منفی رجحانات اور سوچ
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 15 / اکتوبر / 2021
- 4540
یہ ایک بنیادی نوعیت کا سوال ہے کہ ہم بطور معاشرہ مجموعی طور پر منفی بنیادوں پر کیوں سوچتے ہیں؟ کیونکہ اگر ہم اپنی علمی، فکری مباحث ہی کو دیکھیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ لوگ مختلف امو رپر مثبت پہلووں کے مقابلے میں منفی پہلوؤں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
بالخصوص معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے ہماری گفتگو میں مایوسی کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔کسی بھی امور پر تنقید کرنا ہر فرد کا بنیادی حق ہے او ریہ حق ہی جمہوریت کی مضبوطی یا معاشرے میں رواداری کے پہلو کو مضبوط کرنے کا سبب بنتا ہے۔ مگر ہم یہ تواتر کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ ہم انفرادی سطح پر تنقید اور تضحیک کے درمیان بنیادی نوعیت کے فرق کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ ہماری گفتگو میں تنقید سے ذیادہ تضحیک کا پہلو نمایاں ہوتا ہے او رہم عملی طو رپر کوشش کرتے ہیں کہ مخالف نقطہ نظر پر مثبت انداز میں تنقید کرنے کی بجائے ان کی تضحیک کرنے کو زیادہ پسند کرتے ہیں یا اس میں اپنے لیے سکون یا خوشی کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ مسئلہ کسی ایک فریق کا نہیں بلکہ اس میں مجموعی طو رپر تمام فریق کسی نہ کسی شکل میں شامل ہیں۔ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم عملی طور پر بطور قوم مکالمہ کے کلچر سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ ہم مکالمہ کے مقابلے میں اپنی سوچ و فکر کو ہی درست سمجھ کر دوسروں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں او ریہ ہی ہمارا علمی و فکری بیانیہ بھی بن گیا ہے۔اختلاف فطری امر ہوتا ہے او رہمارے جیسے معاشرے کو کسی ایک مخصوص نقطہ نظر سے جبر کی بنیاد پر جوڑ کر نہیں رکھا جاسکتا۔لیکن یہاں اختلافات کو بنیاد بنا کر خود کو بھی الجھانا اور سیاسی،سماجی، مذہبی، لسانی، علاقائی بنیادوں پر تقسیم کو پیدا کرنا ہمارے معمول کا حصہ بنتا جارہا ہے۔مخالف نقطہ نظر کے لوگوں کے بارے میں تعصبات، نفرت سمیت مختلف نوعیت کے سیاسی اور مذہبی فتوے بازی کے کھیل نے معاشرے کے حقیقی حسن کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔
کسی بھی پہلو یا چیز کے بارے میں جائزہ لیتے ہوئے ہم ایک ہی وقت میں مثبت او رمنفی پہلوؤں کو سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ ہم رائے دیتے ہوئے یا تجزیہ پیش کرتے ہوئے محض منفی آنکھ سے چیزوں کو دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ہمارے یہاں منفی خبر بڑی او رمثبت خبر چھوٹی بن کر رہ گئی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ جب ہم ریٹنگ کی دنیا کا حصہ بن گئے ہیں تو منفی خبریں ہی پاپولر سیاست کا حصہ بن کر مثبت پہلوؤں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ہم اگر اپنی علمی و فکری مجالس کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ پاکستان ٹوٹ گیا ہے، برباد ہوگیا ہے، ہم بہت ہی کمزور ہوگئے ہیں، معاشرہ مکمل طور پر بگاڑ کا شکار ہوگیا ہے، یہاں کسی کو کوئی بنیادی حق حاصل نہیں، ہم کرپٹ لوگ ہیں، انصاف کا نظام مفلوج ہوگیا ہے، ریاستی و حکومتی ادارے تباہ ہوگئے ہیں،ترقی ہم سے دور ہے یا پاکستان کا کچھ نہیں ہوسکتا۔ یہ مباحث سن کر ایسے لگتا ہے کہ ہم بطو رمعاشرہ مفلوج ہوگئے ہیں یا ہم ناکام ریاست میں تبدیل ہوگئے ہیں۔
بعض اوقات تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں باہر سے کسی دشمن کی ضرورت نہیں کیونکہ یہاں داخلی سطح پر ایسے لوگ موجود ہیں جو معاشرے کواس انداز میں پیش کرتے ہیں جو عالمی دنیا میں خو د ہماری بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔یہ بات کافی حد تک بجا ہے کہ یہاں بہت سے سنگین نوعیت کے مسائل ہیں مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ یہاں کچھ ایسا نہیں ہورہا جو ہمارے معاشرے کی مثبت عکاسی کرسکے۔ماشااللہ ایسے ایسے لوگ اس طرح کے مباحث کرتے ہیں جو بہت زیادہ پڑھے لکھے، وسائل رکھنے والے اور خوشحالی طبقہ سے ہوتے ہیں مگر ان کی گفتگو سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم سب برباد ہوگئے ہیں۔