مظفرگڑھ میں گھر میں آگ لگنے سے بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق

  • اتوار 17 / اکتوبر / 2021
  • 4560

مظفرگڑھ کے علاقے پیر جہانیاں میں ایک گھر میں آگ لگنے کے نتیجے میں 4 بچوں سمیت 7 افراد جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔ اس سلسلہ میں دو افراد کے خلاف مقدمہ  درج کر لیا گیا ہے۔

مظفرگڑھ کے تھانہ سول لائن میں پولیس نے مقتول کے بھائی محبوب کی مدعیت میں 2 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ایف آئی آر میں مدعی محبوب نے پولیس کو بیان دیا کہ اس نے پسند کی شادی فوزیہ بی بی سے کی تھی جس کی رنجش پر سسر اور سالے نے رات کو مکان کو آگ لگا دی جس سے 7 افراد جاں بحق ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ وہ مچھلی کے فارم کا کام کرتے ہیں اور 16 اکتوبر کو والد کے ہمراہ کاروباری امور کے سلسلے میں ملتان گئے تھے۔ رات ڈیڑھ بجے جب ان کی واپسی ہوئی تو ان کے گھر میں آگ لگی ہوئی تھی اور گھر میں سے چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ہم نے اس دوران ملزمان منظور حسین اور صابر حسین کو گھر کی پچھلی جانب سے دوڑتے ہوئے دیکھا اور ان کو شناخت کر لیا۔

محبوب نے تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا منظور حسین سے وٹے سٹے کا رشتہ تھا اور انہوں نے فوزیہ بی بی سے پسند سے شادی کی تھی جس کی وجہ سے ملزمان کو رنج تھا۔ ہمارا ان سے اکثر جھگڑا رہتا تھا اور اسی وجہ سے انہوں نے ہمارے گھر کو آگ لگائی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں فوزیہ بی بی اور ان کا چار ماہ کا بیٹا احمد علی، خورشید مائی، ان کے شوہر فاروق اور اس کے تین بیٹے شامل ہیں۔

پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے جبكہ لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے مظفر گڑھ میں آتشزدگی کے باعث قیمتیں انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کمشنر ڈیرہ غازی خان سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے مظفرگڑھ آتشزدگی کے واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جامع انکوائری کر کے واقعے کی وجوہات کا تعین کیا جائے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقيقات کی جا رہی ہیں اور بہت جلد حقائق منظر عام پر لے آئیں گے۔