بلوچستان یونیورسٹی کے قریب دھماکا، پولیس اہلکار شہید

  • سوموار 18 / اکتوبر / 2021
  • 4500

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر بلوچستان یونیورسٹی کے قریب دھماکے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید اور 17 زخمی ہو گئے۔

ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی کے گیٹ پر ڈیوٹی پر مامور پولیس ٹرک کو موٹر سائیکل میں نصب دھماکا خیز مواد سے نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید اور اہلکاروں سمیت زخمیوں کی تعداد 17 ہو گئی۔

ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ دھماکے کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکار یونیورسٹی کے سامنے احتجاج پر بیٹھے طلبا کی سیکیورٹی پر مامور تھے۔ حملہ آور طلبا کو نشانہ بنانا چاہتے تھے اور سیکیورٹی سخت ہونے کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ شرپسند طلبا کو نشانہ بناکر افراتفری پھیلانا چاہ رہے تھے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کوئٹہ میں سریاب روڑ پر ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان سے دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے دھماکے میں شہید پولیس اہلکار کے لواحقین سے اظہار ہمدردی اور زخمیوں کی صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو تمام وسائل اور معاونت فراہم کرے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں کو بلوچستان کا امن تباہ نہیں کرنے دیں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ 25 ستمبر کو بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے خوست میں فرنٹیئر کور کی گاڑی کے قریب بم دھماکے میں کم از کم 4 سیکیورٹی اہلکار شہید اور دو زخمی ہو گئے تھے۔