سرسیدؒ احمد خان: خرد مندوں کا امام

متحدہ ہندوستان کے ذہین دانشور اور عظیم رہنما سرسید احمد خاں 17 اکتوبر 1817 کو دہلی میں پیدا ہوئے اور آپ کی وفات 27 مارچ 1898 کو ہوئی۔ آپ کا تعلق دہلی کی ایلیٹ مذہبی فیملی سے تھا جس کے اثرات آپ کی شخصیت پر جابجا دکھائی دیتے ہیں۔

 لیکن اس کے ساتھ ساتھ قدرت نے آپ کو عبقری ذہانت و فطانت بخشی تھی جسے مزید بڑھاوا دینے کے لئے مطالعہ و تحقیق سے بھی بڑھ کر حقائق کی تہہ تک چلے جانے کے لئے سخت محنت اور عرق ریزی کے اوصاف انہوں نے اپنی فطرت ثانیہ بنا لئے تھے۔ اس غیر معمولی ذہنی سطح کے ساتھ تحقیق و جہد کا میلان بھی شامل ہو جائے تو اچھوتے افکار کے ساتھ نت نئے شگوفے و ثمرات پھوٹنا فطری امر ہے۔ ہمارے علمی حلقوں میں افکار سید پر آج تک جو مباحث اختتام پذیر ہونے کا نام نہیں لے رہے تو اس کی بنیاد اسی عظمت پر استوار ہے۔ آپ کی ہمہ جہتی شخصیت ایسی متنوع ہے کہ جنوبی ایشیا میں مابعد جتنی بھی مذہبی، سیاسی، سماجی یا ادبی تحریکیں اٹھیں بالواسطہ یا بلاواسطہ فکر سرسید کی اثر افرینی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

مثال کے طور پر جن لوگوں نے دو قومی نظریے کا نعرہ لگایا جو بالآخر یونائیٹڈ انڈیا کی پارٹیشن کا باعث بنا، وہ اپنی اس سوچ کا فکری منبع سرسیدؒ کو قرار دیتے چلے آ رہے ہیں۔ بظاہر ان کا یہ دعویٰ غلط لگتا بھی نہیں ہے کیونکہ اردو ہندی تنازع سرسیدؒ کی زندگی میں شروع ہو گیا تھا جب انہوں نے انگریز کمشنر کے سامنے اپنی پریشانی ان الفاظ میں بیان کی تھی کہ ان نئے پڑھے ہوئے لوگوں کی وجہ سے اردو ہندی کا جو بلاجواز تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے، میری بوڑھی نگاہیں دیکھ رہی ہیں کہ آگے چل کر یہ خلفشار مزید بڑھ جائے گا۔ نتیجتاً دونوں فرقے مل کر دلجمعی کے ساتھ اکٹھے کام نہیں کر سکیں گے۔

ہمارے یہاں اس چیز کو اس انداز یا اسلوب میں بیان کیاجاتا ہے کہ گویا یہ سرسیدؒ کی خواہش یا آرزو تھی حالانکہ سرسید دکھی دل کے ساتھ یہ اظہار خیال فرما رہے تھے ۔ مستقبل کے حوالے سے یہ ان کی تشویش تھی اس کے علاوہ یو پی میں جداگانہ حق نیابت کی حمایت میں بھی بنیادی خوف مسلم ایلیٹ اور شرفا کی شکست کا احساس تھا کیونکہ وہ غریب غربا یا نچلی ذاتوں کو محض معاشی طور پر نہیں فکری طور پر بھی پسماندہ خیال کرتے تھے۔ وہ ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ نچلے طبقات ہمیشہ کے لئے پسماندہ رہیں لیکن ان کے اوپر اٹھنے تک یا ذہنی، شعوری اور تعلیمی بلندی تک وہ انہیں فیصلہ سازی میں شامل کرنے کے خلاف تھے۔

آج ہم اس اپروچ پر جتنی چاہے تنقید کر سکتے ہیں اور یقیناً کی جانی چاہیے مگر کیا کریں اس دور کی اشرافیہ میں اس نوع کا افتراق سختی سے موجود تھا۔ اس وجہ سے برٹش گورنمنٹ نے اپنے قوانین زمیندارہ و مزارعت میں کئی نوع کی ناروا قدغنیں لگا رکھی تھیں۔ خواتین کی تعلیم کے حوالے سے بھی اس دور کی اشرافیہ کچھ اس نوع کی تنگناؤں میں پھنسی ہوئی تھی مقام حیرت ہے سرسیدؒ تو رہے ایک طرف ان کی اگلی نسل کے مسلم دانشور علامہ اقبال بھی اس نوع کے امتیازات و تعصبات سے نہیں نکل سکے تھے۔

