ایپل نے چینی حکومت کے کہنے پر چین میں قرآن ایپ بند کر دی
- جمعہ 15 / اکتوبر / 2021
- 5760
ایپل نے تصدیق کی ہے کہ اس نے حکام کے کہنے پر چین میں قرآن کی سب سے مقبول ایپ کو بند کر دیا ہے۔ قرآن مجید نامی ایپ دنیا بھر میں ایپ سٹور پر دستیاب ہے اور اس کے ریویوز کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ایپل نے اس ایپ کو چینی حکام کی درخواست پر اپنے ایپ سٹور سے ہٹا دیا ہے۔ ایپ کے ڈیلیٹ ہونے کے بارے میں سب سے پہلے ویب سائیٹ ایپل سنسرشپ کو معلوم ہوا جو دنیا بھر میں ایپل کے ایپ سٹور میں کو مانیٹر کرتی ہے۔
جب چین کی حکومت سے ردعمل کے لیے رابطہ کیا گیا تو اس نے جواب نہیں دیا۔ چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی اسلام کو ملک کے اندر ایک مذہب کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔ تاہم چین پر حقوق انسان کی خلاف ورزیوں، حتٰی کہ سنکیانگ صوبے میں ایغور مسلمانوں کی نسل کشی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
ایپل سے جب رابطہ کیا گیا تو اس نے براہ راست تبصرے کے لیے بی بی سی کو اس کی ہیومین رائٹس پالیسی سے رجوع کرنے کو کہا، جس میں لکھا ہے: ’ہم مقامی قوانین کی پیروی کرنے کے پابند ہیں، اور بعض اوقات ایسے پچیدہ مسائل سامنے آ جاتے ہیں جن پر ہم حکومتوں کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے۔‘
یہ واضح نہیں ہے کہ چین میں ایپل نے کن ضابطوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ قرآن مجید ایپ کا اپنے بارے میں کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 35 ملین مسلمان اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ایپ بنانے والی کمپنی پی ڈی ایم ایس نے ایک بیان میں کہا کہ ’ایپل کے مطابق ہماری ایپ قرآن مجید کو چین میں ایپ سٹور سے اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ اس میں غیر قانونی مواد تھا۔‘ کمپنی نے کہا کہ ’ہم مسئلے کے حل کے لیے چین کی سائبر سپیس انتظامیہ اور دیگر حکام سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ کمپنی کے مطابق چین میں دس لاکھ افراد ان کی ویب سائیٹ استعمال کرتے تھے۔
گزشتہ ہفتے ایپل اور گوگل نے ایک ووٹنگ ایپ ہٹائی تھی جس سے روسی حزب اختلاف کے راہنما ایلکسی نیوالنے نے بنایا تھا۔ ایپ بند نہ کرنے کی صورت میں روسی حکام نے دونوں کمپنیوں پر جرمانہ عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یہ ایپ صارفین کو بتاتی تھی کہ حکمراں جماعت کے امیدواروں کو کون ان کی سیٹوں سے ہٹا سکتا ہے۔
چین ایپل کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور کمپنی کی مصنوعات کا انحصار بڑی حد تک چین میں بننے والی اشیا پر ہے۔ امریکی سیاسی راہنما ایپل کے چیف ایگزیکٹیو ٹِم کُک پر یہ کہہ کر منافقت کا الزام لگاتے ہیں کہ وہ امریکی سیاست پر تو تنقید کرتے ہیں لیکن چین کے معاملے میں چپ سادھ لیتے ہیں۔
ٹِم کُک نے 2017 میں سابق صدر ٹرمپ کے سات مسلم اکثریتی ممالک پر پابندی لگانے کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔ ان پر اس لیے بھی تنقید کی جاتی ہے کہ وہ سینسرشپ کے مسئلے پر چینی حکومت سے ملے ہوئے ہیں اور مسلم اقلیت کے ساتھ برتاؤ کی کھل کر مذمت نہیں کرتے۔
بی بی سی نے قرآن مجید ایپ بنانے والوں سے بھی رابطہ کیا تاہم انہوں نے جواب نہیں دیا۔ ایک اور مقبول مذہبی ایپ، آلِیو ٹرِیس بائبل ایپ، بھی اس ہفتے چین میں بند کر دی گئی تھی، تاہم ایپل کا کہنا ہے یہ کمپنی کا اپنا فیصلہ تھا۔