قندھار کی امام بارگاہ میں دھماکا، 33 افراد جاں بحق
- جمعہ 15 / اکتوبر / 2021
- 4560
افغانستان کے شہر قندھار کی ایک امام بارگاہ میں نماز جمعہ کی نماز کے دوران بم دھماکے کے نتیجے میں 33 افراد جاں بحق اور 74 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق طالبان عہدیداروں نے بتایا کہ شمالی افغانستان کے شہر قندھار میں نماز جمعہ کے دوران خود کش حملہ کیا گیا۔ ایک مقامی عہدیدار نے کہا کہ ہمیں ابتدائی طور پر موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حملہ خود کش تھا، جس نے مسجد کے اندرخود کو اڑا دیا اور مزید تفتیش کی جارہی ہے۔
شہر کے مرکزی ہسپتال کے ترجمان نے کہا کہ ہسپتال میں 33 لاشیں اور 74 زخمیوں کو لایا گیا۔ ابتدائی طور پر دھماکے کی نوعیت معلوم نہیں ہوسکی لیکن یہ شمالی شہر قندوز کی امام بارگاہ میں خودکش بم دھماکے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد ہوا جس کی ذمہ داری ’داعش‘ نے قبول کی تھی۔
وزارت داخلہ کے ترجمان قاری سعید خوستی نے کہا کہ دھماکے سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام، دھماکے کی تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں۔ ترجمان نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ہمیں یہ بتاتے ہوئے افسوس ہے کہ قندھار شہر کے پہلے ضلع میں ایک امام بارگاہ میں دھماکا ہوا جس میں ہمارے متعدد ہم وطن جاں بحق و زخمی ہوئے۔
اسلامی امارات کی خصوصی فورسز دھماکے کی نوعیت معلوم کرنے اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے جائے وقوع پر پہنچ گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں بہت سے افراد کو امام بارگاہ کے فرش پر دیکھا جاسکتا ہے جو شدید زخمی ہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے تین دھماکے سنے جن میں سے پہلا امام بارگاہ کے مرکزی دروازے، دوسرا جنوبی دروازے جبکہ تیسرا وضو خانے میں ہوا۔ صوبائی کونسل کے سابق رکن نعمت اللہ وفا نے کہا کہ دھماکا امام بارگاہ میں ہوا جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ تاحال کسی تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
واضح رہے کہ طالبان کے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے مسجد پر ہونے والا یہ تیسرا دھماکا ہے۔ حال ہی میں ایک بیان میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ امارت اسلامیہ ان کا تعاقب کررہی ہے اور ہماری افواج داعش کی جڑیں تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ ہفتے میں ہم نے داعش سے تعلق رکھنے والے کئی لوگوں کو گرفتار کیا اور ان کے کئی محفوظ ٹھکانوں کو تباہ کر دیا ہے جبکہ ان کے کئی حملوں کو بے اثر کر دیا ہے۔