 

اس امر میں بھی اشتباہ نہیں کہ سرسیدؒ کے افکار میں وقت کے ساتھ جو ارتقا آیا ہے اس میں ان کا سفر تنگ نظری سے وسیع تر انسانی اپروچ کی طرف بڑھا۔ ایک وقت میں وہ خود بھی اور ان کے چاہنے والے بھی انہیں مولوی سید احمد بولا یا لکھا کرتے تھے، ثبوت میں ان کے کئی پمفلٹ اور کتابچے پیش کئے جا سکتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر کیا ہے کہ آئین اکبری کی شرح کرتے ہوئے انہوں نے اسے جس اہتمام سے شائع کروایا ماقبل اس کا مسودہ تقریظ یا دیباچہ لکھنے کیلئے عظیم استاد مرزا غالب کو بھجوایا اور اس پر مرزا صاحب نے جو عظیم الشان شاعری فرمائی مابعد یا آگے چل کر اس نے ایک نئے ماڈریٹ سرسیدؒ کی تشکیل فرمائی۔ وہ سرسید جس نے سیاست یا معاشرت تو رہی ایک طرف مذہبیت کی بھی ایک نئی ماڈریٹ اور سائنٹفک اپروچ کے شاہکار پیش فرمائے۔

بلاشبہ انہوں نے مسلمانوں کو ان ہنگامی حالات میں سیاست سے منع فرما دیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ پہلے تعلیم، پھر کچھ اور۔ کمزور طبقات جب تک تعلیم کے ذریعے سوسائٹی میں بہتر مقام حاصل نہیں کر لیتے تب تک انہیں دیگر ہنگاموں سے گریز کرنا چاہیے۔ سرسیدؒ ہندو مسلم تفریق، مخاصمت، تفاوت یا تقسیم کے قطعی قائل نہ تھے۔ ناجائز طور پر ان کی طرف یہ بہتان باندھا جاتا ہے۔ ان کی تعلیمی درسگاہ میں پڑھنے یا پڑھانے والوں پر اس نوع کی کوئی قدغن نہ تھی۔ ان کی تعلیمی فکر راجہ رام موہن کے اسلوب پر تھی۔ ایسے ہندو تعلیم یافتہ بھائیوں کی طویل فہرست پیش کی جا سکتی ہے جو علی گڑھ سے فارغ التحصیل ہوئے۔ وہ ساری زندگی ہندوستان کی تمثیل ایسی دلہن سے دیتے رہے جس کے تمام خدوخال خوبصورت ہوں۔ وہ فرماتے تھے کہ اگر اس دلہن کی ایک آنکھی بھینگی یا ٹیڑھی ہوں تو وہ کیسے خوبصورت کہلا سکے گی۔

اس تناظر میں وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو اپنی دو آنکھوں کی طرح دیکھتے اور ترقی و سربلندی کا راز ان کی باہمی دوستی ، یکجہتی اور ایک زاویہ نگاہ سے معاملات کو ملاحظہ کرتے ہوئے مل جل کر چلنے میں دیکھتے تھے۔ ان کی ذاتی زندگی میں جس طرح ان حوالوں سے کوئی امتیاز نہ تھا، اسی طرح وہ اپنی جدوجہد میں بھی ایسے امتیازی رویوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح اقبال و جناح ان کے مداح تھے ۔ اس طرح مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو اور مولانا ابولکلام آزاد جیسی شخصیات ان کی تعلیمی جدوجہد اور فکری عظمت کو سلام و سپاس پیش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر ہم ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ وہ برٹش قوم کی ترقی اور ان کے پیش کردہ جدید سائنفٹک علوم، قوانین اور تہذیبی ضوابط کے سب سے بڑھ کر مداح و خوشہ چیں تھے۔

اس حوالے سے انہوں نے کبھی منافقت سے کام نہیں لیا، صاف کہا کہ اگر ہم ہندوستانیوں نے اقوام عالم کے دوش بدوش چلنا ہے اور باوقار مقام بنانا ہے تو پھر ترقی یافتہ اقوام سے محاذ آرائی نہیں دوستی اور بھائی چارے کی فضا کو پروان چڑھانا ہو گا۔ ہمیں ان سے جدید سائنفٹک علوم سیکھنے میں اپنے جعلی تفاخر سے نکلنا ہو گا۔