امریکہ کابل ڈرون حملہ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضہ دے گا
- ہفتہ 16 / اکتوبر / 2021
- 3620
امریکہ کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ ان 10 افراد کے لواحقین کو معاوضہ دینے کے لیے پر عزم ہے جو رواں برس اگست میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکہ کے ڈرون حملے میں غلطی سے مارے گئے تھے۔
پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ وزارتِ دفاع اس حملے میں بچ جانے والے افراد کی امریکہ منتقلی کے لیے وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق جان کربی کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ رواں ہفتے جمعرات کو وزارتِ دفاع کے انڈر سیکریٹری برائے پالیسی ڈاکٹر کولن کاہل اور غیر منافع بخش تنظیم کے صدر ڈاکٹر اسٹیون کون کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران اٹھایا گیا۔
جان کربی کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر کاہل نے امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن کو ان خاندانوں کی مدد کرنے کا اعادہ ظاہر کیا جس میں ان خاندانوں کو دیا جانے والا معاوضہ بھی شامل ہے۔ تاہم جان کربی کی طرف سے معاوضے کے طور پر دی جانے والی رقم کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
خیال رہے کہ 29 اگست کو امریکہ کے ڈورن حملے میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک کار کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کار کو زمیری احمدی چلا رہے تھے۔ انہوں اس کار کو اپنے کمپاؤنڈ میں کھڑا کیا تھا جب اسے نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں احمدی کے خاندان کے 10 افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں سات بچے بھی شامل تھے۔
تاہم کچھ ہفتوں بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک مکینزی نے اس حملے کو ‘سنگین غلطی’ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس حملے میں معصوم شہری ہلاک ہوئے۔
جان کربی کا کہنا تھا کہ جمعرات کو ہونے والی ملاقات کے دوران بتایا گیا کہ احمدی ‘این ای آئی’ کے لیے کئی برس سے کام کر رہے تھے اور وہ افغانستان میں اموات کی بلند شرح کا سامنا کرنے والے لوگوں کی دیکھ بھال اور ان کی جان بچانے میں مدد فراہم کرتے تھے۔
خیال رہے کہ اس ڈرون حملے سے قبل کابل ایئر پورٹ کے ایک دروازے پر ہونے والے ایک خود کش حملے میں 169 افغان شہری اور 13 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ جس کی ذمہ داری داعش کی ذیلی تنظیم نے قبول کی تھی۔