لوگو حقہ نہیں تمباکو پیا ہے!
سنا ہے کہ پاکستان کے پہلے فوجی صدر جنرل ایوب خان نے ایک بار کہا کہ پٹواری ان سے زیادہ طاقتور ہے۔
جتنے داؤ پیچ پٹواری جانتا ہے، اتنے وہ نہیں جانتے۔ پٹواری حاکم کی بات مان کر بھی اپنی مرضی کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتا ہے۔ پٹواری کے بارے میں یہ تاثر کوئی اتنا اچھا نہیں لیکن انگریز کہتے ہیں:
"There is always an exception."
یعنی ضروری نہیں کہ سارے لوگ برابر ہوں۔ اسی طرح میرے ایک خالہ زاد ہیں جن کا نام پٹواری ممتاز خان ہے۔ لوگ عام پٹواریوں سے تو خائف رہتے ہیں لیکن ہمارے بھائی کے پاس جو ایک بار چلا جائے وہ انہیں بار بار ملنا چاہتا ہے جس کی وجہ ان کا فن مجلس ہے۔ ان کی باتوں میں مٹھاس اور حکمت اور اکبر بادشاہ کے وزیر ملا دو ہیازے کی طرح ہر سوال کا جواب ہوتا ہے۔ پٹواری صاحب نے کافی ساری شادیاں کی ہوئی ہیں۔
ایک دفعہ ایک من چلے نے ان کے تجربے سے استفادہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا کہ پٹواری صاحب فرض کریں میں کسی ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں جس کے والدین تو مانتے ہیں مگر لڑکی بہت منہ زور اور ضدی ہے جو میرے ساتھ شادی کے لیے تیار نہیں۔ تو بتائیے اسے کیسے قائل کیا جائے۔ پٹواری ممتاز صاحب نے پہلے کھنگورا لگایا یعنی گلا صاف کیا ۔ پھر نظریں اٹھاکر جوان کے
چہرے پر گاڑھ دیں:
"دیکھو۔۔۔ عزیزم ۔۔ پہاڑی پر کبھی گئے ہو؟"
مسکرائے اور یوں گویا ہوئےجوان نے کہا جی ہاں کئی بار گیا ہوں۔ پٹواری ممتاز صاحب نے کہا اگر گئے ہو تو پھر جانتے ہو گے کہ پہاڑی پر دوڑ کر جاؤ گے تو تھک جاؤ گے اور راستے میں حادثہ بھی ہو سکتا ہے لیکن اگر آرام آرام سے جائؤگے تو منزل پر پہنچ جاؤ گے اور حادثے کا بھی خطرہ نہیں ہو گا۔ اسے انگریزی میں کہتے ہیں:
Slow and steady wins the race
اور ہم لوگ اسے صبر کا پھل میٹھا کہتے ہیں۔ پٹواری صاحب نے اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ برخوردار عورت کے معاملے میں جلد بازی کبھی نہیں کرنی چاہیے۔ دھیرے دھیرے کام بہتر رہتا ہے۔
پٹواری ممتاز صاحب مجھ سے عمر میں کافی بڑے ہیں۔ اس لیے زیادہ تر میں ہی ان کو ملنے جاتا ہوں۔ اب وہ عمر رسیدہ اور کئی بیماریوں کا شکار ہیں لیکن ان کی حکیمانہ باتوں اور یادوں سے اب بھی ہم استفادہ کرتے ہیں۔ آج میں انہیں ملنے گیا تو انہوں نے کہا کہ کس طرح آج معاشرے میں شعور آنے کی وجہ سے جبر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ میرے نزدیک تو آج بھی ہمارے معاشرے میں شعور کی کمی ہے لیکن عمروں میں فرق کی وجہ سے شاید میں نے وہ ظلم اور جبر نہیں دیکھا جو پٹواری ممتاز صاحب کی نسل نے دیکھا۔
انہوں نے اپنے دعویٰ کے حق میں دلیل دیتے ہوئے ہمارے گاؤں کاایک واقع سنایا کہ ایک مقامی لیڈر نے ایک بڑی محفل میں حکم صادر کیا کہ آج کے بعد جو حقہ پئے گا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ لیڈر صاحب کی دہشت اتنی تھی کہ حکم عدولی کی کسی کو جرات نہ تھی۔ معاشرے کے اندر چونکہ چغل خور اور چاپلوس بھی ہوتے ہیں اس لیے مخبری بھی ہو جاتی ہے۔ اس طرح ایک مخبر نے خبر گرم کر دی کہ فلاں شخص نے حقہ پیا ہے۔ سادہ لوح لوگوں نے شور شرابہ شروع کر دیا کہ اس صاحب کا تو نکاح ٹوٹ گیا۔ اب بیوی اس کے گھر نہیں رہ سکتی۔
دیسی عدالت لگی ۔ سوال جواب ہوئے تو دنیاوی تعلیم سے محروم ملزم نے اس طرح کیس لڑا جس طرح کوئی تجربہ کار وکیل بھی نہیں لڑ سکتا۔ یعنی وہ بزرگ کوئی بحث مباحثہ کیے بغیر کارروائی سنتے رہے۔ اور آخر میں ایک جملہ بول کر کیس جیت گئے: ’میں نے حقہ نہیں تمباکو ہیا ہے‘۔
دوسرے لفظوں میں انہوں نے تمباکو حقے میں نہیں بلکہ کسی اور چیز میں ڈال کر پی لیا۔ نشہ بھی کر لیا اور حقے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ اسے کہتے ہیں حکمت اور حکمت والے تھوڑی قیمت پر بڑی جنگیں جیت جایا کرتے ہیں جبکہ حکمت سے محروم افراد اور اقوام نسل در نسل خون تو دیتے رہتے ہیں مگر منزل نہیں پاتے۔