کرپشن کا جھوٹا الزام لگانے پر ٹی وی چینل نے اسحٰق ڈار سے معافی مانگ لی
- منگل 19 / اکتوبر / 2021
- 3830
اے آر وائی برطانیہ کے نشریاتی ادارے 'نیو ویژن ٹی وی' نے سابق وفاقی وزیر خزانہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحٰق ڈار سے معافی مانگی ہے اور کہا کہ ان پر لگائے گئے کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات من گھڑت تھے۔
چینل کی جانب سے ہتک آمیز الزامات 8 جولائی 2019 اور 8 اگست 2019 کے دو نیوز شوز میں لگائے گئے تھے۔ دوسرے پروگرام پاور پلے میں وزیر اعظم کے مشیر احتساب شہزاد اکبر نے اسحٰق ڈار پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے اداروں کو نظام تک رسائی نہ دیتے ہوئے پاکستان میں مالیاتی مانیٹرنگ یونٹ کے کام میں رکاوٹ ڈالی تھی۔
انہوں نے الزام لگایا تھا کہ اسحٰق ڈار نے چوہدری شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس میں ملوث افراد کو بچانے کے لیے یہ اقدامات اٹھائے تھے۔ پیر کو شام 6 بجے 'اے آر وائی یو کے' پر نشر ہونے والے معافی سے متعلق بیان میں کہا گیا کہ ’ہم مانتے ہیں کہ اسحٰق ڈار نے مالیاتی یونٹ کے کام میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی، نہ ہی انہوں نے مبینہ چوہدری شوگر ملز سمیت کسی مقدمے میں کسی شخص کو بچایا’۔
چینل نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم اس نشریات کی وجہ شدید پریشانی و شرمندگی کا سامنا کرنے پر اسحٰق ڈار سے غیر مشروط معافی مانگتے ہیں’۔ ذرائع نے روزنامہ ڈان کو بتایا ہے کہ اسحٰق ڈار نے ہتک آمیز بیان پر جولائی 2020 میں چینل کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ نومبر 2020 میں برطانوی ہائی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا تھا۔
2 مارچ 2021 کو اے آر وائی یو کے نے 'برطانوی ڈیفیمیشن ایکٹ 1996' کے تحت معافی کی پیش کش کی جس کے مطابق بہتان لگانے والا معافی نامہ شائع کرنے اور ہرجانہ ادا کرنے کی تحریری پیشکش کر سکتا ہے۔ اس طرح کی پیشکش قبول ہونے پر ہتک عزت کی کارروائی ختم ہوجاتی ہے اور فریقین آپس میں معاملات طے کر لیتے ہیں۔
اپنے دعوے میں اسحٰق ڈار نے کہا تھا کہ اشاعت کے ذریعے ان پر جو الزامات لگائے گئے وہ ’بہت سنجیدہ اور ہتک آمیز تھے جس کے نتیجے میں دعویدار کو حقیقی مجرم قرار دیا گیا جس سے دعویدار کو سنگین نقصان پہنچا ہے۔ پابندی اور معذرت کے ساتھ اسحٰق ڈار نے قانونی اخراجات اور تقریباً 2 لاکھ پاؤنڈز ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا۔
چینل کی جانب سے الزامات واپس لیتے ہوئے اسحٰق ڈار کی پوزیشن کا اعتراف کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی تھے۔ اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت سے ثابت ہوتا ہے کہ کس طرح نواز شریف اور ان کی جماعت کے ساتھیوں کو سیاسی انجینئرنگ، جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی مہم کا نشانہ بنایا گیا۔