ہمیں مل کر مہنگائی کا مقابلہ کرنا ہوگا: وفاقی وزیر اطلاعات
- سوموار 18 / اکتوبر / 2021
- 3430
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی دکان نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر مہنگائی کا مقابلہ کرنا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ گنے کی بہترین فصل آئی ہے تو ہمیں امید ہے کہ چینی کی قیمت میں کمی آئے گی۔ صرف سندھ میں آٹا مہنگا ہے جہاں حکومت گندم جاری نہیں کر رہی تھی اور اب آج سے گندم جاری کرنا شروع کیا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ سندھ میں بھی آٹے کی قیمت میں کمی آنا شروع ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہم لوگ الگ کسی سیارے میں نہیں رہ رہے ہیں۔ پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھیں تو پاکستان میں بھی بڑھے گی، جب کم ہوں گی تو پاکستان میں بھی کم ہوں گی، لوگ اس چیز کو سمجھتے ہیں۔ ہر وقت ایک سیاسی شعبدہ بازی میں لوگ لگے رہتے ہیں، ان کو لوگ مذاق کے طور پر لیتے ہیں۔ احسن اقبال یا شہباز شریف اور باقی دیگر لوگ متبادل حل لائیں کہ تیل کی قیمت یہاں چلی گئی ہے، ہم ہوتے تو یہ کرتے، اس پر بحث کرلیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اپوزیشن کی احتجاج کے لیے بہانہ تلاش کررہی ہے۔ پہلے انہوں نے سوچا کہ شاید فوج اور حکومت میں اختلاف ہوجائے تو دو دن سارے ہنستے مسکراتے رہیں، اب وہ مسکراہٹیں پھر ختم ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوئی جمہوری اخلاقیات نہیں ہیں اور کوئی جمہوریت پسند لوگ نہیں ہیں بلکہ صرف ڈیل کی تلاش میں ہیں۔ پتا چلتا ہے کہ فوج اور حکومت میں اختلاف ہوگیا ہے تو یہ سارے بینڈ ویگن میں چڑھنے کے لیے سی وی لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے دن جب پتا چلتا ہے کہ وہ ڈیل نہیں ہوسکی تو آپ پھر فوج کے خلاف تقریریں شروع کردیتے ہیں۔ بنیادی طور پر اس اپوزیشن کی نہ کوئی سیاسی سوچ ہے اور نہ ہی ان کی انتظامی اور نہ معاشی پالیسی ہے، صبح سے لے کر شام تک عمران خان کو برا کہنے سے آپ اقتدار میں نہیں آسکتے۔
اپوزیشن کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ آپ کی دکان نہیں چل رہی، آپ کی دکان پہلے بھی نہیں چلی اور آگے بھی نہیں چلے گی۔
مہنگائی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں اس وقت گھی پر سبسڈی ہے، گندم، بجلی پر سبسڈی ہے، پورے ملک کو سبسڈی پر نہیں چلایا جاسکتا۔ سبسڈی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے آتی ہے، ادھر عوام سے پیسے لیں گے اور ادھر بانٹ دیں گے تو اس طرح ملک نہیں چلتا۔
ملک چلانے کے لیے حکمت عملی بنانا ہوتی ہے، اس سال قرضوں کی مد میں 12 ارب ڈالر واپس کرنا ہے۔یہ جو احتجاج کر رہے ہیں ان سے پوچھیں کہ اگر آپ اتنے قرضے نہ لیتے تو سبسڈی دے سکتے تھے۔ پہلے 10 ارب ڈالر واپس کیے اور اب 12 ارب ڈالر واپس کرنے ہیں تو سبسڈی کہاں سے آئے گی۔
مہنگائی کی صورت حال کا ہمیں مل کر مقابلہ کرنا ہے۔ اسی لیے نجی شعبے کو چاہیے کہ اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں، میڈیا مالکان کو اپنے ورکرز کی تنخواہیں بڑھانی چاہئیں۔