طالبان، لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت دیں: ملالہ کی اپیل

  • منگل 19 / اکتوبر / 2021
  • 5520

نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے افغانستان کے نئے حکمران طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت دیں۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اگست میں افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے والے طالبان کو اقتدار میں آئے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن ابھی تک سیکنڈری اسکول کی طالبات کو کلاسوں میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ اس کے برعکس لڑکوں کے اسکول پر کوئی پابندی نہیں۔

طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اسلامی قوانین کے تحت سیکیورٹی اور لڑکیوں کی علیحدہ کلاسز کی جگہ یقینی بنانے کے بعد لڑکیوں کو اسکول میں واپس آنے کی اجازت دیں گے لیکن ماہرین کو خدشہ ہے کہ شاید ایسا نہ ہو سکے۔ ملالہ یوسف زئی اور افغان خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے متعدد کارکنوں نے اتوار کو شائع ایک کھلے خط میں کہا کہ طالبان لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندی کو فوری طور پر واپس لییں اور لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول دوبارہ کھولیں۔

ملالہ یوسفزئی یوسف زئی نے مسلمان ممالک کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان پر واضح کریں کہ مذہب لڑکیوں کو اسکول جانے سے روکنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد ہے۔

خط لکھنے والوں میں سابقہ امریکی حمایت یافتہ حکومت میں افغان انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ کے عہدے پر فائز شہرزاد اکبر کا نام بھی شامل ہے۔ خط میں جی 20 کے عالمی رہنماؤں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغان بچوں کے تعلیمی منصوبے کے لیے فوری فنڈنگ ​​فراہم کریں۔

عالمی سطح پر لڑکیوں کی تعلیم کے لئے سرگرم ملالہ یوسفزئی کو 2012 میں پاکستان کی وادی سوات میں اسکول بس میں تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے گولیوں کا نشانہ بنایا تھا۔ اب وہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کررہی ہیں اور ان کی تنطیم ملالہ فنڈ نے افغانستان میں 20لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