بعض اوقات ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ماتم کرنا ہمارا قومی شعار بن گیا ہے او رجب ان کے سامنے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے تو پھر ان کو طاقت کے مراکز کا ایجنٹ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔مسائل دنیا میں موجود ہیں اور وہاں کا اہل دانش یا ریاستی وحکومتی نظام ان مسائل کا حل تلاش کرکے آگے بڑھتے ہیں۔لیکن ہم میں سے بہت سے لوگوں کو صرف ساری خرابی پاکستان میں ہی نظر آتی ہے۔ بلکہ دیگر ممالک کا سیاسی گند او رجو کچھ باہر کی قوتیں ہمیں کمزور کرنا چاہتی ہیں اس میں بھی ہمیں قصور ان سے زیادہ اپنا لگتا ہے۔
میڈیا کی ریٹنگ نے بھی لوگوں کو منفی باتوں میں بہت زیادہ الجھا دیا ہے او ربدقسمتی سے مثبت بات کے مقابلے میں منفی بات میڈیا میں زیادہ اہمیت رکھتی ہے تاکہ لوگوں کو متوجہ کرکے ریٹنگ کے عمل کو زیادہ طاقت دی جائے۔ اسی طرح میڈیا میں مجموعی طور پر تنقید تو بہت ہوتی ہے مگر ان مسائل کے حل کی طرف سنجیدہ کوششوں کا فقدان نظر آتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا میں جو مختلف امو رپر منفی کھیل نمایاں ہے اس نے بھی لوگوں کو ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلاکردیا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ ہم نے کسی بھی شعبہ میں ترقی یا پیش رفت نہیں کی سوائے بربادی کے۔یہ ہی مزاج ہمیں سیاسی محاذ پر بھی نظر آتا ہے۔جہاں محض الزام تراشی، کردار کشی، جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنا اور مختلف نوعیت کے سرٹیفیکیٹ کو جاری کرکے مختلف کرداروں کو منفی انداز میں پیش کرنا ہی ہماری سیاست کا وطیرہ بن گیا ہے۔
یہ بات غور طلب ہے کہ ہم اپنا او رملک کا سافٹ امیج کیوں نہیں پیش کررہے او رکیا واقعی ایسا کوئی امیج نہیں جو اس ملک کی او رملک میں موجود لوگوں کی مثبت عکاسی کرسکے؟اصل میں مسئلہ ہماری اجتماعی سوچ او رفکر کا ہے او رہم مثبت باتوں کے مقابلے میں بہت زیادہ منفی انداز میں سوچنے کے عادی بنتے جارہے ہیں۔اس میں قصور کسی ایک فر دیا ادارے کا نہیں بلکہ سارے ہی معاشرتی، سیاسی، سماجی او رریاستی فریق ہی ذمہ دار ہیں جو معاشرے کی تشکیل نو اور رائے عامہ کو مثبت انداز میں تشکیل دینے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ مجموعی طور پر ہمارا رسمی یا غیر رسمی تعلیمی نظام ذہن سازی کو بنانے میں ناکام ہوا ہے۔ہم شواہد او رحقایق کے مقابلے میں زیادہ جذباتیت کے انداز میں سوچتے ہیں او ریہ عمل بلاوجہ کی معاشرے میں ردعمل کی سیاست کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے۔
فرد یا معاشرے کے کسی فریق یا ادارہ کے اندر اگر مجموعی طور پر مایوسی او رناکامی کی کیفیت ہوتی ہے تو وہ اس کو خود تک محدود نہیں کرتا بلکہ وہ اس مایوسی کو ایک بڑی مایوسی بنا کر دوسروں میں بھی منتقل کرتا ہے۔اس لیے اگر مایوسی کے کاروبار کو ہم نے جان بوجھ کر یا لاشعوری طور پر پھیلانا ہے تو اس سے معاشرے کی مثبت تشکیل نو ممکن نہیں ہوگی۔یہ ٹھیک ہے کہ مثبت سوچ کو ئی ٹیکہ نہیں کہ وہ اگر کسی کو لگادیا جائے تو پھر اس کے بعد وہ بس مثبت ہی سوچے گا۔ یہ ایک عمل ہے جس نے تسلسل کے ساتھ آگے بڑھنا ہے او را س میں آگے بڑھنے کی جستجو، لگن، شوق اور محنت ہی ہمیں مایوسی سے نکا ل کر مستقبل او رامید یا ترقی کے عمل میں لے کر جاتی ہے۔اس لیے خدارا بطور معاشرہ کے فرد کے ہمیں محض مایوسی کو بنیاد بنا کر اپنا بیانیہ پیش کرنے کی بجائے تعمیری انداز میں بھی اپنی سوچ او رفکر کو آگے بڑھانا چاہیے۔ہمارا انداز یا عمل معاشرے کی تعمیر نو پر ہی ہونا چاہیے نہ کہ ہم انتشار کی سیاست کا حصہ بنیں۔
اس میں ایک بڑا کردار رائے عامہ بنانے والے افراد یا اداروں کا ہے کہ وہ لوگوں کی ذہن سازی کریں جن میں والدین، استاد، عالم دین،،صحافی، سیاست دان،علمی و فکری ماہرین شامل ہیں۔ہمیں فرسودہ طور طریقو ں یا روائتی طریقوں کے مقابلے میں جدید انداز میں لوگوں میں سیاسی، سماجی شعور دینا ہوگا او ریہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ ہم نے ہی اس ملک میں رہنا ہے اور اس سے جڑے مسائل کا حل بھی ہماری اپنی ہی جدوجہد سے جڑا عمل ہے۔