بھارت شرپسندوں پر سختی کرے تاکہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو: شیخ حسینہ

  • جمعہ 15 / اکتوبر / 2021
  • 5540

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ دُرگا پوجا کے مقام اور ہندو برادری کے مندروں پر حملہ کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ ان حملوں میں بنگلہ دیش کے چاند پور علاقے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں قراآن کی مبینہ بے حرمتی کی وجہ سے درگا پوجا کے کئی مقامات پر توڑ پھوڑ کی گئی تھی اور اقلیتی ہندو برادری کے کم از کم 150 خاندانوں پر حملہ کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد انڈین ریاست مغربی بنگال کی کئی تنظیموں نے بدھ کی رات ہونے والے اس تشدد کی شدید مذمت کی تھی۔ وشو ہندو پریشد نے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر بی جے پی کے سوشل میڈیا سربراہ امیت مالویہ نے بنگلہ دیش میں دُرگا پوجا کے مقامات پر حملے پر کہا ہے کہ 'بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی مذہبی آزادی خطرے میں ہے‘۔ اس کے بعد بی بی سی بنگلہ سروس کے مطابق شیخ حسینہ نے انڈیا کو مشورہ  دیا ہے کہ اسے شرپسندوں کے ساتھ سختی سے پیش آنا چاہیے۔ شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ 'انڈیا میں بھی ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے جو ہمارے ملک کو متاثر کرے اور ہمارے ملک میں ہندوؤں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ اگر انڈیا میں ایسا کچھ ہوتا ہے تو ہمارے ہاں ہندو متاثر ہوتے ہیں۔ انڈیا کو بھی اس حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔‘

جمعرات کو بنگلہ دیش کے وزیر اعظم نے یہ بات دارالحکومت ڈھاکہ کے ڈھکیشوری مندر میں ہندوؤں کو دُرگا پوجا کے موقع پر مبارکباد دیتے ہوئے کہی۔ وزیر اعظم نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پوجا میں شرکت کی تھی۔

شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش کے ہندوؤں سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اقلیت نہ سمجھیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کی طرح اپنی رسومات کا اہتمام کرتے رہیں۔ شیخ حسینہ نے کہا کہ تمام مذاہب کے لوگ اس مٹی میں پیدا ہوئے اور اور انہوں نے یہیں پرورش پائی ہے۔ بنگلہ دیش کے معروف انگریزی اخبار 'ڈھاکہ ٹریبیون' کے مطابق شیخ حسینہ نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مجرم کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ مجرم پکڑے جائیں گے اور انہیں سزا دی جائے گی۔

ڈھاکیشوری بنگلہ دیش کا سب سے بڑا مندر ہے اور دارالحکومت ڈھاکہ کا نام اس کے نام پر رکھا گیا ہے۔ 2018 میں وزیر اعظم شیخ حسینہ نے دُرگا پوجا کے موقع پر دارالحکومت ڈھاکہ کے ڈھکیشوری ہندو مندر کو 1.5 بیگھا زمین دی تھی۔

شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی سرگرمیوں سے ہم بھی متاثر ہوئے ہیں۔ نہ صرف ہمیں بلکہ پڑوسی ملک کو بھی اس بارے میں محتاط رہنا ہے۔ ہمسایہ ملک انڈیا نے جنگ آزادی میں ہماری مدد کی تھی اور ہم اس کے لیے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے۔

بنگلہ دیش میں حملے کے بارے میں انڈیا کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے بنگلہ دیش کی فوری کارروائی کی تعریف کی ہے۔ جمعرات کو ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوری کارروائی سے صورتحال کو قابو کر لیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش میں بہت سے اسلامی بنیاد پرست دھڑے ہیں جو شیخ حسینہ کی حکومت سے ناراض ہیں۔ گزشتہ سال بنگلہ دیش کے بنیاد پرست اسلامی گروپ حضرت اسلام کے نئے سربراہ جنید بابونگری نے کہا تھا کہ 'ملک میں تمام بتوں کو گرا دیا جائے گا اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون سا بت کس کا ہے'۔ انہوں نے شیخ مجیب الرحمن کا مجسمہ نصب کرنے کی بھی مخالفت کی تھی۔

بنگلہ دیش کی 149 ملین آبادی میں تقریباً آٹھ عشاریہ پانچ فیصد ہندو ہیں۔ ضلع کومیلا سمیت کئی دیگر اضلاع میں ہندو برادری کے لوگوں کی بڑی آبادی ہے۔