پاکستان افغان عوام کا نمائندہ بننے کی کوشش نہ کرے: حامد کرزئی

  • سوموار 18 / اکتوبر / 2021
  • 4410

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی موجودہ حکومت کو عالمی سطح پر قبولیت سے پہلے ملک میں قانونی حیثیت درکار ہو گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان عوام کی نمائندگی کی کوشش نہ کرے بلکہ عالمی اُصولوں کے تحت افغانستان کے ساتھ سول بنیادوں پر تعلقات رکھے۔ وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کو قانونی حیثیت صرف افغانستان کے عوام سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ اس مقصد کجے لئے انتخاب ہوں لویہ جرگے کے ذریعے ایسی تائد حاصل کی جائے گی۔ خیال رہے کہ افغانستان کے مختلف سیاسی، عسکری اور سماجی تنظیموں کے لگ بھگ تین ہزار اراکین پر مشتمل لویہ جرگہ کو افغانستان کے اہم فیصلوں اور تنازعات کے حل میں اہمیت حاصل رہی ہے۔

حامد کرزئی کے بقول افغانستان تاریخ کے ایک نازک موڑ پر ہے اور افغان عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ 'متحد' ہوں اور افغان عوام کی خواہش  کے مطابق حکومت بنائیں۔ سابق افغان صدر کا کہنا تھا کہ 'اس حکومت (طالبان) یا کسی اور حکومت کے لیے اپنے ملک میں قانونی حیثیت رکھنا عالمی برادری کی جانب سے تسلیم کیے جانے کی بنیاد ہوگی‘۔ ان کے بقول حکومتیں اپنے عوام کی مرضی سے قانونی حیثیت حاصل کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں قانونی حیثیت کیسے لائی جائے یہ یقیناً اس پر منحصر ہے کہ آیا انتخاب ہو یا افغانستان کے معاملے بالخصوص موجودہ صورتِ حال میں افغانستان کے عوام کی مرضی کا اظہار لویہ جرگہ یا آئین کے ذریعے کیا جائے۔

پاکستان سے متعلق سوال کے جواب میں حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان عوام کا نمائندہ نہیں ہے۔خیال رہے کہ اگست کے وسط میں طالبان کے افغانستان پر کنٹرول اور ملک کے صدر اشرف غنی کے جلا وطن ہونے کے بعد سے طالبان کو ابھی تک کسی ملک بشمول پاکستان نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت مختلف پاکستانی رہنما طالبان کی حمایت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دے رہے ہیں کہ وہ کابل میں نئی 'افغان حکومت' کے ساتھ کام کرے۔ البتہ حامد کرزئی کہتے ہیں کہ 'میرا برادر ملک پاکستان کو پیغام ہے کہ اسے افغانستان کی نمائندگی کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس کے برعکس اسے ہمارے ملک کے ساتھ سول تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔'

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے ساتھ ہمارے عوام کے گہرے تعلقات ہیں۔ ہماری پاکستان سے امید یہ ہے کہ وہ مداخلت، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے فروغ یا طاقت کے ذریعے ہمارے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کی کوشش نہ کرے بلکہ وہ شہری اصولوں اور بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کے ذریعے تعلقات قائم کرے۔ ہم اس طرح ان کے ساتھ بخوشی تعلقات رکھیں گے۔

حامد کرزئی نے دہشت گرد گروہ داعش کے افغانستان میں بڑھتے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا اور اسے افغانستان اور خطے کے لیے خطرہ قرار دیا۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ 'چاہے دو ہفتے قبل کابل کی مسجد میں ہوا دھماکہ ہو یا گزشتہ ہفتے قندوز میں ہونے والا دھماکہ یا پھر (15 اکتوبر) کو قندھار میں ہوا دھماکہ، یہ ثابت کرتا ہے کہ داعش افغانستان اور افغان عوام کی زندگی اور معاش کے لیے خطرہ ہے'۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ داعش کے خلاف لڑائی میں خطہ افغانستان کی مدد کرے گا کیوں کہ یہ ان کی سیکیورٹی کے لیے بھی خطرہ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ علاقائی طاقتیں افغانستان میں مشترکہ بنیاد تلاش کریں گی۔