پینڈورا پیپرز میں نامزد افراد کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

  • اتوار 17 / اکتوبر / 2021
  • 3850

سپریم کورٹ میں دائر کردہ ایک درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ان لوگوں کے معامالت کی تحقیقات کو حکم دیئا جائے جن کے نام پنڈورا پیپرز میں سامنے آئے ہیں۔

درخواست دہندہ کا کہنا ہے  کہ  اس بات کا تعین کیا جائے کہ کیا پینڈورا پیپرز اور پاناما پیپرز میں نامزد افراد نے آف شور کمپنیوں کو فنڈز کی منتقلی کے دوران کسی غلط کام کا ارتکاب کیا ہے۔ درخواست میں عدالت سے ایف بی آر کو یہ حکم دینے کی استدعا کی گئی کہ ایسے افراد کو دستاویزی شواہد کے ساتھ وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی جائے۔

درخواست میں کہا گیا کہ جو پاکستانی شہری اس قسم کے لین دین کا جواز پیش نہیں کر سکتے ان کے غیر ملکی اثاثوں کو ایف بی آر کی جانب سے 3 ماہ میں منجمد کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے کنوینشن اگینسٹ کرپشن کے مطابق چوری شدہ اثاثوں کی بازیابی کے لیے قانونی کارروائی شروع کی جائے۔

یہ درخواست ایڈووکیٹ حشمت حبیب نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل آف پاکستان (ٹی آئی پی) کے منیجنگ ڈائریکٹر سید عادل گیلانی کی جانب سے دائر کی۔ درخواست گزار نے یاد دلایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل ٹیکس ایمنسٹی اسکیم برائے غیر ملکی اثاثوں ایکٹ 2018 کو مسترد کردیا تھا۔

پٹیشن میں یاد دہانی کروائی گئی کہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر کے دعوے کے مطابق ایف بی آر نے 10 اگست 2018 کو ان 444 پاکستانیوں میں سے کم از کم 294 کو نوٹس جاری کیے جن کا نام پاناما پیپرز میں تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس حوالے سے کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