آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت
- بدھ 20 / اکتوبر / 2021
- 5910
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کہا ہے کہ 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر پاکستان سے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور آئی ایم ایف مشن مختلف تفصیلات کا جائزہ لے رہا ہے۔
واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے ریجنل ڈائریکٹر برائے مشرقی وسطی و ایشیائی ممالک جہاد ازعور نے صحافیوں کو بتایا کہ آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے مابین 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کے چھٹے جائزے پر بات چیت بہت اچھی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف مشن اور حکام فی الحال پروگرام کے چھٹے جائزے کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں اور پروگرام کے مختلف پہلوؤں اور ان اقدامات کے بارے میں گفتگو کی جاری ہے جن پر حکومتِ پاکستان فی الحال غور کر رہی ہے۔ بہت اچھی پیش رفت ہوئی ہے، حکام اور آئی ایم ایف مشن مختلف تفصیلات کو دیکھ رہے ہیں۔
اس سے قبل ایک میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ میکرو اکنامک فریم ورک پر اختلافات کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے۔ دوسری جانب وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیو شوکت ترین بھی نیویارک سے واشنگٹن واپس آگئے ہیں۔
اس حوالے سے شوکت ترین کے ترجمان مزمل اسلم نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری بات چیت میں شامل ہونے کے لیے مشیر خزانہ واشنگٹن واپس آئے ہیں۔ بے نتیجہ مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس بے بنیاد ہیں۔
رواں ہفتے کے آغاز میں نیویارک میں ایک بریفنگ کے دوران شوکت ترین نے زور دیا تھا کہ قوم، آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بحالی سے متعلق مذاکرات ناکام ہونے کے دعوؤں سے مایوس نہ ہوں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’مذاکرات جاری ہیں اور مثبت انداز میں جاری ہیں۔ کچھ لوگوں نے پاکستان میں یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ ہم ناکام ہوچکے ہیں اور مذاکرات ناکام رہے ہیں، یہ سراسر جھوٹ ہے’۔
شوکت ترین نے اس حوالے سے میڈیا رپورٹس کو ’گمراہ کن’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں ان دعوؤں سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ؤ
رواں ماہ 4 سے 15 اکتوبر کے دوران واشنگٹن میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 2019 میں منظور کیے گئے 6 ارب ڈالر کے توسیع شدہ قرض پروگرام کی ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کے لیے مذاکرات ہوئے تھے۔