میں رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد 1997 میں بھی ساؤتھ اینڈ ویسٹ سے الیکشن میں کھڑے ہوئے تھے۔
موقع پر موجود مقامی کونسلر ڈیوڈ لیمب نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کو کئی مرتبہ چاقو گھونپا گیا۔ ڈیوڈ امیس خواتین کے اسقاط حمل کے خلاف آواز بلند کرنے کے علاوہ جانوروں کی فلاح کے لیے کام کرنے کے لیے شہرت رکھتے تھے۔
2016 میں حملے میں ہلاک ہونے والی رکن پارلیمنٹ جو کوکس کے شوہر نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ ہمارے منتخب نمائندوں پر حملہ کرنا جمہوریت پر حملہ کرنے کے مترادف ہے، اس کا کوئی عذر نہیں اور یہ بزدلانہ عمل ہے۔ برطانیہ میں اراکین پارلیمنٹ پر حملے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں لیکن اپنے کام کی نوعیت کی وجہ سے بعض اوقات چند اراکین کو اس طرح کے حملوں کا سامنا رہا ہے۔
قانون ساز ڈیوڈ ایمیس کو ووٹرز کے ساتھ ملاقات کے دورابن چاقو مارا گیا، اس ملاقات کو سرجری کہا جاتا ہے جو قانون سازوں کے لیے ایک غیر رسمی ماحول میں اپنے حلقے کے عوام سے ملنے، ان کے مسائل سننے اور انہیں مشورہ دینے کا موقع ہوتا ہے۔
اس سے قبل انگلینڈ میں کچھ اراکین پارلیمنٹ پر حلقے کی سرجری کے دوران یا ملاقات کے لیے جاتے ہوئے حملہ کیا جا چکا ہے